عسکریت پسندی کی واضح شکست

مذاکراتی عمل کے جاری رہنے سے مایوسی کے سیاہ بادل چھٹ جائیں گے اورایک روشن نیا دن طلوع ہوگا ...


Editorial May 28, 2014
مذاکراتی عمل کے جاری رہنے سے مایوسی کے سیاہ بادل چھٹ جائیں گے اورایک روشن نیا دن طلوع ہوگا ذرائع فوٹو: فائل

پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے،اس کی مسلح افواج اورعوام دہشت گردی کے خلاف ایک طویل عرصے سے نبردآزما ہیں، پچاس ہزار افراد نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ثابت کیا ہے کہ وہ اس ملک کی نظریاتی اورجغرافیائی حدود کی حفاظت کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ کرنے والے نہیں ہیں۔ایک جانب حکومت سیاسی سطح پرطالبان سے مذاکرات کے ذریعے امن کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اورعسکری سطح پر فوج داخلی انتشارکا سبب بننے والی قوتوں کے خلاف برسرپیکار ہے دوسری جانب عسکریت پسند گروہ اور ان کے حمایتی سیاسی و مذہبی عناصر دہشتگردی کے خلاف جنگ کو معرکا حق وباطل بنا کر 'کنفیوژن' پھیلانے کے لیے ہر سطح پر سرگرم عمل رہے ہیں۔

اسی ضمن میں منگل کو پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ قوم نے دہشت گردوںکے گمراہ کن نظریے کو مستردکردیا ہے، اس محاذ پرعسکریت پسندوںکو واضح شکست اورہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انھوں نے شورش زدہ علاقوں میں جوانوں کے پیشہ ورانہ عزم کو سراہا اور قیام امن کی خاطر اپنی جانوںکا نذرانہ دینے والے فوجیوںکو خراج عقیدت پیش کیا۔آرمی چیف کا پیغام واضح دوٹوک،ابہام سے پاک اور قوم کی امنگوں کا ترجمان ہے ۔ پاک فوج ایک پروفیشنل ادارہ ہے جس کی حیثیت اور عسکری صلاحیتوں کو عالمی سطح پر بھی مانا جاتا ہے ، داخلی انتشار پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ شورش زدہ علاقوں میں عوام کی فلاح کے لیے صحت، تعلیم، پانی اور بجلی کے منصوبوں کو پایہ تکمیل پہنچانے میں فوج کے اہم کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

آرمی چیف نے حال ہی میں قائم کیڈٹ کالج اسپن کئی رغزئی کا بھی دورہ کیا اور وہاں اعلیٰ تعلیم کی فراہمی پرکالج انتظامیہ کی تعریف کی۔اس موقعے پرکیڈٹس سے دوران گفتگو ان کا کہنا تھا، فوج کے تعاون سے مکمل کیے گئے ان منصوبوں سے ایسے دوردرازعلاقوں سے نوجوانوںکی نئی پود تیارکرنے اور انھیں قومی دھارے میں شامل کرنے میں مدد ملے گی ۔دراصل دہشتگردوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے جہاد اور اسلام کا نام استعمال کیا اور خودکش بمباروں کی کھیپ تیار کی ۔ یہ پاک فوج کا کریڈٹ ہے کہ وہ لازوال قربانیوں کی داستان رقم کر کے دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے میں مصروف ہے ۔ سیاسی محاذ پر موجودہ حکومت نے طالبان سے مذاکرات کا عمل شروع کر رکھا ہے اور حکومت چاہتی ہے کہ طالبان آئین پاکستان کو تسلیم کرتے ہوئے ہتھیار پھینک کر امن و بات چیت کا راستہ اختیارکریں۔

گوکہ مذاکراتی عمل کچھ تعطل کا شکار ہے لیکن حکومت اب بھی پرامید ہے ، اسی حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کہتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل کے مثبت نتائج نکلے ہیں اور اسے جاری رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے جب کہ مذاکراتی عمل طالبان گروپوں میں آپس کی لڑائی کی وجہ سے رکا ہوا ہے ۔ اگر طالبان سے مذاکرات کی پالیسی میں کوئی تبدیلی کی گئی تو اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا ۔ وفاقی وزیر داخلہ کے بیان سے حکومت کا موقف نہ صرف واضح ہوتا ہے بلکہ اس عزم کا اظہار بھی ہوتا ہے کہ حکومت ہر صورت میں ملک میں امن وامان کی بحالی کے لیے مذاکرات کا عمل جاری رکھنا چاہتی ہے۔

شمالی وزیرستان میں پاک فوج دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے، تمام تر احتیاط کے باوجود سویلین افراد کا فضائی حملوں کی زد میں آجانا خارج از امکان نہیں، کیونکہ دہشت گرد عوامی مقامات کو ہی اپنی کمین گاہوں کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ پاکستانی عوام کے دل پاک فوج کے ساتھ دھڑکتے ہیں،مادر وطن کی خاطر ہزاروں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کے حوصلے آج بھی جوان ہیں۔بہرحال ایک مثبت خبر بھی اخبارات میں شایع ہوئی ہے جس کے مطابق طالبان رابطہ کارکمیٹی کا مذاکراتی عمل جاری رکھنے یا نہ رکھنے کے حوالے سے طالبان شوریٰ سے رابطہ ہوگیا ہے۔

رابطے میں طالبان قیادت نے رابطہ کار کمیٹی کو پیغام دیا ہے کہ حکومتی کمیٹی مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کے لیے جس روز بھی شمالی وزیرستان آنا چاہے ،آ جائے، اس مشاورتی عمل میں اتفاق رائے پایا گیا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کا ایک با مقصد عمل شروع کیا جانا چاہیے ،تاہم یہ مذاکراتی عمل سنجیدہ اور نتیجہ خیز ہو ۔ خبر کی جزئیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان نہ صرف مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں بلکہ اسے نتیجہ خیز بھی بنانا چاہتے ہیں دوسری جانب حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے مذاکراتی عمل کو ختم کرنے کی کسی پالیسی کا اب تک تعین نہیں کیا ہے،مختلف گروپس کی جانب سے سیکیورٹی فورسز پر کیے جانے والے حملوں کے جواب میں کارروائی کی گئی تھی ،اگر حملے نہیں ہوں گے تو پھر حکومتی پالیسی بھی مثبت اور پرامن رہے گی۔

بلاشبہ مذاکرات کے حوالے سے حکومت اور طالبان کا واضح موقف ان خدشات کو رد کرتا ہے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات ایک لاحاصل عمل ہے اور مسئلے کا حل صرف فوجی آپریشن ہے۔ دراصل کچھ لوگوں کا کاروبار افواہوں،خدشات اور ابہام پھیلانے سے چلتا ہے، چائے کی پیالی میں طوفان اٹھانے والوں کی کمی بھی نہیں ہے، لیکن مذاکراتی عمل کے جاری رہنے سے مایوسی کے سیاہ بادل چھٹ جائیں گے اورایک روشن نیا دن طلوع ہوگا،اب یہ ہماری حکومت اور سیاسی قیادت کے فہم وفراست اورتدبرکا امتحان ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے امن کے قیام میں حائل رکاوٹوں کو کیسے دورکرسکتے ہیں ۔مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوئے تو یقیناً ملک میں امن وخوشحالی و ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔