وزیراعظم نے لاہور ہائیکورٹ کے سامنے لڑکی کو اینٹیں مارکر قتل کرنے کا نوٹس لے لیا

وزیراعظم نے بہیمانہ قتل کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کرتے ہوئے شام تک رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے


ویب ڈیسک May 29, 2014
پسند کی شادی کرنے والی فرزانہ بی بی 27 مئی کو شوہر کے حق میں بیان دینے لاہورہائیکورٹ پہنچی تو اس کے بھائیوں نے اینٹوں کے وار کرکے قتل کردیا تھا۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم نواز شریف نے پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو لاہور ہائی کورٹ کے سامنے بھائیوں کی جانب سے اینٹیں مار کر قتل کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کےمطابق وزیراعظم نواز شریف نے پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو لاہور ہائی کورٹ کے سامنے قتل کرنے والے مجرموں کو فوری طور پر انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی اور کیس کی تحقیقات سے متعلق آج شام تک رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ اندوہناک جرم ناقابل برداشت ہے اور خاص طور پر پولیس کی موجودگی میں لڑکی کا بہیمانہ قتل کسی صورت قبول نہیں ہے۔

دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے واقعے کی رپورٹ طلب کرنے پر سیشن جج نے عدالت میں رپورٹ جمع کرادی جس میں کہا گیا ہے کہ ملزم غلام نبی نے پہلے فائرنگ کی جس کے بعد اس کے ہمراہ آنے والے رشتہ داروں نے فرزانہ بی بی کو اینٹیں مار کر قتل کردیا۔

ادھر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے آئی جی پولیس کو ہدایت کی ہے کہ خاتون کو قتل کرنے میں ملوث تمام ملزمان کو فوری گرفتار کرکے ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے اور اس گھناؤنے واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو قانون کے تحت سخت سزا دلائی جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کیس کی پیروی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے اس حوالے سے کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

واضح رہے کہ پسند کی شادی کرنے والی جڑانوالہ کی رہائشی 25 سالہ فرزانہ بی بی 27 مئی کو اپنے شوہر اقبال کے حق میں بیان دینے لاہور ہائی کورٹ پہنچی تھی کہ وہاں اس کے بھائیوں نے سر پر اینٹیں مار کر قتل کردیا تھا۔

مقبول خبریں