ڈرون حملے اور امریکا کا موقف

اوباما کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ڈرون حملوں سے مسائل بھی پیدا ہورہے ہیں ...


Editorial May 29, 2014
اوباما کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ڈرون حملوں سے مسائل بھی پیدا ہورہے ہیں۔ فوٹو: فائل

امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ جو ملک بھی دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو پناہ دیتا ہے وہ برخود غلط ہے اور وہ اپنا وجود قائم رکھنے میں ناکام ہو جائے گا۔ نیو یارک کی ویسٹ پوائنٹ ملٹری اکیڈمی میں پالیسی بیان جاری کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ ڈرون حملے صرف اسی صورت میں کیے جا رہے ہیں جہاں سے براہ راست خطر ے کا اندیشہ ابھرتا ہے تاہم اس سلسلے میں اپنی سی پوری کوشش اور احتیاط کی جاتی ہے کہ ان حملوں میں عام شہریوں کو کوئی گزند نہ پہنچے اور ''کولیٹرل ڈیمج'' سے کلی طور پر احتراز کیا جائے۔

صدر اوباما نے اعتراف کیا کہ ڈرون حملوں میں بے احتیاطی سے معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارے دشمنوں کی تعداد میں لامحالہ اضافہ ہو جاتا ہے، لہذا ہمیں اس اعتبار سے بالکل واضح ہونا چاہیے کہ ہم اپنے دشمنوں کی تعداد میں مزید اضافہ نہ کریں بلکہ مستقبل کی بین الاقوامی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے ہمیں اس پہلو کو مقدم رکھنا چاہیے تا کہ ہم بہتر انداز سے عالمی مسائل کو حل کر سکیں۔ واضح رہے امریکی ڈرون حملوں کی انچارج امریکا کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے ہے جس کے اہلکارکمپیوٹر رومز میں بیٹھ کر پریڈیٹر ڈرونز کے ذریعے ہلاکت خیز میزائل اپنے اہداف پر داغتے ہیں تاہم اوباما نے سی آئی اے کی کارکردگی کی ستائش بھی کی ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ہی اوباما کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا کی تزویراتی پالیسی بھی صاف شفاف ہونی چاہیے تا کہ اس پر خواہ مخواہ کے اعتراضات نہ کیے جاسکیں۔اوباما کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ڈرون حملوں سے مسائل بھی پیدا ہورہے ہیں۔ امریکا کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے دوٹوک پالیسی اختیار کرے اور اس سلسلے میں متاثرہ ممالک کے موقف کو زیادہ اہمیت دے۔