توانائی بحران کے حل کے لیے اہم قومی فیصلے

حکومت کو ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے تمام صوبوں کی مشاورت سے قومی پالیسی تشکیل دینا چاہیے ۔۔۔


Editorial May 30, 2014
حکومت کو ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے تمام صوبوں کی مشاورت سے قومی پالیسی تشکیل دینا چاہیے. فوٹو : فائل

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت جمعرات کو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں ملک میں توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے توانائی بچت بل اور انتظامی مجسٹریسی نظام بحال کرنے کے لیے ضابطہ فوجداری 1898ء میں ترمیم کی منظوری کے علاوہ صوبوں کی جانب سے بجلی کی رقم کی عدم ادائیگی پر یکم جولائی 2014ء سے اس کے واجبات کی وصولی کے لیے وزارت خزانہ کو صوبوں کے فنڈ سے کٹوتی کا اختیار دے دیا گیا۔

موجودہ حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد توانائی بحران کے حل کو اپنی اولین ترجیحات میں رکھا،اسے اس امر کا بخوبی ادراک تھا کہ توانائی کا بحران حل ہونے تک کمزور معاشی نظام کو بہتری کی جانب رواں دواں نہیں کیا جا سکتا لہٰذا حکومت نے توانائی کے بحران کو حل کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دیں۔ علاوہ ازیں وزیراعظم کی زیر صدارت جمعرات کو قومی اقتصادی کونسل کے ہونے والے اجلاس میں بھاشا ڈیم سمیت توانائی کے متعدد منصوبوں کی منظوری کے علاوہ کراچی کوسٹل پاور پراجیکٹ' داسو ہائیڈرو پراجیکٹ' کرم تنگی ڈیم' چیچو کی ملیاں پاور پراجیکٹ اور دیگر پروجیکٹ کے لیے مختص کی گئی رقوم کی منظوری دی گئی۔

بھاشا ڈیم سے چار ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی اور اس ڈیم کی تکمیل میں آٹھ دس سال لگیں گے۔ دریں اثنا وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جمعہ کو ساہیوال میں 1320 میگاواٹ کے کول پاور پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھا، یہ منصوبہ نومبر 2016ء تک مکمل ہو گا، پہلے مرحلے میں 660 میگاواٹ کے دو پلانٹ لگائے جائیں گے۔ حکومت جس سرعت سے بجلی کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے اس سے یہ امید پیدا کی جا سکتی ہے کہ آیندہ چند برسوں میں ملک بھر سے بجلی کا بحران ختم ہو جائے گا اور صنعتی' تجارتی' زرعی سمیت زندگی کے دیگر شعبوں میں بہتری آ جائے گی۔

اگر ماضی کی حکومتیں بھی اسی انداز میں دوڑ دھوپ کرتیں تو اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ آج ملک میں بجلی کا بحران جنم نہ لیتا اور صورتحال بہتر ہوتی۔ توانائی کے مجموعی نظام میں بہت سی خامیاں موجود ہیں جب تک ان کو دور نہیں کیا جاتا توانائی کا نظام بہتر نہیں ہو سکتا۔ ایک اہم مسئلہ صوبوں کی جانب سے بجلی کے واجبات کی وصولی نہ کرنا ہے۔ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے صوبوں کے بجلی واجبات کی وفاقی سطح پر کٹوتی کا فارمولا دو ماہ کے لیے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فارمولا ابتدائی طور پر یکم جولائی سے 31 اگست تک نافذ کیا جائے گا۔ اگر صوبے اپنے بجلی کے واجبات بروقت ادا کرتے رہیں تو وفاقی حکومت کو توانائی کے پیداواری منصوبے تشکیل دینے میں رقم کی کمی کا مسئلہ درپیش نہیں ہوگا ۔

بجلی کے نظام میں دوسری خامی اس کی چوری کا مناسب انسداد نہ ہونا ہے۔عوامی حلقوں کے مطابق بجلی چوری میں بااثر افراد کے علاوہ بعض صنعتکار بھی ملوث ہیں۔ ان کے اس جرم کی سزا معاشرے کے دیگر افراد کو بھگتنا پڑ رہی ہے۔ حکومت کو توانائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بجلی کے واجبات کی وصولی' لائن لاسز میں کمی اور بجلی چوری کے عمل کو روکنا ہو گا۔ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں ملک میں نئی مردم شماری کرانے کا معاملہ اگلے اجلاس تک موخر کر دیا گیا۔ ملک کے معاشی نظام کو درست انداز میں چلانے کے لیے مردم شماری کا کرانا انتہائی ناگزیر ہے۔ مردم شماری سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ کس علاقے میں کتنی آبادی اور ان کے مسائل کے حل کے لیے کتنی رقوم کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں صوبوں کی درخواست پر مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے ایگزیکٹو مجسٹریسی نظام بحال کرنے کی بھی منظوری دی گئی، اس نظام کی بحالی کے لیے صوبے 15 دن میں قانون سازی کے لیے ایک مسودہ وزارت قانون و انصاف کو بھجوائیں گے۔

مجسٹریسی نظام سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں ختم کیا گیا تھا۔ انتظامی مجسٹریسی نظام کی بحالی کا مقصد ملک بھر میں انتظامی امور کو بہتر بنانا' روز مرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں اور ان کی کوالٹی پر نظر رکھنا ہے۔ مجسٹریسی نظام کی عدم موجودگی کے باعث روز مرہ اشیا کی قیمتوں پر کنٹرول ختم ہو چکا تھا جس کے باعث مہنگائی میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا۔ اب حکومت نے اس نظام کو بحال کرنے کا صائب فیصلہ کیا ہے۔مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں خیبر پختونخوا کی جانب سے پانی کی تقسیم کے معاملات میں اعتراض کے بعد ارسا ایکٹ میں ترمیم کی تجویز پیش کی گئی جس کی سندھ اور پنجاب نے بھرپور مخالفت کی۔ صوبوں کے درمیان پانی کے تنازعات بدستور موجود ہیں' پانی کی درست تقسیم کے لیے ان تنازعات کا حل ہونا اشد ضروری ہے۔

ماہرین بار بار انتباہ کر رہے ہیں کہ آیندہ آنے والے برسوں میں پانی کا بحران شدت اختیار کر جائے گا لہٰذا حکومت کو اس مسئلے کے حل کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ وفاقی حکومت کو ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے تمام صوبوں کی مشاورت سے قومی پالیسی تشکیل دینا چاہیے تاکہ صوبوں کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کو باہمی اتفاق رائے سے حل کر لیا جائے۔ توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے حکومت کی کوششیں دیکھ کر یہ اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ ملک سے اندھیرے جلد چھٹ جائیں گے اور پاکستان کا مستقبل روشن ہو گا۔