فٹبال ورلڈ کپ 2022 کی میزبانی قطر کو دینے کے فیصلے میں بدعنوانی کے مزید انکشافات

محمد بن حمام نے قطر کے حق میں فیصلہ دینے کے بدلے فیفا کے اہلکاروں کو 50 لاکھ ڈالر کی رشوت بھی دی، برطانوی اخبار


ویب ڈیسک June 01, 2014
محمد بن حمام نے فٹبال ورلڈ کی میزبانی کے حقوق قطر کو دلوانے کے لئے ایک سال قبل ہی کوششیں شروع کر دیں تھیں، سنڈے ٹائمز۔ فوٹو: فائل

BADIN: فٹبال ورلڈ کپ 2022 کی میزبانی قطر کو دیئے جانے کے عالمی فٹبال فیڈریشن فیفا کے فیصلے میں بدعنوانی کے نئے الزامات کا انکشاف ہوا ہے۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے فیفا کی جانب سے قطر کو ورلڈ کپ 2022 کی میزبانی کے حوالے سے لاکھوں خفیہ دستاویزات، ای میلز، خطوط اور بینک میں رقوم منتقل کرنے کے شواہد ملے ہیں۔ ان خفیہ دستاویزات کے ذریعے انکشاف ہوا ہے کہ محمد بن حمام نے فٹبال ورلڈ کی میزبانی کے حقوق قطر کو دلوانے کے لئے ایک سال قبل ہی کوششیں شروع کر دیں تھیں، انھوں نے قطر کے حق میں فیصلہ دینے کے بدلے فیفا کے اہلکاروں کو 50 لاکھ ڈالر کی رشوت بھی دی جب کہ افریقہ میں فٹبال کے اہلکاروں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے انھیں براہ راست رقم بھی منتقل کی۔

برطانوی اخبار کے مطابق افریقہ کے جن اہلکاروں کو رقم منتقل کی گئی اگرچہ ان میں سے زیادہ تر کو ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں تھا لیکن محمد بن حمام کی حکمت عملی تھی کہ اتنی حمایت حاصل کر لی جائے جس سے فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی میں افریقہ کے 4 ارکان پر قطر کے حق میں فیصلہ دینے پر دباؤ بڑھے۔

واضح رہے کہ فیفا نے 2011 میں محمد بن حمام پر رشوت کے الزام میں تاحیات پابندی لگا دی تھی جسے کھیلوں کی ثالثی کورٹ نے ایک سال بعد کمزور شواہد بنیاد پر منسوخ کر دیا تھا جب کہ محمد بن حمام بھی ایسے تمام الزامات کی سختی سے تردید کر چکے ہیں۔ دوسری جانب قطر کا موقف ہے محمد بن حمام کا قطر کو ورلڈ کپ کی میزبانی کے حوالے سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی عہدہ نہیں تھا۔

مقبول خبریں