جمہوریت کو بلا رکاوٹ چلنے دیا جائے

حکومت کو آئے ابھی ایک سال مکمل ہوا ہے کہ بعض اپوزیشن سیاسی جماعتوں نے حکومت کی تبدیلی کے لیے تحریک چلانے


Editorial June 01, 2014
احتجاج کرنے والے حکومت کے راستے میں روڑے اٹکانے کے بجائے اس کا ہاتھ بٹائیں، نواز شریف فوٹو: اے پی پی/فائل

حکومت کو آئے ابھی ایک سال مکمل ہوا ہے کہ بعض اپوزیشن سیاسی جماعتوں نے حکومت کی تبدیلی کے لیے تحریک چلانے کا نعرہ لگاتے ہوئے اتحاد بنانے شروع کر دیے ہیں۔ ان جماعتوں نے تحریک چلانے کے لیے اپنے منشور کا بھی اعلان کر دیا ہے جب کہ حکمران ان جماعتوں سے یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ وہ بتائیں کہ وہ کس چیز کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں' آخر انھوں نے ایسا کونسا غلط اقدام کیا ہے کہ ان کی حکومت کے خلاف اتحاد بنائے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنی ایک سالہ حکومتی کارکردگی اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کی فہرست پیش کرتے ہوئے احتجاج کرنے والوں کو دعوت دی کہ وہ حکومت کے راستے میں روڑے اٹکانے کے بجائے اس کا ہاتھ بٹائیں' انھوں نے اپیل کی کہ خدا کے واسطے پاکستان کو چلنے دیں' گزشتہ 65 سال سے یہی کچھ ہو رہا ہے' آج بھی یہی کچھ کرنا ہے تو پھر کس پاکستان کی ترقی کی بات کی جا رہی ہے۔ حکومت کے سوالات اور اپیلیں اپنی جگہ مگر احتجاج کرنے والی سیاسی جماعتیں متحد ہو کر حکومت کے خلاف میدان عمل میں اترنے کے لیے پرتول رہی ہیں۔

لندن میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ق) اور عوامی تحریک نے اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی سمیت دس نکاتی ایجنڈے پر اتفاق کرتے ہوئے حکومت کی تبدیلی کے لیے تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تحریک چلانے کا اعلان کرنے والی ان جماعتوں کا موقف ہے کہ موجودہ حکومت غیر آئینی الیکشن کمیشن کے تحت قیام میں آئی اور فرسودہ کرپٹ انتخابی نظام عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان جماعتوں سے نمٹنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ہفتہ کو نندی پور پاور پراجیکٹ کی پہلی ٹربائن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنے مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کا مقصد اور ایجنڈا سمجھ میں نہیں آ رہا' کوئی کینیڈا سے اعلان کر رہا ہے' لندن میں اجلاس ہو رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی حکومت کے کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان دوبارہ تعمیر ہو رہا ہے' ملک کو درپیش چیلنجز سے نکال کر ہی دم لیں گے' نندی پور پاور پلانٹ کا منصوبہ توقعات سے پہلے مکمل ہورہا ہے اور اس سے 95 میگاواٹ بجلی کی پیداوار شروع ہو گئی ہے' تھوڑے عرصے بعد نیلم جہلم پاور پلانٹ کا بھی افتتاح کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ چار روز پہلے ہم نے بھاشا ڈیم کے لیے زمین خریدنے کے لیے 40 ارب روپے دیے ہیں' داسو ڈیم کا بھی فیصلہ کر لیا ہے' دونوں منصوبوں سے 9ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی' بہت جلد کراچی سے لاہور موٹروے کا سنگ بنیاد رکھیں گے' موٹروے کے لیے 55 ارب روپے زمین کی خریداری کے لیے دے دیے ہیں۔ دریں اثناء اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہبازشریف نے کہا کہ نندی پور پاور پراجیکٹ کی پہلی ٹربائن سے سات ماہ کی ریکارڈ مدت میں بجلی کی پیداوار کا آغاز عزم و ہمت کی سنہری داستان ہے، قومی اہمیت کے اس اہم منصوبے کو قبر سے نکال کر دوبارہ زندہ کیا گیا۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ حکومت کو درپیش چیلنجز ورثہ میں ملے ہیں اور ان کے پیدا کرنے میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں۔ مگر موجودہ حکومت نے ان چیلنجز سے راہ فراراختیار کرنے کے بجائے ان کے مقابلے کے لیے کمر کس لی اور ان مسائل کو حل کرنے کے لیے بھرپور دوڑ دھوپ کر رہی ہے۔ موجودہ حکومت کو آئے ابھی ایک سال کا عرصہ ہوا ہے اور کوئی بھی حکومت ایک سال میں ملک میں انقلاب نہیں لا سکتی اور نہ درپیش چیلنجز کو چٹکی بجاتے حل کرسکتی ہے' ان مسائل کو حل کرنے میں ایک عرصہ درکار ہوتا ہے۔

اگر حکومت کو آئے تین چار سال کا عرصہ گزر گیا ہوتا اور وہ موجودہ مسائل حل کرنے میں قطعی ناکام ہو جاتی تو پھر مخالف سیاسی جماعتوں کا حکومت مخالف تحریک چلانا سمجھ میں آتا مگر ایک ہی سال بعد حکومت کے خلاف تحریک چلانا چہ معنی دارد۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف بھی احتجاج کرنے والوں سے یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ انھیں حکومتی کارکردگی نظر کیوں نہیں آتی۔ جمہوریت میں حکومت کے خلاف تحریک چلانا اور ملک کی بہتری کے لیے اقتدار کا حصول ہر سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے لیکن یہ تحریک اس وقت چلانی چاہیے جب حکومت کی کارکردگی انتہائی ناقص ہو اور وہ عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو جائے۔

موجودہ حکومت کو بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ ملکی مسائل بہت زیادہ ہیں انھیں حل کرنے کے لیے اسے روایتی اقدامات سے ہٹ کر انقلابی راستے کا چنائو کرنا ہو گا لہٰذا وہ ترقیاتی منصوبوں پر بڑی سرعت سے کام کر رہی ہے۔ توانائی کا بحران ملکی خوشحالی اور معاشی ترقی کے لیے چیلنج بن چکا ہے۔ جب تک اس بحران پر قابو نہیں پایا جاتا نہ تو صنعتی انقلاب لایا جاسکتا ہے اور نہ زرعی خوشحالی۔اس تلخ حقیقت کے پیش نظر حکومت نے توانائی بحران کے حل کو اپنی اولین ترجیحات میں رکھا ہے اور بڑے پیمانے پر توانائی کے پیداواری منصوبے تشکیل دیے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جمعہ کو ساہیوال میں 1320 میگاواٹ کے کول پاور پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھا' ہفتہ کو نندی پور پاور پراجیکٹ کی پہلی ٹربائن کا افتتاح کر دیا گیا، بھاشا ڈیم کے لیے زمین خریدنے کے لیے 40 ارب روپے دے دیے گئے ہیں۔ بجلی کے نظام کو چلانے کے لیے خطیر سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے' بجلی کے واجبات کی عدم ادائیگی بھی اس نظام کی بہتری میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ حکومت نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے صوبوں کی جانب سے بجلی کی رقم کی عدم ادائیگی پر یکم جولائی 2014ء سے اس کے واجبات کی وصولی کے لیے وزارت خزانہ کو صوبوں کے فنڈز سے کٹوتی کا اختیار دے دیا ہے۔

حکومت کو بجلی چوری روکنے کے لیے بھی مناسب اقدامات کرنا ہوں گے۔ صوبوں کے درمیان پانی کے تنازعات حل کرنے کی جانب بھی توجہ دینا ہو گی۔ وہ سیاسی جماعتیں جو حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کر رہی ہیں' انھیں جلد بازی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے حکومت کو ابھی کام کرنے کا موقع دینا،اچھے کام میں اس کا ہاتھ بٹانا اور درست راستے کی جانب رہنمائی کرنا چاہیے۔ اگر حکومت کی راہ میں یونہی روڑے اٹکائے جاتے اور اس کے لیے مسائل پیدا کیے جاتے رہے تو حکومت کے لیے عوامی فلاحی منصوبے شروع کرنا ایک مشکل امر ہو گا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بالکل صائب کہا کہ 65 سال یہی کچھ ہوتا رہا،خدا کے واسطے پاکستان کو چلنے دیا جائے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ ان تلخیوں سے بھری پڑی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کا دایاں بازو بننے کے بجائے ہمیشہ اس کی راہ میں مشکلات پیدا کیں۔جمہوریت ایک عرصے بعد پٹڑی پر چڑھی ہے اسے ڈی ریل کرنے کی کوشش نہیں کی جانی چاہیے۔موجودہ حکومت کو پانچ سال مکمل کرنے کا آئینی حق ملنا چاہیے۔ اقتدار حاصل کرنے کا سب سے بہترین طریقہ انتخابات ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کو حکومت گرانے کے بجائے انتخابات کا آئینی راستہ اپنانا چاہیے کیونکہ ووٹ کی طاقت اور عوامی حمایت سے برسراقتدار آنے والی جماعت ہی ملکی ترقی میں اپنا کردار بااحسن ادا کر سکتی ہے' کمزور اور دوسروں کے سہارے پر چلنے والی حکومتیں اپنا وقار جلد ہی کھو دیتی ہیں۔