متوازن بجٹ ریلیف کی نوید ہو

بجٹ میں تعلیم کے لیے 64 ارب روپے اور اخراجات کا بڑا حصہ147 ارب49 کروڑ30لاکھ روپے اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص کئے گئے


Editorial June 04, 2014
بجٹ میں تعلیم کے لیے 64 ارب روپے اور اخراجات کا بڑا حصہ147 ارب49 کروڑ30لاکھ روپے اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص کئے گئے فوٹو: آن لائن

آیندہ مالی سال 2014-15 کا 39کھرب 45 ارب روپے حجم اور 1711ارب روپے خسارے کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا ہے۔ مختلف اشیا پر 231 ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کیے گئے ہیں۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں10فیصد عبوری اور پنشن میں10 فیصد، گریڈ ایک تا15کے ملازمین کے میڈیکل الائونس میں10اور کنوینس الاؤنس میں5فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ مزدور کی کم سے کم اجرت 10ہزار سے بڑھا کر12ہزار روپے اور کم سے کم پنشن 5ہزار روپے سے بڑھا کر 6ہزار روپے کردی گئی ہے۔ انکم سپورٹ لیوی کاخاتمہ کردیا گیا ہے۔

سیلز ٹیکس کی 17فیصد اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی موجودہ شرح برقرار رکھی گئی ہے۔گردشی قرضوں کی ادائیگی کے لیے کوئی رقم نہیں رکھی گئی جب کہ بجلی پر سبسڈی 226 ارب روپے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے 525 ارب ، پنشن کی ادائیگی کے لیے215 ارب، گورنمنٹ سروس ڈیلیوری کے لیے 285 ارب رکھے گئے ہیں۔ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 2810 ارب روپے جب کہ نان ٹیکس ریونیو کا تخمینہ 817ارب روپے لگایا گیا ہے۔ صوبوں کو قومی مالیاتی ایوارڈ کے تحت 1720ارب روپے ملیں گے جو22فیصد اضافہ ہے۔

منگل کو قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران معاشی میدان میں حکومت نے مثبت نتائج حاصل کیے ہیں جو گزرے ہوئے چھ سات برسوں کے دوران کبھی حاصل نہیں ہوئے ۔ یورو بانڈ کو انھوں نے عالمی سطح پر پاکستانی معیشت پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر قراردیتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے ۔ حکومت نے 500 ملین ڈالر کا ہدف مقرر کیا تاہم سرمایہ کاروں نے ہمیں 17 ارب ڈالر سے زائد کی پیشکشیں کیں جو اصل رقم سے 14 گنا زائد ہیں ۔

حکومتی ارکان نے وفاقی بجٹ 2014-15 کو متوازن جب کہ اپوزیشن ارکان نے بجٹ کو مایوس کن اور اونٹ کے منہ میں زیرہ قرار دیا ہے ۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا بجٹ الفاظ کا ہیر پھیر ہے۔ مہنگائی کے خاتمے کے لیے کوئی پلان نہیں دیا گیا ۔ تاہم ملک کی تاجر وصنعتکار برادری نے بجٹ کو متوازن اور بظاہر بزنس فرینڈلی سے تعبیر کرتے ہوئے اس امر پر اطمینان ظاہر کیا کہ ان کی تجاویز بجٹ سفارشات و تجاویز کا حصہ بنا دی گئیں ،البتہ نجکاری کے حوالہ سے ٹوکیو کے احباب پاکستان کانفرنس سے وصولیوں کے غلط تخمینوں کے بارے میں شایع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق حکومت نے نجکاری سے 97 ارب روپے آمدنی کا جو تخمینہ لگایا تھا وہ درست ثابت نہیں ہوا، جب کہ اگلے سال کے لیے198 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

مزید برآں کیری لوگر بل کے تحت 15.95 ارب گرانٹ کی توقع عبث نہیں ہوگی ۔ بلاشبہ بجٹ اعداد و شمار کو روایتاً ہر دور حکومت میں ایک مالیاتی، اقتصادی اور معاشی گورکھ دھندا بتایا گیا ہے کیونکہ اب تک جتنے بھی بجٹ پیش کیے گئے ان کی نتیجہ خیزی سے عوامی زندگی میں خوش گوار تبدیلی کے آثار تو درکنار ان کو دو وقت کی روٹی ، روزگار، رہائش کی فراہمی اور مہنگائی و بدحالی سے بھی نجات کا ذریعہ نہ بن سکی ۔ چنانچہ بجٹ آتے رہے اور امیر سے لوگ امیر تر، غریب اور بھی غریب ترہوتے گئے ۔

اس میزانیہ میں مختص رقوم سے غربت، مہنگائی، بیروزگاری، بدامنی اور جرائم کے جہنم زار سے متعلق سماجی و معاشی اقدامات نتیجہ خیز ہوئے تو تبدیلی سب کو نظر آجائیگی وگرنہ ایک بجٹ اور سہی... !جہاں تک اپوزیشن کی طرف سے قومی میزانیہ پرعدم اطمینان کے اظہار کا معاملہ ہے وہ بھی در اصل اس عوام دوستی اور اپنے حلقہ انتخاب سے ہمدردی کے نکتہ نظر سے جڑی ہوئی جذباتی مجبوری ہے جس کا مقصد عوام کو بجٹ کے حقیقی ثمرات سے بہرمند ہوتے دیکھنے کی تمنا کو جواں رکھنا ہے ، چنانچہ بادی النظر میں مالی سال 2014-15 کے پیش نظر اور زیر بحث بجٹ تجاویز حقیقت پسندانہ حد تک ایک معتدل میزانیہ اور عوام کو ریلیف مہیا کرنے کی کمٹمنٹ کی مظہر کہی جاسکتی ہیں۔

بجٹ میں تعلیم کے لیے 64 ارب روپے اور اخراجات کا بڑا حصہ147 ارب49 کروڑ30لاکھ روپے اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ صحت کے لیے27 ارب روپے مختص کیے گئے۔ توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کی ترجیحات بجٹ میں رکھی رقم سے ہویدا ہیں اور اس مد میں 205 ارب روپے رکھے گئے ۔ اسی طرح دفاع وطن کے لیے بجٹ میں 11 فیصد اضافہ کرتے ہوئے 7 کھرب14کروڑ80 لاکھ روپے مختص کیے گئے ، ترقیاتی پروگرام کے لیے 1175 ارب روپے مختص ہیں جس میں 25 5ارب وفاق جب کہ صوبوں کے لیے650 ارب روپے تجویز کیے گئے۔بچت اسکیموں سے11 کھرب 29 ارب 67 کروڑ 10 لاکھ روپے حاصل کرنے کا ہدف مقرر ہوا ہے۔

وزیر خزانہ کا یہ اعتراف بھی قابل غور ہے کہ ٹیکس وصولی کی کارکردگی بد ترین رہی ۔اب حکومت ہی کا یہ چیلنجنگ ٹاسک ہے کہ وہ نئے میزانیے کے دوران ان اہداف کو حاصل کرنے پر ایف بی آر کوکمر کس لینے کی تلقین کرے ۔ ملکی سماجی اور معاشی صورتحال کے پیش نظر بجٹ سازی کے تحت بعض تجاویز نظر ثانی کی محتاج ہیں ۔ مثلاً پرچون فروش جو 20ہزار بجلی کا بل دیتے ہیں ان پر5فیصد اور اس سے اوپر ادا کرنے والوں پر7فی صد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے جو محل نظر ہے، کیونکہ ملک بھر میں کاروبار ٹھپ ہونے کے بعد لوڈ شیڈنگ کے ستائے ہوئے دکانداروں کے مسائل بھی سنے جانے کے قابل ہیں ۔ جن کمرشل پلازوں ، رہائشی علاقوں ، بازاروں اور صنعتی اداروں میں بجلی و گیس چوری عروج پر ہے ان پر ہاتھ ڈالنا ضروری ہے۔

اسی طرح1800 سی سی سے زائد گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز دلچسپ ہے۔ ملک بھر میں شہریوں کی ایک بڑی تعداد سیکنڈ ہینڈ کار ، موٹرسائیکل اور اسکوٹر قسطوں پر حاصل کرتی نظر آتی ہے ۔ متوسط طبقہ کمزور نہیں ہونا چاہیے ۔ اسے کم ہارس پاور گاڑیوں کی خریداری میں رعایت ملنی چاہیے ۔ وی آئی پی کلچر کیا کم عذاب ہے کہ اب ملک پر بی ایم ڈبلیواور پجیرو کلچر مسلط کردیا جائے ۔تاہم متعدد حکومتی تجاویز نتائج سے منسلک ہونگی مثال کے طور پر گلگت بلتستان سے پھولوں اور پھلوں کی فضائی نقل حمل کے لیے50فیصد سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے اخراجات میں44 لاکھ روپے کی کمی کردی گئی۔

وفاقی کابینہ کے اخراجات میں4کروڑ56 لاکھ جب کہ کابینہ ڈویژن کے اخراجات میں 10کروڑ81 لاکھ کمی کی گئی ہے جو خوش آیند اور حکومت کی عوام دوستی کا ثبوت ہے۔ بینکوں سے228 ارب کے قرضے حاصل کیے جائیں گے ۔ تمباکو پر 25 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جس سے سگریٹ اور سگار مہنگے ہوگئے ہیں۔ گیس ڈویلپمنٹ سرچارج میں اضافہ کردیا گیا ہے جس سے57 ارب روپے کی اضافی آمدن ہوگی ۔ سرچارج میں اضافے کا اطلاق سی این جی، کھاد اور صنعتی شعبے، بجلی پلانٹس اور سیمنٹ فیکٹریوں پر بھی ہوگا۔ گیس ڈویلپمنٹ سرچارج میں اضافے سے بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔

بجٹ تجاویز میں پنکھے، لیپ ٹاپ اور فریزر بھی مہنگے کردیے گئے ہیں ۔ مویشیوں کی درآمد پر ایک فیصدکسٹم ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ ہر قسم کے درآمدی پھلوں پر بھی درآمدی ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے۔ کریم، لوشن، پرفیوم، ٹیلکم پائوڈر پر ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ ڈیجیٹل قرآن پاک کی درآمدی ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے۔ سی این جی کی فروخت پر17فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ بجلی پیدا کرنیوالے آلات کی درآمد پر چھوٹ دے دی گئی جو درست سمت میں اہم قدم ہے۔

وفاقی حکومت نے بجٹ میں کم آمدنی والوں کو بجٹ میں اپنا گھر بنانے کے لیے10لاکھ روپے کا قرضہ دینے کی تجویز دی ہے جس میں40فیصد رقم کی ضمانت حکومت دے گی۔ 25 ہزار خاندانوں کو20 ارب روپے کے قرضے ملیں گے ۔ نوجوانوں کی اسکیم کے لیے21ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔ غریبوں کے لیے لائق تحسین وزیراعظم ہیلتھ انشورنس اسکیم کا بھی اعلان کیاگیا ہے۔ اس مد میں حکومت رواں سال ایک ارب روپے خرچ کرے گی ۔ صوبائی حکومتوں نے رواں سال اگر پرائمری اور ثانوی سطح پر شہریوں کو اگر ہیلتھ انشورنس فراہم کی تو اس منصوبے پر مزید رقم خرچ کی جائے گی۔

5 سال میں ایک لاکھ 20 ہزار مرد اور عورتوں کو ٹیکسٹائل کی تربیت دی جائے گی۔3ماہ کے ٹیکسٹائل تربیتی پروگرام کے شرکا کو8 ہزار روپے ماہوار وظیفہ ملے گا اور ٹیکسٹائل کی ہنر مند افرادی قوت کی تیاری پر 4 ارب 40 کروڑ خرچ ہونگے ۔ 3 لاکھ چھوٹے کسانوں کوایک لاکھ روپے تک کے قرضے ملیں گے۔ 10مویشی تک رکھنے والے کسانوں کو انشورنس کی سہولت حاصل ہوگی ، چھوٹے زرعی قرضوں کی اسکیم پر30 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ فصل بیمہ اسکیم کے تحت 7 لاکھ کسان گھرانوں کو فائدہ ہوگا، یہ سہولت 12 ایکڑکے بجائے25 ایکڑ تک کے کسانوں کوملے گی۔معذورافراد کی 10 لاکھ تک کی آمدنی پر ٹیکس میں 50فیصد رعایت دی جائے گی۔ ان منصوبوں سے یقیناً عوام کی زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔

وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت کابینہ کے خصوصی اجلاس میں وفاقی بجٹ 2014-15 اور ٹیکس تجاویز کی منظوری دی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے بعض مشکل فیصلے کیے اور اس کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی ۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ کوئی بھی حکومت اپنے بنائے ہوئے بجٹ کو اچھا کہے گی مگر میں واقعتاً اسے اچھا بجٹ اس لیے کہوں گا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے دن رات محنت کرکے جس طرح گزشتہ ایک سال کے دوران ملک کی ڈوبتی ہوئی اکانومی کو قابل فخر معیشت میں بدل دیا۔

2009 میں پاکستان کے بارے میں عالمی سطح پر یہ پیش گوئیاں کی جارہی تھیں کہ یہ اقتصادی طور پر دیوالیہ ہونے والا ہے لیکن اب ہماری مسلسل محنت سے یہ پیشن گوئیاں ناکام ہوتی نظر آرہی ہیں ۔ اقتصادی شعبے میں ہماری بڑی کامیابیاں ہیں ۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا کہ نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ معاشی بحالی کا بجٹ ہے جس سے ملک میں روزگار کے نئے مواقعے پیدا ہونگے اور لوگوں کی آمدنی بڑھے گی ۔ انھوں نے کہا نیا انفراسٹرکچر تعمیر ہوگا اور توانائی کے نئے منصوبوں کی تکمیل ہوگی ۔

بلاشبہ 2014-15 کا بجٹ جو ملک کو درپیش انتہائی نامساعد داخلی حالات، دہشت گردی، کرپشن اور سیاسی و سماجی کشمکش کے زیر سایہ مرتب کیا گیا ہے ایک متوازن بجٹ ہے ،امید ہے کہ یہ عام آدمی کے لیے ریلیف کی نوید ہوگا ۔ مہنگائی، غربت، بیروزگاری ، بدامنی اور نا انصافی کا خاتمہ حکومت کے لیے آزمائش سے کم نہیں ۔