سوئس حکام کو خط لکھنے کا فیصلہ…مثبت پیش رفت

حکومت اور عدلیہ کے درمیان خاصے عرصے سے جاری محاذ آرائی کے خاتمے کی جانب پہلا مرحلہ بااحسن حل ہو گیا ہے


Editorial September 19, 2012
وزیراعظم نے عدالت میں پیش ہو کر واضح عندیہ دے دیا ہے کہ وہ حکومت اور عدلیہ کے درمیان ایک طویل عرصے سے جاری محاذ آرائی کا مثبت اور باوقار حل چاہتے ہیں۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف منگل 18 ستمبر کو این آر او عملدرآمد کیس میں توہین عدالت کے مقدمے کے سلسلے میں سپریم کورٹ میں دوبارہ پیش ہوئے۔

اس موقع پر حکومت نے سوئس حکام کو خط لکھنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے خط لکھنے کے لیے وزیر قانون کو اختیار دیتے ہوئے ایک ہفتے میں وزیرقانون کو تحریری مختار نامہ دینے اور سپریم کورٹ کو خط کا متن پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جب کہ عدالت عظمیٰ نے وزیراعظم کو اگلے حکم تک حاضری سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے۔

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف 27 اگست کو بھی عدالت میں پیش ہوئے تھے اور مزید مہلت مانگی تھی جس پر عدالت نے انھیں 18ستمبر کو دوبارہ پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ وزیراعظم کا عدالت میں دوبارہ پیش ہوناایک اچھی مثال ہے۔ بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اور عدالت کے درمیان محاذ آرائی کا باعث بننے والا یہ دیرینہ ایشو حل کی جانب بڑھ رہا ہے۔

وزیراعظم نے عدالت میں پیش ہو کر واضح عندیہ دے دیا ہے کہ وہ حکومت اور عدلیہ کے درمیان ایک طویل عرصے سے جاری محاذ آرائی کا مثبت اور باوقار حل چاہتے ہیں۔ اس کیس سے ملکی معاملات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، عوام میں بے چینی اور اضطراب بڑھتا جا رہا ہے اور ملک میں سیاسی اور معاشی سطح پر غیر یقینی کی صورتحال جنم لے چکی ہے۔

وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ خط کے باعث حکومت شدید دبائو میں ہے اور چین کے دورے کے دوران بھی وہ دبائو میں رہے' یہ مسئلہ حل ہو گا تو ملک میں ٹھہرائو آئے گا۔وزیراعظم کا یہ اعتراف حقیقت پر مبنی ہے۔ اب حکومت نے سوئس حکام کو خط لکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے تو امید کے دیے جلنا شروع ہو گئے ہیں کہ حکومت اور عدلیہ کے درمیان خاصے عرصے سے جاری محاذ آرائی کے خاتمے کی جانب پہلا مرحلہ بااحسن حل ہو گیا ہے، اسی طرح آیندہ کے مراحل بھی بخوبی طے پا جائیں گے۔

یہ حقیقت اب تسلیم کرنا پڑے گی کہ راجہ پرویز اشرف کے وزیراعظم بننے کے بعد حکومت اور عدلیہ کے درمیان محاذ آرائی کے خاتمے کی جانب مثبت پیشرفت ہوئی اور اس سلسلے میں ہونے والی تبدیلیاں بھی یہ عندیہ دے رہی ہیں کہ یہ مسئلہ جلد از جلد حل ہو جائے گا۔ عدالت نے بھی وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی آپ نے اچھی باتیں کی تھیں اور اب بھی اپنا وعدہ نبھایا ہے۔

اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ بظاہر معاملات بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں مگر بعض تجزیہ نگار اور سیاستدان خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ خط کے مسودے پر حکومت اور عدلیہ میں اختلاف پیدا ہو سکتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے 25 ستمبر کو اتھارٹی لیٹر اور خط کا مسودہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدلیہ کی طرف سے سوئس حکام کو خط لکھنے سے پہلے اس کا مسودہ عدالت میں پیش کرنے کے حکم سے بہت سے لوگوں کو قیاس آرائی کا موقع ملا ہے۔ بعض ایسی خبریں بھی میڈیا کی زینت بنی ہیں کہ اگر صدرکے استثنیٰ کے مسئلے پر واضح پوزیشن تسلیم نہ کی گئی تو خط نہیں لکھا جائے گا۔

بہرحال یہ سب خیال آرائیاں ہیں ۔ وزیراعظم عدالت کے روبرو یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ عدالت کے وقار اور قانون کی بالادستی کے ساتھ ساتھ صدر مملکت کے عہدے کا احترام بھی برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اب کوئی بحرانی صورتحال پیدا نہیں ہوگی تاہم حکومت کو چاہیے کہ وہ خط کا مسودہ تیار کرتے وقت اس امر کا خصوصی خیال رکھے کہ اس میں کوئی ایسی شق شامل نہ کی جائے جس سے عدلیہ اور حکومت کے درمیان محاذ آرائی میں اضافہ ہو۔

عدلیہ بھی اس امر کا عندیہ دے چکی ہے کہ بعض عناصر کی جانب سے تصادم کی کوشش کے باوجود اس نے اس مسئلے کو ہمیشہ تحمل سے دیکھتے ہوئے سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا ہے۔ عدلیہ نے واضح کیا کہ ''اگر نیک نیتی سے کام ہو گا توکوئی خرابی پیدا نہیں ہو گی' شکوک پیدا نہ کیے جائیں' جس بہتر ماحول میں سب سے مشکل مرحلہ طے ہوا اسی جذبے کے ساتھ آگے جانا چاہیے''۔

یہ ریمارکس بھی حکومت اور عدلیہ کے درمیان محاذ آرائی کے خاتمے کی جانب مثبت اشارہ ہے۔ اب حکومت پر بھی بھاری ذمے داری آن پڑی ہے کہ وہ اس جانب مثبت پیشرفت کرے۔ حکومت نے خط کا جو مسودہ تیار کر کے عدالت میں پیش کرنا ہے اگر عدالت اس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے قبول کر لیتی ہے تو اس قضیے کے جلد اختتام پذیر ہونے کے قوی امکانات ہیں کیونکہ عدالت بھی یہ کہہ چکی ہے کہ وہ اس کیس کو جلد از جلد نمٹانا چاہتی ہے ۔جتنا جلد یہ کیس نمٹایا جائے اتنا بہتر ہو گا۔

اس امر کا کریڈٹ بھی حکومت کو جاتا ہے کہ اس نے کوئی غیر آئینی یا تصادم کا راستہ اپنانے کے بجائے آئین اور قانون کا راستہ ہی استعمال کیا ہے ۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف عدلیہ کے حکم کا احترام کرتے ہوئے دو بار عدالت میں پیش ہوئے اور سب سے اہم مرحلے کے حل کی جانب مثبت کردار ادا کیا۔ بعض حلقوں کے مطابق اگر حکومت سوئس حکام کو پہلے ہی خط لکھ دیتی اور ملک قیوم کی جانب سے سوئس حکام کو لکھا گیا خط واپس لے لیتی تو عدلیہ اور حکومت کے درمیان محاذ آرائی اس مرحلے تک نہ پہنچتی اور وزیراعظم کے عہدے کے لیے جو مشکلات پیدا ہوئیں وہ نہ ہوتیں۔ اس محاذ آرائی میں حکومت اور عدلیہ آمنے سامنے آ گئے۔

نتیجتاً یوسف رضا گیلانی کو اپنا وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ سیاسی ماہرین اور تجزیہ نگار جمہوری نظام ہی لپیٹے جانے کی قیاس آرائیاں کرنے لگے۔ اس ساری صورتحال نے سیاسی غیر یقینی کو بڑھاوا دیا جس کا منفی اثر معیشت پر بھی پڑا۔ سرمایہ دار نے بھی اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور اس بات کا انتظار کرنے لگا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

اس سے اسٹاک مارکیٹ بھی متاثر ہوئی اور عام آدمی کے مسائل میں اضافہ ہوا اور اس تاثر نے تقویت پکڑی کہ حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہے۔ اب حکومت اپنے ساڑھے چار سال مکمل کر چکی ہے' انتخابات قریب آ رہے ہیں اور نگران سیٹ اپ بننے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ حکومت کی بھی خواہش ہے کہ عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی اپنے انجام کو پہنچے اور بہتری کی صورتحال پیدا ہو۔ اب یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ این آراو کیس سے جنم لینے والے پیچیدہ آئینی اور قانونی معاملات طے پا جائیں گے اور جمہوریت کا سفر کامیابی سے رواں دواں رہے گا۔