کراچی کو امن کا گہوارہ بنایا جائے

مسلسل بدامنی کے واقعات کا اثر کراچی کی معیشت پربراہ راست پڑاہے


Editorial September 19, 2012
بم دھماکے کرنے والے دہشت گرد کراچی کی معیشت کو بھی تباہ کرنا چاہتے ہیں اور یہاں فرقہ وارانہ ہم آہنگی بھی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

PESHAWAR: کراچی مسلسل بد امنی و دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔

اہل کراچی سانحہ گارمنٹس فیکٹری کو نہیں بھلا سکے تھے کہ ملک دشمن عناصرنے نارتھ ناظم آباد کی حیدری مارکیٹ میں دو بم دھماکے کردیے ۔

بم دھماکوں کے نتیجے میں شیر خوار بچی اور میاں بیوی سمیت 8 افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے۔ بم دھماکے کرنے والے دہشت گرد کراچی کی معیشت کو بھی تباہ کرنا چاہتے ہیں اور یہاں فرقہ وارانہ ہم آہنگی بھی ختم کرنا چاہتے ہیں۔

ادھر کراچی میں ٹارگٹ کلنگ بھی مسلسل جاری ہے۔ ان واقعات میں ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن اور متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن سمیت17 افراد جاں بحق ہو گئے۔

ٹارگٹ کلنگ کے خلاف کراچی میں تعلیمی ادارے بند اور پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہی۔ یوں عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔ جب کہ توہین آمیزفلم کے خلاف مذہبی جماعتوں کی احتجاجی ریلیوں کے باعث بھی شہر قائد میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا۔

مسلسل بدامنی کے واقعات کا اثر کراچی کی معیشت پربراہ راست پڑاہے۔ سرمایہ دار اپنی صنعتیں بنگلہ دیش اور ملائشیا سمیت دوسرے ممالک میں منتقل کر رہے ہیں۔ لامحالہ بے روزگاری کا عفریت معصوم انسانوں کو نگل رہا ہے۔

بے چینی اور بدامنی نے یہ دن دکھائے ہیں کہ عوام کا جینا دوبھر ہو گیا ہے اور مایوسی کے گھپ اندھیروںکے سوا انھیں کچھ نظر نہیں آتا۔ بلاشبہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور کراچی کے اسٹیک ہولڈرز کو ایک ٹیبل پر بیٹھ کر سوچ و بچار کے بعد کراچی کو بچانے کا ایک متفقہ فیصلہ کرنا ہی پڑے گا کہ امن و امان کے دشمنوں کا قلع قمع کیا جائے۔کراچی میں جو کچھ ہورہا ہے، اس سے پورا ملک متاثر ہورہا ہے۔ پاکستان کی معیشت کو رواں رکھنے کے لیے کراچی میں امن ناگزیر ہے۔