توہین آمیز فلم مسلم ممالک یہ معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھائیں

ماہرین خارجہ امور اور دانشوروں کا ’’ایکسپریس فورم ‘‘ میں اظہار خیال


Shahid Jawed Discovi September 19, 2012
انٹرنیٹ پر توہین آمیز فلم چلانے والی سماجی ویب سائٹ یو ٹیوب تک رسائی پاکستانی وزیر اعظم کے حکم پر بند کر دی گئی ہے۔ فوٹو : ایکسپریس

حضوراکرم ﷺ کے بارے میں امریکہ میں بننے والی توہین آمیز فلم کے خلاف دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی شدید مظاہرے جاری ہیں۔

کراچی اور لاہور کے بعد پشاور میں بھی مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کے باہر شدید احتجاج اور پتھرائو کیا،جس کے جواب میں پولیس نے ہوائی فائرنگ کی اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا ۔

انٹرنیٹ پر توہین آمیز فلم چلانے والی سماجی ویب سائٹ یو ٹیوب تک رسائی پاکستانی وزیر اعظم کے حکم پر بند کر دی گئی ہے۔اس بندش کی وجہ یو ٹیوب کی جانب سے توہین آمیز فلم نہ ہٹانے کا فیصلہ بتائی گئی ہے۔

اس سے پہلے پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو فوری طور پر ملک میں انٹرنیٹ سے پیغمبر اسلامﷺ پر متنازع فلم کو ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

پیر کو عدالت نے یہ حکم اس فلم سے متعلق از خود نوٹس پر دیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس فلم سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔

عدالت نے اس ضمن میں سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو نوٹ بنانے کے بارے میں بھی ہدایات جاری کیں۔ عدالت نے پی ٹی اے کے چیئرمین کو فوری طور پر عدالت میں طلب کر کے اس فلم کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ سے ہٹانے کا حکم دیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اتنے دنوں سے یہ فلم پاکستان میں انٹرنیٹ اور سوشل نیٹ ورک سائٹس پر موجود ہے اور متعلقہ حکام کو یہ تک توفیق نہ ہوئی کہ اسے فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔

حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی ، تو کبھی قرآن پاک کی بے حرمتی ، کبھی داڑھی و پگڑی پر اعتراض تو کبھی حجاب کا مذاق، اہل مغرب کی جانب سے وقتاً فوقتاً اس قسم کی گھنائونی حرکتیں کی جاتی ہیں اور جب اس طرح کی حرکتوں پر احتجاج ہوتا ہے تو مغربی میڈیا اور حکومتیں اسے اظہار رائے کی آزادی کا نام دیکر دبانے کی کوشش کرتی ہیں۔

مغربی ممالک میں تو چھوٹی چھوٹی چیزوں پر بھی قوانین سازی ہوتی ہے، وہاں اتنے بڑے مسئلے پر قانون سازی کیوں نہیں کی جاتی، اس طرح کے واقعات کے بعد اقوام متحدہ اور او آئی سی کی ذمہ داری کیا بنتی ہے، یہ دونوں ادارے کیوں خاموش رہتے ہیں، اسلامی دنیا کے حکمران اپنا مؤثر احتجاج ریکارڈ کرانے میں کیوں ناکام ثابت ہوتے ہیں۔

یہ اور اس طرح کے اور کئی سوالات کے جوابات جاننے کے لئے گذشتہ روز ''ایکسپریس فورم ''میں ایک فکر انگیز نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں امور خارجہ کے ماہر اور دانشور ڈاکٹر عاصم اللہ بخش ، سینئر سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر فاروق حسنات اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے میڈیا کوآرڈینیٹر اور امور خارجہ کے ماہر سید محمد مہدی کو مدعو کیا گیا، مہمانوں سے ہونے والی گفتگو حاضر خدمت ہے۔

سید محمد مہدی
(ماہر بین الاقوامی امور )
مغرب کی جانب سے یہ کوئی پہلا واقعہ سامنے نہیں آیا، خصوصاً نائن الیون کے بعد سے اس قسم کے واقعات ہر سال یا چھ مہینے بعد سامنے آتے ہیں۔

جن کے ذریعے ناصرف اسلامی شخصیات کی توہین کی جاتی ہے بلکہ قرآن اور شعائر اسلام کی بھی بے حرمتی کی جاتی ہے، اس قسم کے واقعات کے بعد پوری دنیا کے اندر مسلمانوں میں اشتعال پایا جاتا ہے وہ سراپا احتجاج بنتے ہیں، لیکن مغربی حکومتیں ان گھنائونی حرکتوں کو اظہار رائے کی آزادی کا نام دے کر ان پر پردہ ڈال دیتی ہیں۔

اسی دوران مغرب کے ہی کچھ لوگ اور میڈیا اس قسم کی حرکت کو انفرادی فعل کا نام دے دیتے ہیں حالانکہ اس گھنائونے فعل کو کسی کا انفرادی فعل قرار نہیں دیا جاسکتا، یہ بات میں مانتا ہوں کہ ٹیری جونز جیسے ملعون کو سستی شہرت حاصل کرنے کا شوق تو ہوگا لیکن جب یہ توہین آمیز فلم بنی اس کے بعد وہاں کے میڈیا کا کردار اور جس طرح اس فلم کو چلایا گیا ۔

پوری دنیا میں امت مسلمہ کے احتجاج کے باوجود ابھی تک اس فلم کو یوٹیوب سے ہٹایا نہیں گیا ، یہ سب چیزیں اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ یہ ٹیری جونز جیسے کسی ملعون شخص کا انفرادی فعل نہیں بلکہ اس کے پیچھے تو پوری ایک لابی کام کر رہی ہے ، وہ عناصر کام کررہے ہیں جو دنیا کے امن کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

آپ ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں کہ کچھ برسوں سے اس طرح کے واقعات بہت ہی تواتر کے ساتھ ہر سال یا چھ ماہ بعد منظر عام پر آئے ہیں، جس کے بعد پوری دنیا میں مسلمان سراپا احتجاج بن جاتے ہیں اور مغرب ان کو اظہار رائے کی آزادی کا نام دیکر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کرتا ہے۔ مغرب میں تو چھوٹی چھوٹی چیزوں پر بھی قانون سازی کی جاتی ہے، ہولو کاسٹ پر بڑا سخت قانون موجود ہے۔

پھر اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لئے قانون سازی کیوں نہیں کی جاتی؟۔دنیا جانتی ہے کہ مسلمان چاہے نام کا ہی مسلمان کیوں نہ ہو، لیکن جب اس کے شعائر و عقائد کی توہین کی جاتی ہے تو پھر وہ شدید ردعمل کا اظہار بھی کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس توہین آمیز فلم کے منظر عام پر آنے کے بعد ساری دنیا کے مسلمان سڑکوں پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

مسلمان اپنے عقائد کے حوالے سے بہت جذباتی ہیں لیکن بدقسمتی سے جب کبھی بھی امریکہ یا مغرب میں اس طرح کی گستاخانہ حرکت ہوتی ہے تو وہاں کی حکومتیں اور میڈیا اسے اظہار رائے کی آزادی کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔

در اصل اس طرح کے واقعات میں انتہا پسندوں کاایک پورا مافیا ملوث ہوتا ہے، جو وہاں کی حکومتوں میں بھی موجود ہیں۔ مسلم ممالک میں بیشتر حکمران امریکہ اور مغرب ہی کے پروردہ ہیں، عوام امریکہ کی ان پالیسیوں کے خلاف ہیں جن کی وجہ سے پوری دنیا کا امن خطرے میں پڑتا جارہا ہے۔

اسلامی ممالک کے عوام اپنی اپنی حکومتوں پر دبائو بڑھائیں تاکہ وہ اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں اٹھائیں ، اگلے ہی ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس شروع ہورہا ہے، جس میں تمام اسلامی ممالک کے سربراہان بھی شامل ہوں گے۔

ان اسلامی حکمرانوں کو اپنی ابتدا ہی اس مسئلے سے کرنی چاہیے اور جنرل اسمبلی کے اجلاس میں قرار داد پاس کروانی چاہیے جس کے تحت اقوام متحدہ کے رکن ممالک اپنی اپنی سطح پر قانون سازی کریں تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص کسی بھی مذہب کی مقدس شخصیات اور عقائد کی توہین نہ کرسکے۔

جب ہر ملک اس طرح کا قانون بنائے گا تو پھر اس طرح کے واقعات خود بخود رک جائیں گے لیکن اس مقصد کے لئے اسلامی ممالک کے سربراہان کو ایک، اور واضح موقف اپنانا ہوگا تبھی آپ کی بات اقوام متحدہ میں سنی جائے گی۔

ڈاکٹر فاروق حسنات
(دانشور و سیاسی تجزیہ نگار )
میں ایکسپریس میڈیا گروپ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے آج اس سلگتے ہوئے ایشو پر اس مذاکرے کا اہتمام کیا، یہ نشست وقت کی اہم ضرورت تھی ، کیونکہ امریکہ میں اسلام کے بارے میں جو گستاخانہ فلم بنی ہے اس پر دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے دل خون کے آنسو رو رہے ہیں اور وہ سراپا احتجاج ہیں، جب کسی کے مذہب پر حملہ ہوتا ہے تو پھر اس مذہب کے پیروکار سراپا احتجاج بن جاتے ہیں ، یہ ایک فطری عمل ہے۔

اس طرح کے واقعات پر ردعمل بھی مختلف آیا کرتے ہیں، مثال کے طور پر اگر کسی مذہب کی مقدس شخصیت کے بارے میں توہین آمیز فلم بنتی ہے تو جواب میں دوسرے مذہب کی مقدس شخصیات کے خلاف بھی فلم بن سکتی ہے لیکن مسلمان ایسا ہر گز نہیں کرسکتا کیونکہ ہم تمام مذاہب کی مقدس شخصیات کا احترام کرتے ہیں، ہمارے مذہب نے ہمیں سکھایا ہے کہ تمام انبیا علیہ السلام پر ایمان لانا ہے ۔

ردعمل کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اُس واقعہ کے خلاف اسمبلی میں قرارداد پاس کرائی جائیں، ہمارے ہاں اس پر بھی عمل ہوتا ہے، ایک طریقہ احتجاج کا یہ بھی ہے کہ لوگ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں اس واقعہ کے بعد لوگ سڑکوں پر ہی ہیں۔

حضوراکرمﷺ کے حوالے سے جو توہین آمیزفلم بنائی گئی ، اس پر دنیا بھر کے مسلمانوں کا احتجاج کوئی انہونی بات نہیں بلکہ ایک فطری عمل ہے کیونکہ مسلمان چاہے کسی بھی درجے کا مسلمان ہو لیکن اس کو اپنی مقدس شخصیات اور عقائد سے بہت محبت اور عقیدت ہوتی ہے، جن کی وہ کسی صورت بھی توہین برداشت نہیں کرسکتا۔

امریکہ میں ایک بیہودہ قسم کی فلم بنی ، وہ کچھ دن چلی ، لوگوں نے اس کو مسترد بھی کر دیا۔ اس معاملے کو کسی کا انفرادی معاملہ قرار نہیں دیا جاسکتا، اس کے پیچھے اور بھی وجوہات بھی ہیں، اس کے پیچھے اور بھی عناصر کارفرما ہیں، اگر یہ'' آئسو لیٹیڈ'' معاملہ ہوتا تو اسے نظر انداز بھی کیا جاسکتا تھا لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے۔

اس فلم میں حضور اکرم ﷺ کی توہین کی گئی ہے، مسلمانوں کے عقائد ، ثقافت اور کلچر کی توہین کی گئی ہے، جس نے مسلمانوں کے جذبات کو بڑھکا دیا ہے۔ اسلامی ممالک کی حکومتوں نے بھی اس پر ایکشن لیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی دنیا کو کیا مؤثر حکمت عملی اپنانی چاہیے جس کے تحت آئندہ اس قسم کے واقعات کا سدباب کیا جاسکے۔

ہولو کاسٹ کوئی مذہبی معاملہ نہیں تھا لیکن یورپ کے بہت سے ممالک میں اس پر بات کرنا یا لکھنا قانوناً جرم ہے، اگر یہ معاملہ ہیٹ کرائم میں آتا ہے تو پھر مسلمانوں کے عقائد و نظریات ، ثقافت و کلچر کی توہین بھی ہیٹ کرائم میں آنی چاہیے۔

اسلامی ممالک کے سربراہوں کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر اس معاملے کو اٹھانا چاہیے، تاکہ اقوام متحدہ اپنے رکن ممالک کی حکومتوں کو اس بات کا پابند بنائیں کہ وہ اپنے ملکوں میں ہیٹ کرائم کے حوالے سے قانون سازی کریں۔

اسی اقدام سے اس طرح کے معاملات کی روک تھام ممکن بنائی جاسکتی ہے۔ میں یہاں یہ بات بھی واضح کرتا چلوں کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کے احتجاج نے مغربی میڈیا اور حکومتوں پر یہ باور کرا دیا ہے کہ مسلمانوں کا احتجاج اپنے عقائد کے دفاع کے لئے ہے۔ جہاں تک او آئی سی کا تعلق ہے، اس حوالے سے یہ عرض کرتا چلوں کہ او آئی سی اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم ہے۔

اس تنظیم کی سطح پر بھی اس مسئلے کو اٹھانا چاہیے، بلکہ اسی پلیٹ فارم کے ذریعے اقوام متحدہ تک بات پہنچانی چاہیے، تاکہ ایک بین الاقوامی قانون کے ذریعے اس سلسلے کو روکا جاسکے اوردنیا میں امن قائم رکھنے کے لئے یہ بہت ضروری ہے۔

ڈاکٹر اللہ بخش عاصم
(دانشور و ماہر بین الاقوامی امور )
دنیامیں جب کبھی بھی اس قسم کا واقعہ رونما ہوتا ہے تو پوری دنیا خاص طور پر مغرب میں اسے اظہار رائے کی آزادی کا نام دیا جاتا ہے اورپھر اس پر ایک بحث چھڑ جاتی ہے۔ اظہار رائے کی آزادی کسی توہین یا تذلیل کرنے کا نام نہیں، اگرکسی ملک کے شہریوں کے پاس یہ حق حاصل ہے تو وہاں بھی بہت احسن انداز میں نقطہ اعتراض اٹھایا جاسکتا ہے، وہاں بھی کسی کی تذلیل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، وہاں کے معاشرے اس کی اجازت نہیں دیتے۔

خود مغرب نے ایسی مثالیں قائم کی ہیں کہ جہاں نقطہ اعتراض اٹھانے کی بھی اجازت نہیں ، ہولو کاسٹ کا ہی معاملہ دیکھ لیں، کسی کو اس پر بات کرنے یا لکھنے کی اجازت نہیں۔ یہ مغرب کا دوہرا معیار ہے۔ مغرب خود معیار طے کرتا ہے اور پھر خود ہی ان کی دھجیاں بھی اڑاتا ہے۔

اس قسم کے واقعات پر ہمارے ہاں احتجاج ہوتا ہے لیکن اس احتجاج میں ایک کمی ہمیشہ رہتی ہے کہ ہمارے ہاں احتجاج وقتی ابال کی طرح ہوتا ہے، لانگ ٹرم کوئی پالیسی نہیں ہوتی۔ جرمنی اور جاپان کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں دنیا آج ان کا احترام کرنے پر مجبور ہے۔ ہم صرف وقتی توڑ پھوڑ پر اکتفا کرتے ہیں، جو ہمارا اپنا ہی نقصان ہے۔

ایک اور بات یہ کہ اب تک جتنے بھی جلسے جلوس اورمظاہرے ہوئے، سبھی مختلف مسالک اور جماعتوں کے تحت ہوئے، ایسا کوئی مظاہرہ نہیں ہوا جو صرف مسلمانوں کا ہو ، کسی ایک مسلک کا نہیں، نجانے ہم فرقہ بندیوں اور گروہوں سے باہر نکلنے کے لئے تیار کیوں نہیں؟ اگر ہم اس ایشو پر بھی ایک نہیں ہوںگے تو پھر کب ایک ہونگے؟ یہ بات ہمارے لئے بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔یہی ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے دشمن جس کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے یوٹیوب بند کرنا بجا لیکن چار پانچ دن بعد جب احتجاج کچھ نرم پڑ جائے گا تب یوٹیوب کھولی جائے گی تو اسی طرح کھول دی جائے گی جس طرح بند کی گئی تھی، وہ قابل اعتراض مواد نہیں ہٹایا جائے گا جس کی وجہ سے یوٹیوب بند کی گئی ہے۔ ایسا کوئی مستقل نظام ہونا چاہیے جس کے تحت اس طرح کی چیزیں خود بخود فلٹر ہوتی رہیں۔ اس پر بھی حکومت کو غور کرنا چاہیے۔

ایک اہم بات یہ کہ کراچی ،لاہوراور پشاور میں جو احتجاج ہوئے ان میں امریکی قونصل خانوں پر پتھر پھینکے گئے، ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں بہترین اخلاق ہماری طرف سے نہیں آئے گا تو پھر کس کی طرف سے آئے گا؟ ہمیں اس مسئلے میں بھی حضورﷺ کی سنت یاد رکھنی چاہیے اور اس پر عمل کرنا چاہیے، جب ہمارے ملک میں کسی دوسرے ملک کے سفارت کار ہی محفوظ نہیں تو پھر معاملات کیسے سدھریں گے؟ ہمیں اس طرح کے احتجاج سے گریز کرنا چاہیے۔