دس کروڑ شہریوں کے لیے ہیلتھ انشورنس

یہ اپنی نوعیت کی پہلی اسکیم ہے جس نے غریب ترین افراد کے لیے سماجی تحفظ کا نظام متعارف کرایا ہے۔۔۔


Editorial June 06, 2014
یہ اپنی نوعیت کی پہلی اسکیم ہے جس نے غریب ترین افراد کے لیے سماجی تحفظ کا نظام متعارف کرایا ہے. فوٹو: فائل

مملکت خداداد پاکستان کی مجموعی آبادی کا اندازہ اٹھارہ سے بیس کروڑ نفوس کے لگ بھگ لگایا جاتا ہے جن میں سے تقریباً آدھی آبادی بے وسیلہ افراد کی ہے جو دو وقت کی روٹی تو کسی نہ کسی حیلے سے محنت مشقت کے ذریعے بے شک حاصل کر لیتی ہے مگر بیماری اور حادثے وغیرہ کی صورت میں دوا دارو کا حصول ان کے لیے ممکن نہیں ہوتا اور نہ ہی ان بے چاروں کا کوئی پرسان حال ہوتا ہے۔ اس حوالے سے ملک کے دس کروڑ غریب ترین افراد کے لیے ہیلتھ انشورنس اسکیم کی منظوری کے اعلان کو ایک انتہائی اہم پیشرفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اس اسکیم کے مرحلہ وار نفاذ کی منظوری دے دی ہے۔

اسلام آباد سے ایکسپریس کے وقایع نگار خصوصی کے مطابق اس مقصد کے لیے یہاں وزیر اعظم کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر خزانہ کے ہمراہ چیئر پرسن وزیر اعظم یوتھ پروگرام محترمہ مریم نواز، وزیر مملکت برائے صحت سائرہ افضل تارڑ اور وزارت صحت اور خزانہ کے اعلی افسروں نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ ہیلتھ انشورنس پروگرام معاشرے کے معاشی طور پر پسماندہ لوگوں کو صحت کے تحفظ کی فراہمی کا واحد راستہ ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی اسکیم ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کے 10 کروڑ غریب ترین افراد کے لیے مرحلہ وار نیشنل ہیلتھ انشورنس اسکیم کی منظوری دی گئی ہے۔

یہ اپنی نوعیت کی پہلی اسکیم ہے جس نے شکایات کے حل پر مبنی نظام کے ساتھ غریب ترین افراد کے لیے سماجی تحفظ کا نظام متعارف کرایا ہے۔ یہ اسکیم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دیگی اور اس سے سرمایہ کاری کی نئی راہیں کھلیں گی۔ محترمہ مریم نواز نے بتایا کہ یہ اسکیم سادہ خطوط پر استوار کی گئی ہے تا کہ لاگت کی زیادہ سے زیادہ بچت یقینی بنائی جا سکے۔ اسکیم کے تحت ملک کے غریب لوگوں کو امراض قلب، ذیابیطس (شوگر)، ہیپاٹائٹس، اعضا کے ناکارہ ہونے اور کینسر (سرطان) جیسے بڑے امراض کے مفت علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اجلاس میں اسلام آباد میں انسانی اعضا کی پیوندکاری کے ملک کے پہلے سرکاری جدید ترین مرکز کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا۔