جوابی اور پیشگی کارروائی ناگزیر

لگاتار سنگین غلطیاں ہو رہی ہیں اس لیے ریاستی اداروں کی کارروائی دخل اندازی کے زمرے میں نہیں آتی ...


Editorial June 12, 2014
لگاتار سنگین غلطیاں ہو رہی ہیں اس لیے ریاستی اداروں کی کارروائی دخل اندازی کے زمرے میں نہیں آتی۔ فوٹو؛ فائل

MEDINAH: وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت وزیر اعظم ہائوس میں ملکی سلامتی اور ملک میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے حوالے سے منگل کو ہونے والے اہم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں کے خلاف پیشگی کارروائیاں تیز کی جائیں گی اور عوام کے جان و مال اور سرکاری املاک کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا جب کہ کراچی میں دہشت گردوں کی تلاش کے لیے بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ اجلاس میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس کے نظام کو مزید فعال کرنے اور دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے سرحدوں پر کڑی نگرانی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس کے حوالہ سے جو فیصلے ہوئے، وہ بلاشبہ ملکی صورتحال اور زمینی حقائق سے جڑے ہوئے ہیں تاہم اس تلخ حقیقت کا کڑوا گھونٹ سب کو پینا ہو گا کہ دہشت گردی نے ایک بھنور اور برمودا ٹرائنگل جیسی شکل اختیار کر لی ہے جس کے اثرات و مضمرات اور امکانی نتائج کے تناظر میں جوابی اور پیشگی کارروائی کا میکنزم وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے، ہم اگلے روز ان ہی سطور میں قومی سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مربوط اور منظم اسٹرٹیجی اور حکمت عملی کے حوالے سے یہ انتباہ دے چکے ہیں کہ ارباب اختیار، قوم اور پاک فوج دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل کی روشنی میں کریک ڈائون، سوئپنگ آپریشن اور کلین اپ کارروائی کرے تا کہ دہشت گردی کا تسلسل قومی معیشت، عوامی معمولات اور جمہوری نظام کے استحکام کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ کر سکے۔

حکمران یہ بھی سوچ لیں کہ فیصلوں پر اب عملدرآمد کو یقینی بنانا اعلانات کی تکرار سے زیادہ اہم ہے۔ قوم دہشت گردی اور سیاسی کشمکش سے تنگ آ چکی ہے، ایک طرف جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی باتیں بھی چل رہی ہوں، دوسری طرف گرینڈ الائنس بنائے جانے کی کوششوں کا منظر نامہ بھی سجایا جاتا ہو وہاں ان درد انگیز سانحات کا احساس اور ادراک بھی ہونا چاہیے جس میں جنگ آزما عناصر ملکی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے سارے خواب بھسم کرنے پر تلے بیٹھے ہوں۔ نیکٹا کا ذکر سنا گیا مگر عوام اس کی کارکردگی دیکھنے کے منتظر ہیں۔

دہشت گرد ملک کے سب سے بڑے شہر کے ایئر پورٹ کی حدود میں کیسے داخل ہوئے اس سوال پر ملکی اور غیر ملکی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں مختلف پہلوئوں کو مد نظر رکھتے ہوئے تجزیے پیش کیے گئے ہیں جن سے نہ صرف پاکستان میں دہشت گردی اور اس سے متعلق انتہا پسند تنظیموں اور تحریک طالبان پاکستان سمیت دیگر مذہبی پریشر گروپوں کے ایجنڈے، عسکریت پسندانہ کردار مستقبل کے عزائم، ریاستی رٹ اور موجودہ جمہوری نظام کو تسلیم نہ کرنے کی جارحانہ اسٹرٹیجی کے مضمرات کا جائزہ بھی لیا گیا بلکہ اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ دہشت گردوں کی مسلسل پیش قدمی کب لگاتار پسپائی میں بدلے گی؟

وزارت دفاع نے وضاحت کی ہے کہ کراچی سمیت کسی بھی ایئر پورٹ پر فوج کی تعیناتی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، اس سلسلہ میں تمام رپورٹس بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ یوں اب کلی ذمے داری پولیس، رینجرز، اے ایس ایف اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ہے کہ وہ دفاعی اور حفاظتی دیواریں مستحکم کر لیں۔ دہشت گردوں پر عقابوں کی طرح ٹوٹ پڑیں۔ نپولین نے کہا تھا کہ ''اپنے دشمن کے معاملے میں اس وقت خلل انداز مت ہونا جب وہ غلطی کر رہا ہو۔'' مگر جن سرکش قوتوں سے سیاسی اور عسکری قیادت ملک کے عظیم تر مفاد میں مذاکرات کے لیے ایک صفحہ پر تھی اور بات چیت کو حکومت کی اولین ترجیح کا درجہ حاصل تھا تو ایسے وقت میں مذاکرات کی مستقل پیشکش کو ٹھکرا کر پاکستان کے لیے ایک وجودی خطرہ بننے کا جنون اور اس کا ہولناک حالیہ اظہار خود کش غلطی نہیں ہے۔

دوسری جانب سے لگاتار سنگین غلطیاں ہو رہی ہیں اس لیے ریاستی اداروں کی کارروائی دخل اندازی کے زمرے میں نہیں آتی بلکہ وہ قومی سلامتی کے تحفظ اور ملکی داخلی صورتحال کو ابتر ہونے سے بچانے کا قومی فریضہ ہے، اگر بر وقت آرمی کمانڈوز، پولیس، رینجرز اور ایئر پورٹ سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) اہلکار دشمن کے خلاف سد راہ نہ بن جاتے، اپنی جانیں نثار نہ کرتے تو کوئی سوچ سکتا ہے کہ تباہی کا کیا گراف ہوتا۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق پاکستان پر دہشت گردی کا دبائو شدت پذیر ہے اور وزیر اعظم نواز شریف نے مذکورہ اجلاس میں فوج کو شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی ہدایت جاری کی ہے، اخبار لکھتا ہے کہ حکومت پر طالبان سے مذاکرات کی پالیسی پر نظر ثانی کرنے کے دبائو میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

اجلاس میں وزیر داخلہ چوہدری نثار، آرمی چیف جنرل راحیل شریف، چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم 'میجر جنرل ناصر دلاور شاہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ نجی ٹی وی نے ذرایع کے حوالے سے بتایا ہے کہ شمالی وزیرستان اور فاٹاکے ان علاقوں میں جہاں انتہاپسند اور دہشت گرد حکومتی رٹ تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں ان کے خلاف فوری طور پر آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم وقت کا تعین ابھی نہیں کیا گیا ہے۔ ادھر سینئر وفاقی وزیر (ر) جنرل عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ اب حکومت خاموشی سے اپنے سپاہیوں کی لاشیں وصول نہیں کرے گی۔ وزیر اعظم نے بھی اسی قسم کے عزم کا اظہار کیا ہے کہ دہشت گردوں کو کھلی چھٹی نہیں دی جا سکتی۔ اسی عزم کو عمل میں بدلنے کا وقت ہے۔