پولیو کے قطرے جائز عالمی علما کانفرنس

پاکستان میں بھی پولیو جیسے موذی مرض پر قابو پانے کے لیے بچوں کو پولیو قطرے پلانا ضروری ہے۔


Editorial June 17, 2014
پاکستان میں بھی پولیو جیسے موذی مرض پر قابو پانے کے لیے بچوں کو پولیو قطرے پلانا ضروری ہے۔ فوٹو: فائل

بین الاقوامی علماء کانفرنس برائے انسداد پولیو کے شرکاء نے پولیو ویکسین کے استعمال کو جائز قرار دیے کر ایک اہم سماجی اور صحت مسئلہ کے حوالے سے الجھن دور کردی ہے ۔ کانفرنس میں قوم کو واضح یقین دلایا گیا کہ پولیو ویکسین میں کوئی حرام یا مضر صحت اجزا شامل نہیں، مسلم ممالک میں بچوں کو پولیوجیسے موذی مرض سے بچانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

پیر کو بین الاقوامی علماء کانفرنس برائے انسداد پولیو مہم کے اختتامی سیشن میں پاکستان،اسلامی دنیا کی مختلف تنظیموں، اسلامک ڈیولپمنٹ بینک، او آئی سی، الازہریو نیورسٹی، بین الاقوامی فقہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد اور اسلامک ایڈوائزری گروپ کے نمایندوں نے شرکت کی، کانفرنس کے اختتام پر ''فتویٰ اسلام آباد'' جاری کیا گیا جس میں پولیو ویکسین کے استعمال کو جائز قرار دیا گیا۔ کانفرنس کے شرکا نے کہاکہ57 اسلامی ممالک میں سے54ممالک پولیو کے مرض پر قابو پاچکے ہیں ، پاکستان میں بھی پولیو جیسے موذی مرض پر قابو پانے کے لیے بچوں کو پولیو قطرے پلانا ضروری ہے۔

جہاں تک پولیو قطرے پلانے سے گریز اور قبائلی علاقوں مین مزاحمت کا تعلق ہے وہاں 4 مزید کیسز سامنے آئے ہیں ، ان چاروں بچوں میں دو خیبر ایجنسی اور دو شمالی وزیرستان کے ہیں جنھیں اس سے پہلے پولیو قطرے نہیں پلائے جاسکے ۔یوں پاکستان میں رپورٹ کیے جانے والے بچوں میں پولیو کیسز کی تعداد 82 ہوگئی ہے جو چشم کشا اور ارباب اختیار سے موثر اقدامات کا تقاضہ کرتی ہے۔ کانفرنس کے شرکا نے انسداد پولیو مہم میں حصہ لینے والے اہلکاروں پر ہونے والے حملوں اور مہم کو سیاسی مقاصدکے لیے استعمال کرنیکی بھی مذمت کی۔

علماء کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے مذہبی امور پیر امیر الحسنات نے کہا ہے کہ علمائے کرام ہمارے معاشرے کا معتبر طبقہ ہیں، اس لیے ان سے توقع ہے کہ وہ انسداد پولیو کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں گے۔امید کی جانی چاہیے کہ عالمی سفری پابندیوں اور مزید کیسز کے منظر عام پر آنے کے بعد حکومت پولیو قطروں کے جائز ہونے کے اس معتبر فتویٰ کو عملی طور پر ایک ایجنڈے کی شکل دیگی تاکہ پولیو مہم کے ذریعے پاکستان پولیو فری ملک کہلانے کا حقدار بن سکے۔