دہشت گردی کے خلاف پاک تاجکستان تعاون

تاجکستان توانائی کے وسائل کو استعمال کرنے کے لیے منصوبوں کی تیاری میں مصروف ہے


Editorial June 19, 2014
تاجکستان توانائی کے وسائل کو استعمال کرنے کے لیے منصوبوں کی تیاری میں مصروف ہے. فوٹو؛ریڈیو پاکستان

NEW DELHI: دوشنبے میں وزیر اعظم نواز شریف اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف میں مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب ہوئی۔ پاکستان اور تاجکستان نے دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ منگل کو یہاں تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ ہم نے موجودہ اور نئے ادارہ جاتی میکنزم کو بروئے کار لاتے ہوئے اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے اور نجی شعبے کے تعاون میں اضافہ پر اتفاق کیا۔

پاک تاجکستان اقتصادی تعاون نہ صرف خطے کی ضرورت ہے جس کے لیے ایکو نامی تنظیم کی تشکیل ہوئی اور جس کے تحت وسط ایشیاء کے ممالک میں قریبی معاشی روابط اور سماجی میل جول بڑھانے کے لیے اقدامات اور مستقبل کے سیکیورٹی ایشوز پر بھی اتفاق اور مشترکہ تعاون ناگزیر ہے۔ قبل ازیں دوشنبے پہنچنے پر تاجکستان کے نائب وزیر اعظم ابراہیم نے وزیر اعظم نواز شریف کا استقبال کیا، وزیر پانی و بجلی، وزیر ٹیکسٹائل انڈسٹری، وزیر مملکت خارجہ امور، اور سینئر حکام پر مشتمل وفد بھی وزیر اعظم کے ہمراہ تھا۔ یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کے باقاعدہ تبادلوں کا حصہ تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان وسطی ایشیاء کے ساتھ اپنے تاریخی رشتوں کو بہت اہمیت دیتا ہے، اور خطہ کے تمام ممالک کے ساتھ باہمی طور پر مفید تعاون کو وسعت دینے کے لیے پر عزم ہے۔ صدر رحمانوف تاجکستان کی اقتصادی ضروریات کی تکمیل کے لیے پاکستان سے قریبی اقتصادی تعلقات کے نئے امکانات پر یقیناً اطمینان کا اظہار کریں گے کیونکہ دونوں ملکوں کو کئی شعبوں میں تعمیر نو اور اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ وسطی ایشیاء مستقبل کا عظیم ترین اقتصادی کوریڈور ہے جب کہ تاجکستان کو داخلی سیاسی استحکام کے بعد اب ہمہ جہتی معاشی ترقی کے لیے عالمی تعاون کی اسی قدر ضرورت ہے جتنی پاکستان کو ملک گیر انفرااسٹرکچر کے مزید پھیلائو اور غربت کے خاتمے کی ہے۔

توانائی و دہشت گردی کا عالمی مسئلہ سب کو درپیش ہے مگر ہمارے خطے میں انتہا پسندی، توانائی کے مسائل، غربت، سماجی پسماندگی کا خاتمہ اور باہمی بقا و سلامتی کے امور پر اتفاق ایک اہم پیش رفت بن سکتی ہے۔ اسے ترجیحی بنیادوں پر نتیجہ خیز بنانا چاہیے۔ اس میں شک نہیں کہ تاجکستان دنیا سے رابطہ کے لیے گوادر پورٹ تک رسائی کو اپنے لیے نعمت سے کم نہیں سمجھے گا بشرطیکہ دنوں طرف سے معاشی تعاون کے ایسے منصوبے بروئے کار لائے جائیں جن سے دونوں ملکوں کے عوام کو فائدہ ہو۔

ایک طرف تاجکستان سے اہل پاکستان کی محبت کا تاریخی حوالہ بھی موجود ہے جب کہ ماضی میں سمر قند و بخارا کی مسلم تہذیب اور خطے کی تزویراتی حرکیات سے برصغیر کبھی الگ نہیں رہا، مسلم فاتحین نے وسط ایشیا میں اپنا جو بھی تاریخی کردار ادا کیا اسے پاک و ہند کی موجودہ تاریخی تناظر میں ایک وسیع باب کا درجہ حاصل ہے۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جنھوں نے سب سے پہلے تاجکستان کو تسلیم کیا، پاک تاجکستان سفارتی تعلقات 1992 میں قائم ہوئے جو وقت کے ساتھ ساتھ مستحکم تر ہوتے گئے، پاکستان اور تاجک صدر کے مابین مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون میں اضافہ کے لیے کئی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی دستخط ہوئے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشتگردی کی لعنت کا خاتمہ ہماری سماجی اور اقتصادی ترقی کے لیے ضروری ہے، حکومت نے ان خطرات کے مقابلے کے لیے اعلیٰ سطح پر تعاون میں مزید اضافہ کا عہد کیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان، تاجکستان، افغانستان منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ کا عالمی روٹ مانا جاتا ہے چنانچہ پاکستان اور تاجکستان کی منشیات کی اسمگلنگ، سرحد پار منظم جرائم اور انسانی اسمگلنگ پر تشویش بلاوجہ نہیں، اور ان برایوں کو روکنے کے لیے اجتماعی جدوجہد کا دو طرفہ عہد یہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ملک ان اہم مسائل کے خاتمہ کے لیے بڑا عزم رکھتے ہیں۔ منشیات اور منظم جرائم کی مافیائوں کے عالمی راستے بند ہوجائیں تو خطے میں پوست کی کاشت، مارفین، ہیروئن، چرس اور دیگر مہلک منشیات کی تیاری اور تجارتی شہ رگ کٹ سکتی ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ علاقائی حوالہ سے ہمیں افغانستان کی صورتحال کا سامنا ہے، ایک مستحکم، پر امن، اور متحد افغانستان ہمارے خطے کی ترقی اور استحکام کے لیے بے انتہا ضروری ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے کہا کہ افغانستان کے حوالہ سے دو طرفہ مشاورت کو مزید فعال بنانے کی بات ہوئی ہے۔ اور اس بات پر اتفاق ہوا کہ افغانستان کی داخلی صورتحال امن کی متقاضی ہے۔ یہ امر خوش آیند ہے کہ، دونوں ممالک کے ''کاسا 1000'' تاجک پراجیکٹ کی جلد تکمیل کو بڑی اہمیت دیتے ہیں، جس کی بدولت پاکستان اپنی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے تاجکستان سے 1000 میگاواٹ بجلی درآمد کرے گا۔

وزیر اعظم نے تاجکستان کے صدر رحمانوف کو پاکستان کا دورہ کرنے دعوت بھی دی جو انھوں نے قبول کر لی۔ تاجکستان توانائی کے وسائل کو استعمال کرنے کے لیے منصوبوں کی تیاری میں مصروف ہے، اس کے دو دریا وخش اور پنج ہائیڈرو پاور کے دو اہم پراجیکٹ ہیں، دنیا کے بلند ترین ڈیمز میں سے ایک ''نیوریک''تاجکستان میں ہے۔ وہ بلند ترین چوٹیوں سے گھرا لینڈ لاکڈ ملک ہے، کپاس اور المونیم اس کی برآمدات میں اہمیت کے حامل ہیں، تاجکستانی محنت کش پاکستانیوں اور ہنر مند افرادی قوت کی طرح ترسیلات زر کے ضمن میں اپنے ملک کی معاشی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرتے ہیں جس سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ دونوں ملکوں کو اقتصادی اور سماجی شعبے میں ترقی اور وسعت کے امور پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

پاکستان بھی ان خوش نصیب ملکوں میں سے ہے جس کے بیرون ملک مقیم ہنرمند ترسیلات زر میں کبھی پیچھے نہیں رہتے، قومی معیشت میں ان کا کنٹری بیوشن انتہائی اہم ہے۔ اس تناظر میں ن لیگ کی حکومت نے معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے 2013-16ء کے لیے درمیانی مدت کا بجٹ فریم ورک بھی تیار کیا ہے۔ اس تجربے سے تاجکستانی انتظامیہ کو بھی استفادہ اور ان پٹ لینے کا موقع دیا جا سکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے حکومت نے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر مارچ 2014ء کے آخر تک 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا وعدہ کیا تھا اور اس ہدف کو حاصل کر لیا گیا جب کہ ستمبر 2014ء تک انھیں 15 ارب ڈالر تک لے جانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

پاکستانی برآمدات بڑھ کر 209 ارب ڈالر ہو گئیں، غیر ملکی ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا جو اپریل 2014ء کے اختتام پر 12.89 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ کراچی اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس بلند سطح پر پہنچ گیا جو 29 مئی 2014ء کو 29543 پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا ۔ حکومت نے پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر 111 روپے سے کم کر کے 98.5 روپے پر لانے میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔

ترسیلات زر جو 2012-13ء میں 11.57 ارب ڈالر تھیں بڑھ کر رواں مالی سال میں 12.89 ارب ڈالر ہو گئیں۔ برآمدات جو 2012-13ء میں 19.4 ارب ڈالر تھیں بڑھ کر 2013-14ء میں 20.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ وزیر اعظم نواز شریف کے لیے یہ اعداد و شمار دوسروں کو پیش کرنے کے لیے باعث اطمینان تو ہوںگے ہی تاہم تاجکستان کے حکام بھی اس مالیاتی اور معاشی پیش قدمی کو بہ نظر احسن دیکھتے ہوئے پاک تاجکستان مشترکہ اقتصادی تعاون کو دیر پا اور مفید جہتیں عطا کرنے میں مزید پیش رفت کر سکتے ہیں۔