ضرب عضب بڑی زمینی کارروائی کی تیاریاں

ضروری ہو گیا تھا کہ ملک کی سالمیت اور بقا کے لیے مذاکرات کا راستہ چھوڑ کر آپریشن شروع کیا جائے


Editorial June 20, 2014
ضروری ہو گیا تھا کہ ملک کی سالمیت اور بقا کے لیے مذاکرات کا راستہ چھوڑ کر آپریشن شروع کیا جائے۔ فوٹو: فائل

شمالی وزیرستان میں پاک فوج کی جانب سے بڑی زمینی کارروائی کی تیاریاں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق آپریشن ضرب عضب میں کارروائیوں کے دوران میر علی اور دیگر علاقوں میں عسکریت پسندوں کے 60 فیصد سے زائد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں اور شمالی وزیرستان کے 40 فیصد سے زائد علاقے کو خالی کرا لیا گیا ہے۔ دوسری جانب شمالی وزیرستان میں دو ڈرون حملوں میں 6 افراد ہلاک ہو گئے۔

بگڑتے ہوئے ملکی حالات اور دہشت گردی کی کارروائیاں جس نہج پر پہنچ گئی تھیں اس میں یہ ضروری ہو گیا تھا کہ ملک کی سالمیت اور بقا کے لیے مذاکرات کا راستہ چھوڑ کر آپریشن شروع کیا جائے کیونکہ مذاکرات سے کچھ حاصل نہیں ہو رہا تھا۔ ابتدا میں حکومت نے یہ بھرپور کوشش کی کہ آپریشن کی نوبت ہی نہ آئے اور مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل ہو جائے مگر تحریک طالبان نے مذاکرات کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی اداروں پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا اور حکومت سے اپنی من مانی شرائط تسلیم کرانے کے لیے دہشت گردی کی کارروائیوں کو ایک حربے کے طور پر استعمال کرتے رہی۔

اس دوران بھی حکومت بعض لوگوں کے کہنے پر مذاکرات کو ترجیح دیتی رہی۔ تاہم مذاکرات کے دوران پوری قوم ابہام کا شکار رہی۔ دہشت گردوں نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھایا اور آگے بڑھ کر کراچی ایئر پورٹ پر حملہ کر دیا۔ اس واقعے سے پوری دنیا میں پاکستان کے بارے میں اچھا تاثر نہیں ابھرا اور ملکی ساکھ کو دھچکا لگا۔ اب حکومت کے لیے ضروری ہو گیا تھا کہ وہ مذاکرات کا راستہ چھوڑ کر آپریشن کا راستہ اپنائے۔ لہٰذا وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے 16 جون کی شام قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپنے پالیسی بیان میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع کرنے کا اعلان کیا۔

انھوں نے موقف اختیار کیا کہ ہم نے امن کو ایک موقع دینے کے لیے مذاکرات شروع کیے لیکن مذاکرات اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ آپریشن ضرب عضب کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ آپریشن حتمی مقاصد کے حصول تک جاری رہے گا، اس کا فیصلہ سیاسی اور عسکری قیادت کی مشاورت سے کیا گیا۔ اس وقت وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب نہایت کامیابی سے جاری ہے۔

خبر کے مطابق ایک سینئر سیکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ میران شاہ اور میر علی کے قصبوں سے عام لوگوں کے انخلا کے بعد زمینی فوج ان علاقوں میں داخل ہو جائے گی، اس کے بعد وہ دیہاتوں اور پہاڑوں کا رخ کرے گی اور یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ ہر عسکریت پسند کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ بلاشبہ شمالی وزیرستان ایک مشکل علاقہ ہونے کے باعث یہاں آپریشن کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں اور یہ دہشت گردوں کی آخری اور محفوظ پناہ گاہ ہے لیکن یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ پاک فوج اپنی اعلیٰ تربیت اور مہارت کی بدولت خطرات پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع ہونے کے بعد اس بات کا خطرہ بھی موجود ہے کہ دہشت گرد یہاں سے بھاگ کر ملک کے دوسرے علاقوں میں پناہ لے لیں۔ اس خطرے سے حکومت بخوبی آگاہ ہے اور اس نے ملک بھر میں سیکیورٹی اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ یہ اطلاعات بھی آئی ہیں کہ سیکیورٹی اداروں نے اسلام آباد میں ٹارگٹڈ آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس آپریشن میں پولیس کے ساتھ رینجرز بھی حصہ لے گی۔ ضرورت پڑنے پر فوج سے بھی مدد لی جا سکے گی۔ ذرایع کے مطابق پہلے مرحلے میں دیہی علاقوں میں آپریشن ہو گا جس کے دوران گھر گھر تلاشی لی جائے گی۔

افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد ملک بھر کے مختلف علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق ان افغان بستیوں میں ناجائز اسلحے اور منشیات کی بھرمار ہے اور افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد مختلف قسم کے جرائم میں ملوث ہے۔ لہٰذا حکومت کو امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے ان افغان بستیوں کے خلاف بھی آپریشن کرنا ہو گا۔ یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ بہت سے افغانوں نے غیر قانونی طور پر پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کر رکھے ہیں۔یہ افغان بستیاں دہشت گردوں کے لیے بہترین پناہ گاہ ہیں۔ لہٰذا دہشت گرد مختلف شہروں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر کے حکومت پر دبائو بڑھانے کی کوشش کریں گے۔

ان کی ان ممکنہ مذموم کارروائیوں کو ناکام بنانے کے لیے ملک بھر میں پھیلی افغان بستیاں کے خلاف آپریشن وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ کراچی ایئر پورٹ پر ہونے والے حملے کے بعد یہ بات بھی سامنے آئی کہ ازبک جنگجو اور طالبان مشترکہ طور پر اہم اداروں پر حملے کرنے میں ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان کے علاقے میں ازبک جنگجوئوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ اس علاقے کو انتہا پسندوں سے پاک کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ آپریشن ضرب عضب کو حتمی مقاصد تک جاری رکھا جائے۔

فوج نے ہر مشکل موقع پر ملکی سلامتی کے لیے قربانیاں دی ہیں اور اب بھی وہ ملک کو دہشت گردوں سے پاک کرنے اور امن و امان کی صورت حال کو یقینی بنانے کے لیے میدان عمل میں مصروف ہے۔ اطلاعات کے مطابق شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے ٹینکوں اور جیٹ طیاروں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں فوجی تعینات کر دیے گئے ہیں۔ ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تمام تر گروہی مفادات سے بلند تر ہو کر پاک فوج کی ببانگ دہل حمایت کا اعلان کریں جب تک دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا پاکستان میں امن و امان قائم نہیں ہو سکتا۔