وزیر اعظم کی اپوزیشن کو تلقین

وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ ہے


Editorial June 21, 2014
بلاشبہ اس وقت پاک فوج شمالی وزیرستان میں آپریشن کر رہی ہے، فوٹو؛فائل

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے گزشتہ روز اسلام آباد میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کیا جب کہ پشاور میں ضرب عضب آپریشن کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کی بریفنگ میں شرکت کی۔ کور ہیڈکوارٹرز پشاور میں ''آپریشن عضب'' کے بارے میں بریفنگ کے موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے شروع کیا گیا آپریشن منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ ہے، وزیر اعظم آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ساتھ خصوصی دورے پر پشاور پہنچے تھے جہاں انھیں کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل خالد ربانی نے آپریشن پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ آپریشن کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ دہشت گرد افغان موبائل فون سمز کا اپنے رابطوں کے لیے استعمال کرتے تھے اس کا توڑ کرتے ہوئے پورے علاقے میں مواصلاتی نظام جام کر دیا گیا ہے۔

وزیر اعظم اور آرمی چیف کو یہ بھی بتایا گیا کہ افغانستان میں پاکستان سے فرار ہونیوالے دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں اور اس ضمن میں افغانستان کے علاوہ بعض دیگر غیر ملکی قوتیں بھی پاکستان کے خلاف سرگرم عمل ان دہشت گردوں کو مالی اور فوجی امداد فراہم کر رہی ہیں لہٰذا ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے یہ آپریشن ناگزیر تھا ورنہ ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔ آرمی چیف نے کہا کہ فوج آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رکھے گی اور اب دہشت گردوں کو پورے ملک میں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔

وزیر اعظم نے عسکری قیادت کو بتایا کہ پاکستان کی طرف سے افغانستان پر واضح کر دیا گیا ہے کہ پاکستان سے فرار ہونیوالے دہشت گردوں کو اگر وہاں پناہ دی گئی تو اسے برداشت نہیں کیا جائیگا جس پر افغان صدر حامد کرزئی نے یقین دلایا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے دیا جائیگا نہ پاکستان سے فرار ہو کر آنے والے کسی دہشت گرد کو پناہ لینے دی جائے گی۔

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اسلام آباد میں لیپ ٹاپ اسکیم سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو غیر قانونی اسلحے سے پاک کرنے کے عزم کا اعلان کیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ مخالفین ٹانگیں مت کھینچیں، پانچ سال پورے کرنے دیں تا کہ ملک کی تقدیر بدلی جا سکے۔ توانائی کے بحران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے دور حکومت میں ملک سے بجلی کا بحران ختم کر کے پانچ سال میں بجلی کی کمی پوری کر دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ذمے داری کا ثبوت دینا چاہیے کیونکہ ایک پارٹی دھرنے کی بات کرتی ہے تو دوسری سب الٹنے کی بات کر رہی ہے۔ ان کا اشارہ شاید عمران خان اور طاہر القادری کی طرف تھا۔

انھوں نے اپوزیشن کے دوران اپنی پارٹی کے رویے کی مثال دیتے ہوئے یاد دلایا کہ ہم نے تو گزشتہ حکومت کے خلاف کبھی دھرنے دیے نہ ہڑتالیں کیں، آخر دھرنوں کے خواہشمند کون سا انقلاب لانا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا اگر ان کی حکومت کو اپنا مینڈیٹ پورا کرنے کاموقع ملا تو وہ ملک سے لاقانونیت ختم کر دیں گے۔ وزیر اعظم نے دیگر سیاسی گروپوں سے اپیل کی کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کو ترقی کا ایجنڈا مکمل کرنے کی مہلت دیں۔ انھوں نے کہا بعض عناصر انقلاب کے نام پر ملک کو واپس تاریکی کے دور میں دھکیلنا چاہتے ہیں حالانکہ قومی ترقی کے سفر میں رکاوٹیں ڈالنے کا کوئی جواز نہیں۔

وزیراعظم میاں نواز شریف نے دونوں مواقع پر جو کچھ کہا ہے وہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ بلاشبہ اس وقت پاک فوج شمالی وزیرستان میں آپریشن کر رہی ہے، اس آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے حکومت اور قوم کا پاک فوج کی پشت پر کھڑا ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ہے۔ اب دوسرا معاملہ افغانستان کا ہے۔ افغانستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے کبھی مثبت کردار ادا نہیں کیا۔ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والے دہشت گرد افغانستان کے مختلف علاقوں میں پناہ گزین ہیں لیکن افغان حکومت نے اس حوالے سے کبھی مثبت رول ادا نہیں کیا۔

اب حامد کرزئی کا چل چلاؤ ہے، ان سے اپیل یا مذکرات کا فی الحال فائدہ نہیں کیونکہ افغانستان کا نظام بھی وہاں کے مختلف طاقتور گروپ چلا رہے ہیں جو پاکستان مخالف ہونے کی تاریخ رکھتے ہیں۔ بہرحال اتمام حجت کے لیے حامد کرزئی سے بات کرنا درست بات ہے لیکن ادھر سے کسی وعدے پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے اور پاکستان کو اپنی قوت کے بل بوتے پر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنا چاہیے۔ پاک فوج نے اب تک دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں کی ہیں اور وہ اس آپریشن میں یقیناً سرخرو ہو گی۔

جہاں تک وزیراعظم میاں نواز شریف کا دھرنوں اور احتجاج کے حوالوں سے بات کا معاملہ ہے تو جمہوریت میں ہر سیاسی جماعت کا حق ہوتا ہے کہ وہ حکومت کو راہ راست پر رکھنے کے لیے اگر ضرورت سمجھے تو جلسہ منعقد کر سکتی ہے، جلوس نکال سکتی ہے اور دھرنے دے سکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ یہ پرامن ہو اور اس کا مقصد جمہوریت مخالف نہ ہو۔ وزیر اعظم کا یہ کہنا درست ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران مثبت اپوزیشن کا کردارا دا کیا۔ اس لیے ضروری ہے کہ موجودہ حکومت کی اپوزیشن کرنے والی سیاسی قوتیں بھی جمہوریت کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ واضح کریں اور کوئی ایسا اقدام نہ کریں جس سے جمہوریت ڈی ریل ہونے کا خدشہ پیدا ہو۔