دہشت گردی کا خاتمہ قوم پر عزم

دہشت گردی کے عفریت سے نجات پانے کے لیے ملکی سیاسی و عسکری قیادت قومی امنگوں سے بدستور ہم آہنگ ہے


Editorial June 28, 2014
حافظ گل بہادر نے اب تک ہتھیار نہیں ڈالے، اور جو بھی ہتھیار اٹھائے گا اس کے خلاف کارروائی ہو گی، فوٹو: فائل

دہشت گردی کے عفریت سے نجات پانے کے لیے ملکی سیاسی و عسکری قیادت قومی امنگوں سے بدستور ہم آہنگ ہے جب کہ تاریخ کے اس نازک موڑ پر آپریشن ضرب عضب کا آغاز پاکستان کے لیے وجودی خطرہ بننے والی طاغوتی قوتوں سے نمٹنے کا درست وقت میں جرات مندانہ فیصلہ ہے، اور احساس زیاں کا بہت ہی حساس دورانیہ ہے، بقا کی اس جنگ کے وسیع تر تناظر میں آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کا آپریشن کے بارے میں جو بیان آیا ہے وہ زمینی حقائق کے ادراک کا ایک کرسٹل کلیئر آئینہ ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان سے شہری آبادی کا انخلا مکمل ہو چکا ہے مگر پھر بھی دو سو فیصد یقینی بنانے کے لیے کہ کوئی عام شہری اندر نہ رہ جائے ابھی زمینی کارروائی کے آغاز کے حوالے سے کوئی وقت یا تاریخ نہیں دی جا سکتی، انھوں نے واضح عسکری حکمت عملی بیان کی ہے اور دہشت گردوں سے جنگ کا بگل بج چکا ہے جب کہ آیندہ 48 گھنٹوں میں زمینی آپریشن کا امکان ہے۔ ایک اور مغالطہ اور ابہام بھی یہ کہہ کر دور کیا گیا کہ دہشت گردوں کے فرار ہونے یا آپریشن سے قبل ہی نکل جانے کی خبریں غلط ہیں۔ فوجی ترجمان کے مطابق شمالی وزیرستان میں آپریشن بلا امتیاز ہو گا۔

کسی سے اس بات پر رعایت نہیں برتی جائے گی کہ اس کا حقانی نیٹ ورک یا کسی اور گروپ سے کوئی تعلق ہے، حافظ گل بہادر نے اب تک ہتھیار نہیں ڈالے، اور جو بھی ہتھیار اٹھائے گا اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔ یہ وضاحتیں اس لیے بھی ناگزیر تھیں کہ مغربی میڈیا اور داخلی دشمن کے ایجنٹ حقانی نیٹ ورک سمیت دیگر سیاسی جماعتوں اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کے حوالے سے تزویراتی افسانے اور دہشت گردوں کی دیومالائی مزاحمت کی من گھڑت کہانیاں لکھنے میں مصروف ہیں، پاک فوج کے آپریشن ''ضرب عضب'' کے شروع ہونے کے بعد اس قسم کی فرضی داستانوں کو سننے یا پڑھنے کی اب کسی کو ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بہ شانہ کھڑی ہے، وطن عزیز کے کروڑوں شہری دہشت گردی کی شکست اور امن و آشتی، ترقی و خوشحالی کے ایک نئے دور کو ملک کا مقدر بنتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

یہ آپریشن 4 مراحل میں مکمل ہو گا، صحافیوں کو بریفنگ میں آئی ایس پی آر کے سربراہ نے مزید چشم کشا تفصیل بتائی اور کہا کہ شمالی وزیرستان آپریشن پاکستان کی بقا کی جنگ ہے، یہ علاقہ ہر قسم کے دہشت گردوں کا گڑھ اور ملک بھر میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کا محور بن چکا تھا، آپریشن ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کا آغاز ہے، پاکستانی عوام دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں، قوم اس آپریشن کی کامیابی کے لیے اپنا کردار ادا کرے، اب تک 327 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں، 21 دہشت گردوں نے خود کو فوج کے حوالے کیا جب کہ دہشت گردوں کے 45 ٹھکانے بھی تباہ کیے جا چکے ہیں، شمالی وزیرستان آپریشن سو فیصد پاکستان کا اپنا آپریشن ہے۔

امریکا کے ساتھ مل کر کوئی کارروائی ہو رہی ہے اور نہ ہی ڈرون حملے پاکستان کی مدد سے ہو رہے ہیں، افغان حکومت سے ہر سطح پر وہاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خاتمے اور سرحد پر سیکیورٹی انتظامات سخت کرنے کی درخواست کی ہے، ان سے کہا ہے کہ ہر فرار ہونے والے دہشت گرد کو گرفتار یا ختم کیا جائے، ابھی تک تو افغان حکام نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے اقدامات نہیں کیے مگر چونکہ ابھی آپریشن کا آغاز ہے اس لیے افغانستان کے تعاون کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔ تاہم دوسری جانب پاکستان نے افغانستان سے پُر زور مطالبہ کیا ہے کہ شمالی وزیرستان آپریشن کے دوران سرحد پر سیکیورٹی انتظامات سخت کیے جائیں اور افغان صوبوں کنڑ اور نورستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان کی قیادت بشمول مولوی فضل اللہ کے خلاف کارروائی کی جائے۔

افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر رنگین دادفر سپانتا نے جمعرات کو اسلام آباد کا دورہ کیا، انھوں نے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی اور انھیں افغان صدر حامد کرزئی کا خط پہنچایا۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق افغان مشیر قومی سلامتی نے وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و خارجہ امور سرتاج عزیز کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات کیے، افغان مشیر نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے بھی ملاقات کی۔

دفتر خارجہ سے جاری مشترکہ اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور افغانستان نے سیکیورٹی کے اہم معاملے پر ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے جب کہ دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے پریس بریفنگ میں کہا کہ افغان حکومت کی ذمے داری ہے کہ آپریشن ''ضرب عضب'' کے دوران دہشت گردوں کے فرار ہو کر افغانستان میں داخلے کو روکنے کے لیے خصوصی اقدامات اور سرحد پر سیکیورٹی سخت کرے۔ جنرل باجوہ نے کہا کہ زمینی کارروائی میں فوج کو دہشت گردوں کی جانب سے مزاحمت مل سکتی ہے مگر فوج نے اپنی مکمل تیاری کر رکھی ہے۔

ادھر دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب پوری قوت سے جاری ہے، پاک فوج کے جوانوں نے شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کا محاصرہ کیا ہوا ہے، شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن میں جیٹ طیاروں کی بمباری سے مزید 11 دہشت گرد مارے گئے، دہشت گردوں کے 6 ٹھکانوں کو بھی تباہ کر دیا گیا۔ بلاشبہ آپریشن کا تسلسل جاری رہا تو کوئی وجہ نہیں کہ جو کام حکمرانوں کو ایک عشرہ پہلے کرنا چاہیے تھا وہ آیندہ چند ماہ میں کامیابی سے ہمکنار نہ ہو، چنانچہ کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ کا کہنا ہے کہ قوم کو دہشت گردی سمیت بڑے چیلنجز کا سامنا ہے' تمام لوگوں کو متحد ہو کر ان چیلنجز سے نمٹنا ہوگا۔

فوج نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کو گلے سے پکڑ لیا ہے' وہ جمعرات کو یہاں فوج سے دہشت گردی سے نمٹنے کی تربیت حاصل کرنے والے 250 پولیس اہلکاروں کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ ادھر دفتر خارجہ نے بعض اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان سے فوجی آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے والے بے گھر افراد کی دیکھ بھال حکومت خود کر رہی ہے، اس حوالے سے کوئی عالمی اپیل نہیں کی گئی۔

دنیا کو جہاں آپریشن کے حوالے سے آگاہ کرنا تھا وہاں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی گئی بلکہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھی آگاہ کیا ہے کہ شمالی وزیرستان آپریشن دہشت گردوں پر ضرب لگانے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ صدر نے انسداد دہشت گردی ترمیمی ایکٹ 2014ء پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت مسلح افواج اور پولیس کے افسر کو مشتبہ دہشت گرد پر گولی چلانے کا اختیار دیا گیا ہے جب کہ سینٹ اور قومی اسمبلی کے پیر کو ہونے والے اجلاسوں میں مسلح افواج کو ان کی قربانیوں پر خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔ یہ حقائق منکشف کر رہے ہیں کہ ملک دہشت گردی کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا اس لیے آپریشن ضرب عضب فیصلہ کن راست اقدام ہے۔