شمالی وزیرستان میں زمینی آپریشن

پاک فوج نے شہری آبادی کے انخلاکے بعد قبائلی ایجنسی شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں


Editorial July 01, 2014
زمینی کارروائی کے دوران فوجی جوانوں نے بارودی سرنگیں بنانے والی فیکٹریاں تباہ کر دیں۔ فوٹو اے ایف پی/فائل

پاک فوج نے شہری آبادی کے انخلاکے بعد قبائلی ایجنسی شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں باقاعدہ زمینی کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پیر کو گھر گھر سرچ آپریشن کیا گیا جس کے نتیجے میں 15دہشت گرد مارے گئے جب کہ 2 اہلکار بھی فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہوئے، آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں پیر کوشہری آبادی کا انخلا مکمل ہوگیا ، انفینٹری کے دستوں اور اسپیشل سروس گروپ نے گھر گھر تلاشی مہم میں حصہ لیا۔زمینی کارروائی کے دوران فوجی جوانوں نے بارودی سرنگیں بنانے والی فیکٹریاں تباہ کر دیں جب کہ اب تک کلیئر کیے گئے علاقے میں سرنگیں بھی دریافت ہوئی ہیں۔

پاک فوج نے 15 جون 2014 کو شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کیا تھا' ابتدائی حکمت عملی کے تحت دہشت گردوں کے ٹھکانوںپر فضائی حملے کیے گئے اور وہاں سے شہری آبادی کا انخلا ممکن بنایا گیا ہے' اب فورسز نے میران شاہ سے زمینی کارروائی کا آغاز کیا ہے' یقیناً شمالی وزیرستان کا آپریشن آسان نہیں ہے۔ دہشت گردوں نے ایک عرصے تک اس قبائلی ایجنسی پر قبضہ کیے رکھا ہے۔ انھوں نے اس علاقے میں مضبوط مورچے اور پناہ گاہیں تعمیر کر رکھی ہیں' ان کی طاقت اور اس علاقے پر کنٹرول کا اندازہ یوں ہوتا ہے کہ انھوں نے وہاں بارودی سرنگیں بچھانے والی فیکٹریاں تعمیر کر رکھی تھیں' اس کا مطلب یہ ہے کہ ان دہشت گردوں نے شمالی وزیرستان میںبڑے پیمانے پر بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہوں گی۔

اس لیے پاک فوج کو اس علاقے میں خاصی جدوجہد کرنا پڑے گی' حوصلہ افزا امر یہ ہے کہ پاک فوج کی حکمت عملی بہت اچھی جا رہی ہے' شمالی وزیرستان میں فوج بڑی تیزی سے کامیابیاں حاصل کر رہی ہے' زمینی کارروائی کے نتیجے میں اس علاقے میں موجود دہشت گردوں کا صفایا ہو جائے گا' زیادہ امکان یہ ہے کہ آیندہ پانچ چھ ہفتوں میں فوج شمالی وزیرستان کو دہشت گردوں سے کلیئر کردے گی' اس کے بعد حکومت کا اصل کام شروع ہوگا۔ سب سے پہلا کام شمالی وزیرستان سے بے گھر ہو کر ملک کے دیگر علاقوں میں پناہ گزین افراد کی واپسی ہے' اس سے بھی پہلے انھیں مناسب امداد اور ریلیف فراہم کرنا ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق اس وقت ملک بھر میں 55 ریلیف سینٹر قائم ہیں۔ جن کے ذریعے بے گھر افراد کی مدد کی جا رہی ہے۔ پوری قوم کو چاہیے کہ وہ آئی ڈی پیز کی مدد میں حصہ لے' یہ مشکل وقت ہے اور جلد ہی یہ گزر جائے گا' شمالی وزیرستان سے پہلے سوات اور پھر جنوبی وزیرستان میں آپریشن ہو چکے ہیں اور یہ آپریشن اپنے نتائج کے اعتبار سے خاصے کامیاب رہے ہیں۔ ان علاقوں کے آئی ڈی پیز بھی گھروں کو واپس جا چکے ہیں۔ اس لیے شمالی وزیرستان سے آنے والے بھی جلد گھروں کو واپس چلے جائیں گے اور وہاں امن بھی ہو گا۔ اس سے اگلا مرحلہ مرکزی اور صوبائی حکومت کی کارکردگی ہے۔

شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بعد اس کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے' اسے سمجھنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے ماتحت سیکیورٹی ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں غیر معمولی کردار ادا کریں' ان کی مدد وفاقی ایجنسیاں اور آرمی ایجنسی کرے تو ملک کے دیگر علاقوں میں چھپے دہشت گردوں کی سرکوبی کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بعد دہشت گردوں کا آخری ٹھکانہ ختم ہو گیا ہے جہاں وہ پوری آزادی کے ساتھ کام کررہے تھے' اب اگر کسی دہشت گردگروپ نے کارروائی کرنی ہے تو اسے انتہائی مشکل حالات کا سامنا ہے' ملک کی سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیاں متحرک ہوں تو انھیں کسی کارروائی سے پہلے ہی انجام تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ قوم کا بھی فرض ہے کہ وہ بھی حالات کا ادراک کرے اور مشکوک افراد پر نظر رکھے' اگر عوام ساتھ دے تو وطن عزیز کو دہشت گردی سے ہمیشہ کے لیے نجات دلائی جا سکتی ہے۔ دنیا کے بہت سے ملک دہشت گردی کا شکار رہے ہیں لیکن ان ممالک کی حکومتوں اور عوام نے متحد ہو کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور اپنے وطن کو پرامن بنایا۔ سری لنکا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔

سری لنکا نے برسوں تامل ٹائیگرز کی بغاوت اور دہشت گردی کا سامنا کیا' پھر وہ وقت آیا کہ سری لنکن حکومت اور آرمی فتح یاب ہوئی اور تامل ٹائیگرز ختم ہو گئے' آج سری لنکا جنوبی ایشیاکا تیزی سے ترقی کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ پاکستان کو بھی کم و بیش ایسے ہی حالات کا سامنا ہے۔ پاکستان کو بھی برسوں سے دہشت گردی کا سامنا ہے۔ دہشت گردوں نے ہزاروں افراد کو شہید کر دیا لیکن پاک آرمی نے ان کا تعاقب جاری رکھا' پہلے انھیں سوات سے بھگایا' پھر مہمند اور دیگر علاقوں اور پھر جنوبی وزیرستان سے ان کی حکومت ختم کی اور اب ان کا آخری ٹھکانہ شمالی وزیرستان بھی ختم ہو گیا ہے' لہٰذا برسوں کے مصائب کا خاتمہ اب زیادہ دور نہیں ہے۔