دکھوں کا مداوا ذمے داری کس کی

وطن عزیز میں آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی کے ہاتھوں سب پریشان ہیں


Editorial July 02, 2014
منگل کو سپریم کورٹ نے غریب اورکم مراعات یافتہ طبقے کو رعایتی نرخ پرآٹے اور اشیائے خورونوش کی فراہمی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو آخری مہلت دی. فوٹو: اے ایف پی/فائل

وطن عزیز میں آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی کے ہاتھوں سب پریشان ہیں،قیمتوں میں من مانے اضافے کا رجحان تاجر اورصنعتکار طبقے کو امیر سے امیر تربنا رہا ہے جب کہ غریب ،غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا حکومت کی اولین ذمے داری ہے ، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس سے خود کو بری الذمہ سمجھتی ہیں۔

اسی ساری صورتحال کا اظہار سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان بھی کر رہے ہیں، منگل کو سپریم کورٹ نے غریب اورکم مراعات یافتہ طبقے کو رعایتی نرخ پرآٹے اور اشیائے خورونوش کی فراہمی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو آخری مہلت دی اور تمام رپورٹس مسترد کرتے ہوئے حکم دیا کہ اس دوران تمام حکومتیں قابل عمل پروگرام بنا کراس کا اطلاق کریں،گو کہ اس موقعے پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کے سامنے اشیائے خورونوش پر عوا م کو 17ارب روپے سبسڈی دیے جانے کا ذکرکیا توجسٹس جواد نے کہا کہ 8 مہینے ہوگئے ابھی تک سستے آٹے کے لیے کوئی قابل عمل پروگرام نہیں بنایا جا سکا، کیا حکومتیں اپنی ذمے داریوں سے بری ہوگئی ہیں؟

پاکستان بنیادی طور پر زرعی ملک ہے،گندم بھی وافرمقدارمیں پیدا ہوتی ہے،لیکن عوام کو آٹا مہنگا ہی ملتا ہے کیونکہ گندم زیادہ تر افغانستان اسمگل ہوجاتی ہے، یا پھر سرکاری گوداموں میں پڑی سڑتی رہتی ہے یہی وجہ ہے کہ عوام کو آٹا بہت مہنگا ملتا ہے۔ وفاق کی بے نیازی اپنی جگہ صوبوں کی لاپرواہیوں کی سزا بھی عوام بھگت رہے ہیں ۔دوران سماعت جب ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے عدالت کو بتایا کہ بجٹ میں مستحقین کے لیے5ارب کی سبسڈی دی گئی، اس مقصد کے لیے کمیٹی قائم کردی گئی ہے، تو جسٹس جواد نے کہا کہ یہ کمیٹیو ں کا وقت نہیں، لوگ بھوکے مررہے ہیں، جس صوبے سے تبدیلی کی امید تھی وہ بھی کمیٹیوں میں لگا ہے، حقیقت تو سب پر عیاں ہے۔

دوران سماعت معزز ججز صاحبان کے ریمارکس تھے کہ ڈالر کی سوچ سے نکلیں گے توملک اور عوام کا بھلا کر سکیں گے، افسران ملک کے حقائق سے بے خبر بین الاقوامی رپورٹس کو آگے پیچھے کرکے کاغذی پروگرام بنا دیتے ہیں۔ عدالت نے اپنے حکمنامے میں کہا ہے کہ سیکریٹری خوراک اپنی تجاویزکے ساتھ پیش ہوں جن میںعملی طریقے بتائے گئے ہوں جس سے عام لوگوں تک سستا آٹا پہنچ سکے۔غربت کا خاتمہ اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر کنٹرول کرنا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی اولین ذمے داری بنتی ہے ، صرف کسی اسمبلی میں غربت کے خاتمے کا بل پیش کرنے سے غربت کیونکر ختم ہوسکتی ہیں ، آئی ڈی پیز ہوں ، سیلاب زدگان ہوں یا تھر کے بھوک اور افلاس کا شکار عوام ،ان سب کے دکھوں کا مداوا کرنا کس کی ذمے داری ہے۔

جمہوریت کے ثمرات عام آدمی تک کیوں نہیں پہنچ رہے، اشیائے خورونوش کی قیمتیں ہفتہ وار کیوں بڑھ رہی ہیں ، قیمتوں پر نگاہ رکھنے والے محکموں کے اہلکاروں کی آنکھوں پر غفلت اور ہوس کی پٹی کس نے باندھی ہے؟ ان سے باز پرس کرنے والا کوئی نہیں ۔عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی حکومت کی اولین ذمے داری ہے جس کا اسے احساس ہونا چاہیے ،عدالتوں کا قیمتی وقت من گھڑت رپورٹیں پیش کرنے اور تاخیری حربوں سے ضایع کرنے سے زیادہ اچھی بات تو یہ ہے کہ ایسا میکنزم تشکیل دیا جائے جس میں عوام کو سستے آٹے سمیت دیگر اشیائے خورونوش سستے داموں مل سکیں کیونکہ اگر حکومت شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں ناکام رہے گی تو پھر سپریم کورٹ اپنی آئینی ذمے داریوں سے چشم پوشی نہیں کرے گی ۔ پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔