آپریشن سے توجہ ہٹانے کی مذموم وارداتیں

اقبال محمود کی بطور آئی جی وفاق کو خدمات واپس دینے کے بعد سے صوبہ سندھ میں نہ تو نیا آئی جی تعینات نہیں کیا جاسکا


Editorial July 05, 2014
عدم فیصلہ کی اس صورتحال سے دہشت گرد نہ صرف سندھ بلکہ دیگر صوبوں میں بھی دہشت گردانہ کارروائی کرکے فائدہ اٹھا سکتے ہیں،فوٹو:ایکسپریس /فائل

کراچی میں صدر پارکنگ پلازہ کے قریب بم دھماکے میں موٹر سائیکل پر سوار مبینہ خودکش بمبار سمیت2 افراد ہلاک اور 2 افراد زخمی ہو گئے، سٹی پولیس کے سربراہ غلام قادر تھیبو نے صحافیوں کو بتایا کہ دھماکے کے حوالے سے کوئی انٹیلی جنس رپورٹ نہیں تھی، تاہم اس استدلال کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ دہشت گرد در حقیقت آپریشن سے توجہ ہٹانے اور اپنی موجودگی کا بزدلانہ احساس دلانے کے لیے بے گناہوں کے خون سے پیاس بجھانا چاہتے ہیں ۔

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے صدر کراچی میں پارکنگ پلازہ کے قریب دھماکے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی پر زور الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ دہشت گرد معصوم لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔ اگرچہ پولیس حکام کے مطابق دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کا مبینہ طور پر قوم پرست تنظیم سے تعلق ہوسکتا ہے اور اس حوالے سے پولیس تمام پہلوؤں پر باریک بینی سے تحقیقات کر رہی ہے ، مگر المیہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے اس انتہائی اہم اور نازک موڑ پر صوبہ سندھ انسپکٹر جنرل پولیس سے ہی محروم ہے ، سندھ حکومت کی جانب سے اقبال محمود کی بطور آئی جی وفاق کو خدمات واپس دینے کے بعد سے صوبہ سندھ میں نہ تو نیا آئی جی تعینات نہیں کیا جاسکا ،اور ہی وفاق کی طرف سے پیش کردہ 3 نئے آئی جیز کے ناموں میں سے کسی ایک پر اتفاق ہوا اس لیے عدم فیصلہ کی اس صورتحال سے دہشت گرد نہ صرف سندھ بلکہ دیگر صوبوں میں بھی دہشت گردانہ کارروائی کرکے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

کراچی میں دہشت گردی اور خیبر پختونخوا کے ضلع دیامر میں 40 مسلح افراد کا تھانہ پر ہلہ بولنے اور اہلکاروں کو رسیوں سے باندھ کر اسلحہ اور وردی لے کر فرار ہونے کے واقعات کے پس پردہ صرف دہشت گردی کے گمراہ کن عزم کا سایہ ملتا ہے ۔اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کی ملک بھر میں انٹیلی جنس شیئرنگ اور تشدد و دہشت گردی کی کسی بھی ممکنہ واردات سے پہلے گربہ کشتن روز اول کے مصداق قانون کے آہنی ہاتھ کی فوری حرکت کو یقینی بنایا جائے۔