شمالی وزیرستان میں کامیاب آپریشن جاری

شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے دوران فوج کو جس تیزی سے کامیابیاں حاصل ہو رہی


Editorial July 06, 2014
شمالی وزیرستان میں فضائی کارروائی میں درجنوں ازبک جنگجوؤں کو ہلاک، کئی ٹھکانے، غاریں اور اسلحہ و گولہ بارود کا بھاری ذخیرہ تباہ کر دیا گیا۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

WASHINGTON: شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے دوران فوج کو جس تیزی سے کامیابیاں حاصل ہو رہی اور اس کے مدمقابل انتہاپسندوں کی بڑی تعداد ہلاک یا فرار ہو رہی ہے،اس سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی پورے علاقے پر فوج کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی اور یہ علاقہ دہشت گردی سے پاک ہو جائے گا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہفتہ کے روز شمالی وزیرستان میں فضائی کارروائی میں درجنوں ازبک جنگجوؤں کو ہلاک، ان کے پانچ ٹھکانے، غاریں اور اسلحہ و گولہ بارود کا بھاری ذخیرہ تباہ کر دیا گیا۔

اس حملے سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ شمالی وزیرستان میں ابھی تک ازبک اور غیرملکی جنگجوؤں کی بڑی تعداد موجود ہے جو فوج کے خلاف مزاحمت کر رہی ہے۔ملک میں ہونے والی دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ازبک جنگجو ملوث پائے گئے ہیں۔ شمالی وزیرستان ازبکوں اور دہشت گردوں کا آخری ٹھکانہ ہے باقی پورے علاقے پر فوج کنٹرول حاصل کر چکی ہے۔ دہشت گردوں نے پورے علاقے میں بارودی سرنگوں کا جال بچھا رکھا ، ہفتے کی صبح بارودی سرنگ کے دھماکے میں ایک اور فوجی جوان شہید ہو گیا۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے فوج نے علاقے میں نصب بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے کا کام شروع کر دیا ہے۔

چند دن قبل بھی زمینی کارروائی کے دوران فوج نے بارودی سرنگیں بنانے والی فیکٹریوں کو تباہ کر دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اب تک کلیئر کیے گئے علاقوں میں بھی بارودی سرنگیں دریافت ہوئی ہیں۔ یہ صورت حال اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ دہشت گردوں نے نہ صرف اس علاقے میں بڑے پیمانے پر بارودی سرنگیں بنانے کی فیکٹریاں تعمیر کر رکھی ہیں بلکہ اسلحے کا بڑا ذخیرہ بھی جمع کر رکھا ہے۔ فوج نہایت کامیابی سے دہشت گردوں کو ہلاک اور ان کے اسلحے کے ذخیروں کو تباہ کر رہی ہے۔

بعض ذرائع کے مطابق دہشت گرد اپنی جان بچانے کے لیے مہاجرین کے روپ میں فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے فوج نے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ تمام کراسنگ پوائنٹس پر خصوصی انتظامات کر رکھے ہیں۔ بہت سے دہشت گردوں کے ہتھیار ڈالنے کی اطلاعات بھی آ رہی ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ بہت جلد مزید دہشت گرد ہتھیار ڈال دیں گے۔

فوج نے حکمت عملی کے تحت پہلے فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کیا اور پھر شہری آبادی کے انخلاء کے بعد قبائلی ایجنسی شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں باقاعدہ زمینی کارروائی کا آغاز کر دیا۔ فوج جس تیزی سے دہشت گردوں کا خاتمہ کر رہی ہے اس سے یہ امید پیدا ہو چکی ہے کہ آئندہ چند ہفتوں ہی میں شمالی وزیرستان سے دہشت گردوں کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے صفایا ہو جائے گا۔ انتہاپسندوں نے ایک طویل عرصے سے اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کے باعث پورے ملک میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر رکھی تھی، وہ اس قدر دیدہ دلیر ہو چکے تھے کہ سیکیورٹی اداروں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنا رہے تھے،ان کی ان کارروائیوں کی بدولت ملک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا اور پوری دنیا میں پاکستان کی ساکھ متاثر ہوئی۔

دہشت گردوں سے نمٹنے اور ملک میں امن و امان قائم کرنے کے لیے بعض حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ شدومد سے کیا جانے لگا کہ دہشت گردوں کے خلاف فوری آپریشن کیا جائے۔ ان حلقوں کا مؤقف تھا کہ دہشت گرد فوج کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے اس لیے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں جب کہ دوسری جانب کچھ مذہبی اور سیاسی جماعتیں حکومت پر یہ دباؤ ڈال رہی تھیں کہ اگر آپریشن کا راستہ اختیار کیا گیا تو اس سے پورے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں مزید اضافہ ہو جائے گا اور یہ جنگ ختم ہونے کی بجائے طول پکڑتی چلی جائے گی۔

ان حلقوں کا مؤقف تھا کہ بعض قوتیں فوج اور انتہاپسندوں کو آپس میں لڑوا کر ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں لہٰذا مذاکرات ہی کا راستہ اپنایا جائے۔ اس صورت حال کے تناظر میں حکومت گومگو کی کیفیت کا شکار رہی، آپریشن یا مذاکرات دونوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کا وہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی۔ اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گردوں نے اپنی کارروائیاں تیز کر دیں۔ حکومت نے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تو بھی دہشت گردوں نے اس دوران سیکیورٹی اداروں پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح وہ حکومت کو دباؤ میں لا کر اپنی من مانی شرائط ماننے پر مجبور کر دیں گے۔

کراچی ایئرپورٹ حملے کے بعد حکومت کو بالآخر آپریشن کا فیصلہ کرنا ہی پڑا۔ فوج نے شمالی وزیرستان میں جس طرح بڑے پیمانے پر کامیابیاں حاصل کی ہیں اس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ اگر آپریشن کا فیصلہ پہلے ہی کر لیا جاتا تو اب تک پورے علاقے میں امن قائم اور دہشت گردوں کا صفایا ہو چکا ہوتا۔ فوج جنوبی وزیرستان میں کامیاب آپریشن کے بعد اب شمالی وزیرستان کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کر چکی ہے اور وہ آئی ڈی پیز کے پیدا ہونے والے مسئلے سے بھی بخوبی نمٹ رہی ہے۔ نقل مکانی کرنے والے افراد کی امداد کے لیے متعدد مراکز قائم کیے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب آئی ڈی پیز کے لیے ملک بھر سے امداد کی فراہمی بھی جاری ہے۔ کچھ مذہبی اور سیاسی جماعتیں امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ اس مشکل وقت میں تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آئی ڈی پیز کے مسئلے کے حل کے لیے متحرک ہوں۔ اگر سیاسی یا مذہبی جماعتیں اس موقع پر تساہل اور لاپروائی کا مظاہرہ کرتی یا حکومت کے لیے سیاسی مسائل پیدا کرتی ہیں تو دہشت گردی کے خلاف شروع کی گئی اس مہم میں حکومت کے مسائل میں اضافہ ہو جائے گا۔ جب تک حکومت اور عوام متحد ہو کر دہشت گردی کا مقابلہ نہ کریں تب تک وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔

سری لنکا کی مثال سب کے سامنے ہے کہ اس نے ایک طویل جنگ کے بعد تامل ٹائیگرز کی بغاوت پر قابو پا لیا اور آج اسی کا نتیجہ ہے کہ سری لنکا تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ پاکستان میں جب تک دہشت گردی کا عفریت موجود ہے تب تک ترقی کا کوئی منصوبہ بھی اپنا بھرپور کردار ادا نہیں کر سکتا۔ جب تک ملک میں امن نہیں ہو گا ملکی اور غیرملکی سرمایہ کار یہاں کاروبار کے لیے راغب نہیں ہوں گے۔ برسوں سے جاری ان مصائب کے خاتمے کے لیے پوری قوم کو حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔