پاک ایران تجارتی تعلقات کی بحالی پرغور

برادر پڑوسی ملک ایران کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی خواہش رکھنے والوں کے لیے یہ اطلاع بہت خوش آئند ہو گی


Editorial July 06, 2014
اقوام متحدہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے دو طرفہ بارٹر ٹریڈ اور اشیاء کے تبادلے کے میکنزم کو فروغ دینگے۔ فوٹو:فائل

برادر پڑوسی ملک ایران کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی خواہش رکھنے والوں کے لیے یہ اطلاع بہت خوش آئند ہوگی کہ پاک ایران مُشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس رواں سہ ماہی میں ہو گا جس میں پچاس نکاتی ایجنڈے کا جائزہ لیا جائے گا۔ پاک ایران تجارت کے فروغ کے بارے میں ہونے والے بین الصوبائی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے ایران پر عائد کردہ پابندیوں کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے ایران اور پاکستان کے درمیان باہمی تجارت اور اشیا کے تبادلے کے لیے باہمی اعتماد کی بحالی ضروری ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاک ایران مشترکہ تجارتی کمیشن کے اجلاس سے قبل باہمی تجارت میں حائل رکاوٹیں دور کرنا ہوں گی۔ وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے دورہ ایران کے دوران دونوں ممالک کے حکام کی طرف سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا تھا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے دو طرفہ بارٹر ٹریڈ اور اشیاء کے تبادلے کے میکنزم کو فروغ دینگے۔

واضح رہے کہ بارٹر ٹریڈ یعنی مال کے بدلے مال کی تجارت زمانہ قبل از تاریخ سے قوموں کے درمیان ہوتی رہی ہے جس میں زر مبادلہ جیسی کوئی غیر فطری پابندیاں عاید نہیں ہوتی تھیں اور اس طریقے سے انھیں اپنی ضرورت کی اشیا بآسانی حاصل ہو جاتی تھیں۔ پاکستان بھی اپنے پڑوسی ملکوں سے بڑی آسانی سے بارٹر ٹریڈ کو فروغ دے سکتا ہے اور یوں ہمارے فارن ایکسچینج کی بچت بھی ہو سکتی ہے جس کی ویسے ہی ہمارے یہاں قلت رہتی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے اجلاس میں کہا کہ پاکستان اور ایران دونوں ممالک کو بارٹر ٹریڈ اور اشیاء کے تبادلے کے میکنزم کے فروغ کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے مل کر کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ رواں سہ ماہی میں ہونے والے پاک ایران مُشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس میں پچاس نکاتی ایجنٖڈے کا جائزہ لیا جائے گا اور گزشتہ اجلاس کے باقی رہ جانے والے ایجنڈا آئٹمز پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ یورپی یونین کے ایران کے ساتھ مذاکرات بھی اہم اور سیٹلمنٹ کے مراحل میں ہیں جس کے بعد پاکستان کے لیے بھی ایران کے ساتھ معاملات طے کرنے میں بہت سہولت ہو جائے گی۔ وزیر خزانہ نے وفاقی سیکریٹری خزانہ کو ہدایت کی کہ پاک ایران بارٹر ٹریڈ کے لیے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کا اجلاس جلد بُلایا جائے اور بارٹر ٹریڈ سمیت دونوں ممالک کے درمیان بارڈر کراسنگ کھولنے کے حوالے سے پیشرفت کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان کو ایران کے ساتھ تجارت کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ مغربی ممالک اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیر اعظم کے دورہ ایران کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم بڑھانے پر اتفاق کیا گیا تھا، اجلاس میں یہ بھی طے ہوا ہے کہ وزارت تجارت اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان ایرانی حکام کے ساتھ باہمی مشاورت سے ان اشیا کی فہرست مرتب کریں گے جو پاکستان سے ایران کو بھجوائی جا سکتی ہیں اور اس حوالے سے رپورٹ تیار کر کے رواں ماہ کے تیسرے ہفتے میں ہونیوالے اجلاس میں پیش کی جائے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے سیکریٹری خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ بارٹر ٹریڈ کے مسائل کے حل کے لیے تمام شراکت داروں سے ملاقات کریں اور دونوں ممالک کے درمیان بارڈرز کو کھولنے کے لیے بھی مشاورت کریں، یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ وزارت تجارت اور ٹی سی پی مختلف مصنوعات کے اضافی اسٹاک کی ایران کو برآمد کے بارے میں رواں ماہ کے تیسرے ہفتے تک رپورٹ پیش کریں۔ اگر ہماری بیوروکریسی وفاقی وزیر خزانہ کی ہدایات پر عمل درامد میں سرخ فیتے کے استعمال سے گریز کریں تو یہ بیل منڈھے چڑھ سکتی ہے اور اس سے دونوں ملکوں کا بہت فائدہ ہے۔

پاکستان کے ایران کے ساتھ تجارت کے علاوہ ایرانی شاعروں اور اہل دانش سے بھی عقیدت کے رشتے ہیں۔ مفکر پاکستان علامہ اقبال تو مولانا جلال الدین رومی کو باقاعدہ اپنا روحانی مرشد تسلیم کرتے تھے اور انھوں نے افلاک کی خیالی سیر میں مولانا رومی کو ہی اپنا رہنما بنایا تھا۔