رمضان المبارک میں مہنگائی کا عذاب

ہر سال کی طرح امسال بھی حکومت اپنے تمام تر دعوئوں اور یقین دہانیوں کے باوجود


Editorial July 07, 2014
مالی سال 2013-14 کے دوران غذائی اشیا کی مجموعی برآمدات چار ارب 29کروڑ 59لاکھ ڈالر رہیں.. فوٹو؛فائل

ہر سال کی طرح امسال بھی حکومت اپنے تمام تر دعوئوں اور یقین دہانیوں کے باوجود رمضان المبارک میں ہونے والی بلاجواز مہنگائی اور ناجائز منافع خوری کو روکنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں دگنا ہونے سے یہ عام آدمی کی رسائی سے دور ہو گئی ہیں۔ آخر رمضان المبارک میں ایسا کیا ہو گیا ، کوئی سیلاب آیا اور نہ کوئی زلزلہ اور نہ سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار ہی میں کوئی کمی واقع ہوئی پھر مہنگائی کا یہ طوفان چہ معنی دارد۔

ایک خبر کے مطابق مالی سال 2013-14 کے دوران غذائی اشیا کی مجموعی برآمدات چار ارب 29کروڑ 59لاکھ ڈالر رہیں۔ اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ہمارے ملک میں زرعی پیداوار وافر ہو رہی ہیں اور ان کی برآمدات سے اربوں ڈالر کمائے جا رہے ہیں مگر حیرت انگیز امر ہے کہ اس سب کے باوجود اس ملک کا عام آدمی خوردنی اشیا مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہے۔خرابی کہاں ہے اور اس کا ذمے دار کون ہے، ارباب اختیار کو اس مسئلے کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔

دکاندار خود کو بری الذمہ قرار دیتے ہوئے مہنگائی کا ذمے دار تھوک منڈی والوں کو گردانتے ہیں اور یہ موقف پیش کرتے ہیں کہ جب تھوک منڈی ہی سے کھانے پینے کی اشیا مہنگے داموں ملیں گی تو دکاندار انھیں سستے داموں کیسے فروخت کر پائے گا؟ تھوک منڈی میں ہونے والی مہنگائی کا ذمے دار کون ہے اور حکومتی ادارے ان کے سامنے بے بس کیوں ہیں؟ جب حکومت اور انتظامیہ کو اس امر کا بخوبی ادراک ہے کہ ہر سال رمضان المبارک میں بلاجواز مہنگائی ہو جاتی ہے تو انھوں نے اس کے انسداد کے لیے پہلے ہی سے پیش بندی کیوں نہیں کی۔

اب اس عفریت کے ذمے داروں کے خلاف کیا کارروائی کی جا رہی ہے اس حوالے سے بھی حکومتی کارکردگی قابل اطمینان نہیں۔ صرف سستے رمضان بازار لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا کیونکہ ہر شہری ان بازاروں میں نہیں جا سکتا' وہ اپنے علاقے میں موجود قریبی دکانوں سے خریداری کرتا ہے۔ دنیا بھر میں آنے والے تہواروں اور خوشی کے مواقع پر روز مرہ کی اشیا سستی کر دی جاتی ہیں تاکہ عام آدمی بھی خوشی کے اس موقع سے مستفیض ہو سکے۔ حیرت انگیز امر ہے کہ ہمارے ہاں باوا آدم ہی نرالا ہے۔ رمضان المبارک جو رحمتوں کا مہینہ ہے' اس میں بلاجواز اتنی مہنگائی کر دی جاتی ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ غریب آدمی کو تمام رحمتوں سے دور کر کے نئی اذیت میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔

حکومت ایک طرف دعویٰ کر رہی ہے کہ زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو رہا ہے اور ملکی معاشی حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔اخباری خبر کے مطابق رمضان کے دوران ترسیلات زر میں زبردست اضافہ ہونے سے پاکستان کو مجموعی طور پر دو ارب ڈالرز تک موصول ہونے کا امکان ہے۔زرمبادلہ کے ان ذخائر میں اضافے کا عام آدمی کو کیا فائدہ، جب اس کی زندگی میں بہتری کے کوئی آثار ہی نمایاں نہیں ہو رہے۔

عام آدمی اگر کسمپرسی کی زندگی ہی بسر کرتا رہے گا اور روزمرہ کی اشیا مہنگے داموں ہی خریدنے پر مجبور رہے گا تو وہ حکومت کے معاشی ترقی کے دعوؤں پر کیسے یقین کرے گا؟حکومت سستے رمضان بازار لگانے کے بجائے مجموعی طور پر تمام خوردنی اشیا کو سستا کرے تاکہ عام آدمی بھی ان سے مستفید ہو سکے۔ مہنگائی کا باعث بننے والے منافع خوروں کو عبرت ناک سزا دی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ مہنگائی کے عذاب کو روکا نہ جا سکے۔ ضرورت عمل کی ہے' صرف دعوئوں اور نعروں سے عوام کی زندگی میں بہتر نہیں لائی جا سکتی۔