افغانستان سے دہشت گردوں کا حملہ

جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب باجوڑ ایجنسی میں سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر افغانستان کے صوبہ کنٹر


Editorial July 13, 2014
تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب باجوڑ ایجنسی میں سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر افغانستان کے صوبہ کنٹر سے آنے والے دہشت گردوں نے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کر دیا جس سے ایک کیپٹن سمیت دو اہلکار شہید' ایک اہلکار اور ایک قبائلی زخمی ہو گیا۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور صدر ممنون حسین نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید ہونے والے اہلکاروں کے لواحقین سے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے ایک بیان میں اس کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد اور کابل میں افغان حکام سے رابطہ کر کے شدید احتجاج کیا ہے اور انھیں کہا ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو ختم کرے اور اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دے۔

افغانستان سے یہ حملہ پہلی بار نہیں ہوا بلکہ اس سے قبل متعدد مرتبہ افغانستان سے دہشت گردوں نے پاکستان میں داخل ہو کر سیکیورٹی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔ پاکستان نے ہر حملے کے بعد افغانستان سے شدید احتجاج کرتے ہوئے ان حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا مگر اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ افغان حکومت نے کبھی سرحدوں پر ہونے والی اس دہشت گردی کو روکنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی اور نہ سرحدوں پر کوئی اضافی انتظامات کیے گئے۔ اس سے یہ شک تقویت پکڑتا ہے کہ ان حملہ آوروں کو افغان حکومت کی آشیر باد حاصل ہے یا پھر وہ ان حملہ آوروں کو روکنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

ہر دو صورت میں ان حملوں کی ذمے داری افغان حکومت ہی پر عائد ہوتی ہے۔ افغانستان میں جدید ہتھیاروں اور آلات سے لیس نیٹو اور امریکی افواج کی ایک بڑی تعداد موجود ہے' تین لاکھ کے قریب افغان فورسز بھی اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہے۔ اتنی بڑی فورس کی موجودگی میں دہشت گردوں کا سرحد پار کر جانا باعث تشویش ہے۔ یہ دہشت گرد حملہ کرکے بآسانی واپس افغانستان فرار ہو جاتے ہیں۔ افغان حکومت اور وہاں تعینات اتحادی فوجوں پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سرحد پار حملوں کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ ان حملوں سے یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ افغانستان بھی دہشت گردوں کی پناہ گاہ ہے اور وہ وہاں خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

حیرت انگیز امر ہے کہ ان کے پاس اس قدر جدید اور بھاری ہتھیار کہاں سے آ رہے ہیں اور ان کی مالی مدد کون کر رہا ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بھارتی کیمپ قائم ہیں جو دہشت گردوں کو تربیت دے کر پاکستان میں کارروائیوں کے لیے داخل کر رہے ہیں۔ اگر صورت حال ایسی ہے تو یہ بہت تشویشناک امر ہے۔ پاکستان، افغان حکومت سے دو ٹوک انداز میں بات کرے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ دوسرے ممالک میں گھس کر دہشت گردی کی کارروائیاں کرنا اقوام متحدہ کے قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے اس لیے نیٹو اور امریکی حکام پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پاکستان میں اس در اندازی کو ہر ممکن طور پر روکیں۔

دوسری جانب شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے پاکستان نے آپریشن ضرب عضب شروع کر رکھا ہے۔ امریکی اور نیٹو حکام اگر واقعی دہشت گردی کے خاتمے میں مخلص ہیں تو انھیں اس نازک موقع پر پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرنا چاہیے نہ کہ ان کی غیر ذمے داری کے باعث دہشت گرد پاکستان میں داخل ہو کر مزید مسائل پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ دریں اثناء شمالی وزیرستان میں پاک فوج کا آپریشن کامیابی سے جاری ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ہفتہ کے روز فضائی کارروائی میں مزید تیرہ دہشت گرد ہلاک اور ان کے سات ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔ گن شپ ہیلی کاپٹروں نے بارود سے بھری 2 گاڑیاں بھی تباہ کیں' جب کہ دو خود کش بم باروں نے خود کو اس وقت اڑا لیا جس وقت انھیں شناخت کے بعد گھیرے میں لے لیا گیا تھا۔ فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں زیادہ تر غیر ملکی تھے۔ شمالی وزیرستان میں ابھی تک غیر ملکیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جب تک یہ علاقہ مکمل کلیئر نہیں ہوتا دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔

فوج جس تیزی سے کامیابیاں حاصل کر رہی ہے امید کی جا رہی ہے کہ شمالی وزیرستان کا تمام علاقہ جلد ہی کلیئر ہو جائے گا۔ ایک جانب فوج شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں سے نمٹ رہی ہے تو ایسے وقت میں افغان سرحد سے دہشت گردوں کا پاکستان میں داخل ہو کر کارروائی کرنا انتہائی تشویشناک ہے۔ دہشت گردوں نے اپنی کارروائیوں کے ذریعے پورے ملک میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر رکھی تھی۔ اب فوج نے شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کر کے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

اگر افغان حکومت بھی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے اور سرحد پر سیکیورٹی انتظامات سخت کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ سرحد پار سے در اندازی کو روکا نہ جا سکے۔ پاکستان اور افغان حکومت کو دہشت گردی کے مسئلے سے مل کر نمٹنے کے لیے مشترکہ کمیٹیاں تشکیل دینی چاہیے۔ اس مسئلے پر دونوں کے درمیان باہمی رابطے کا منظم نظام ہونے کے ساتھ ساتھ باہمی تعاون نہایت ضروری ہے۔ اب جب افغانستان میں نئی حکومت آنے والی ہے اس لیے پاکستان کو افغانستان سے کھل کر اس مسئلے پر بات کرنی چاہیے۔ افغانستان اور پاکستان جب تک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل نہیں دیں گے دہشت گردی کا مسئلہ بدرجہ اتم موجود رہے گا۔ دہشت گرد نہ تو پہلے اپنے بزدلانہ ہتھکنڈوں سے قوم کے عزم کو متزلزل کر سکے تھے اور نہ اب وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو سکیں گے۔