اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کا اعلان

حکومت کی بہتر پالیسیوں کے باعث ملک کے مجموعی معاشی حالات میں کافی بہتری آئی ہے۔


Editorial July 21, 2014
رواں مالی سال مالیاتی خسارہ بھی کم ہو کر 4.9 فیصد تک آ گیا ہے جب کہ گزشتہ مالی سال میں مالیاتی خسارہ5.8 فیصد تھا۔ فوٹو؛فائل

GILGIT: حکومت کی بہتر پالیسیوں کے باعث ملک کے مجموعی معاشی حالات میں کافی بہتری آئی ہے۔ معیشت کے تفصیلی جائزے میں مہنگائی اور حکومتی قرضوں میں کمی مثبت اشاریہ ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے، معاشی اہداف میں بہتری سے روپے کی قدر میں اضافہ ہوا ہے' رواں مالی سال مالیاتی خسارہ بھی کم ہو کر 4.9 فیصد تک آ گیا ہے جب کہ گزشتہ مالی سال میں مالیاتی خسارہ5.8 فیصد تھا۔

گورنر اسٹیٹ بینک اشرف محمود وتھرا نے اسٹیٹ بینک کی رواں مالی سال کی پہلی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی خدشات اور بجلی و گیس کی قلت کے باوجود معاشی ترقی کی رفتار گزشتہ مالی سال سے بہتر رہی جس میں بڑی صنعتوں کی پیداوار نے اہم کردار ادا کیا۔ مہنگائی کی شرح 10 فیصد سے کم ہے' اقتصادی صورت حال میں بہتری دیکھی جا رہی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 9.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جب کہ جون 2015ء تک یہ ذخائر 13 ارب ڈالر تک پہنچ جانے کی توقع ہے۔

حکومت کو برسراقتدار آنے کے بعد بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال' توانائی کے بحران اور امن و امان کے خراب معاملات سمیت بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ ان چیلنجز سے بہتر طور پر نہ نمٹنے کے باعث ہی سابق حکومت کو انتخابات میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس لیے عوامی دبائو کے باعث موجودہ حکومت کے لیے ان چیلنجز میں زیادہ شدت پیدا ہوئی۔اس تناظر میں حکومت نے امن و امان کی بہتر صورتحال اور توانائی کے بحران کو حل کرنے کا اولین ترجیحات میں شامل کیا۔ حکومت کی بہتر معاشی پالیسیوں پر اعتماد ہی کا مظہر تھا کہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار ملک میںبڑے پیمانے پر سرمایہ کاری میں دلچسپی لینے لگے۔

اطلاعات کے مطابق جولائی 2013ء تا مئی 2014ء کے دوران پاکستان میں ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی گئی اور اس دوران ان غیر ملکی کمپنیوں نے ایک ارب دس کروڑ ڈالر کا منافع اپنے ممالک میں منتقل کیا جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران اپنے ممالک کو بھیجے جانے والے منافع سے 14.5 فیصد زائد ہے۔ حکومت نے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کے لیے جامع پالیسی مرتب کی جس کی وجہ سے دنیا بھر کے سرمایہ کار پاکستان میں توانائی' بنیادی ڈھانچے اور مواصلات سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔

پاکستان کو اس وقت توانائی بحران کا سامنا ہے' اس لیے اس شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں لہٰذا حکومت پاکستان اس شعبے کی تیز تر ترقی کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اس جانب راغب کر رہی ہے۔ حکومت کی بہتر معاشی پالیسیوں کے باعث ڈالر کی قدر میں کمی آئی اور اس وقت ایکس چینج ریٹ 99 روپے پر دیکھا جا رہا ہے اور غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی میں بھی بہتری آئی ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق نجکاری کا عمل شروع ہونے سے عالمی ادائیگیوں کی صورتحال میں بہتری کی توقع ہے۔

ملک میں ترقی کا عمل تیز ہونے اور معاشی صورت حال میں بہتری آنے پر حکومت کو گزشتہ مالی سال میں اسٹیٹ بینک سے کم قرضے حاصل کرنے پڑے اور نجی بینکوں سے 303 ارب روپے کے قرضے لیے۔ حکومت نے معاشی پالیسیوں کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جس سے روپے کی قدر میں استحکام پیدا ہونے سے مارکیٹ میں کاروباری سطح پر ٹھہرائو اور سکون آیا جو اس سے قبل ڈالر اور تیل کی قیمتوں میں وقفے وقفے سے ہونے والے اتار چڑھائو کے باعث بے چینی' اضطراب اور بے یقینی کا شکار تھی۔ مہنگائی کی شرح گزشتہ مالی سال 8.6فیصد رہی جو مسلسل دوسرے مالی سال دس فیصد سے کم ہے، امید کی جا رہی ہے کہ رواں مالی سال مہنگائی کی شرح ساڑھے سات سے ساڑھے آٹھ فیصد تک رہے گی۔

ملک میں معاشی اور کاروباری سرگرمیوں میں استحکام پیدا ہونے سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ ہو رہا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ صورت حال مزید بہتر ہوتی اور سرمایہ کاری کا عمل مزید تیز ہوتا ہے تو اس سے بینکنگ سیکٹر میں بھی بہتری آئے گی۔ اسٹیٹ بینک نے شرح سود آیندہ دو ماہ کے لیے دس فیصد برقرار رکھنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال میں ترقی کی شرح 4.1 فیصد رہی جب کہ اٹھائیس سو دس ارب روپے کا ٹیکس ہدف پورا کرنا ایک چیلنج ہے۔ حکومت کو اس وقت بجٹ خسارے کا سامنا ہے۔

رواں مالی سال میں مالی خسارے کا ہدف 9.4 فیصد ہے جب کہ گزشتہ مالی سال میں مالی خسارہ 8.5 فیصد تھا۔ اس طرح اس سال مالی خسارے میں اضافے کا امکان ہے۔ مالی خسارے پر قابو پانے کے لیے ٹیکس اصلاحات کو بہتر بنانا ہو گا۔ صورت حال یہ ہے کہ مجموعی طور پر ٹیکس چوری یا ٹیکس ادا نہ کرنے کی روایت عام ہے۔ بڑے بڑے سرمایہ کار اور تاجر حضرات سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت سے ٹیکس چوری کی لعنت میں مبتلا ہیں۔

سرکاری سطح پر ہونے والی اس کرپشن کا بھی انسداد ناگزیر ہے۔ جب تک اس کا انسداد نہیں کیا جاتا' کسی قسم کی بھی ٹیکس اصلاحات مثبت نتائج نہیں لا سکتیں۔ مستزاد یہ کہ حکومتی ارکان کی بھی ایک تعداد ٹیکس چوری میں ملوث ہے۔ حکومت اور اس کے ارکان کو ایمانداری سے ٹیکس ادا کرنے کی مثال قائم کرنا ہو گی۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو پھر کسی بھی ٹیکس ہدف کو پورا کرنا مشکل امر نہیں ہو گا' معاشی پالیسیوں میں موجود مشکلات اور کمزوریوں کا تسلسل ترقی کی راہ میں اہم رکاوٹ ہے۔ حکومت کو اس مسئلے کے حل کے لیے مثبت تبدیلیوں اور اصلاحات کو آگے بڑھانا ہو گا۔