غزہ کی صورتحال اور عالمی بے حسی

غزہ کی صورت حال ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین سے سنگین تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔


Editorial July 28, 2014
اسرائیل فلسطینیوں کا قتل عام کرنے کے لیے بہانہ تراش رہا ہے،یوں لگتا ہے کہ اس نے ہر صورت فلسطینیوں کے خاتمے کا ارادہ کر رکھا ہے۔ فوٹو؛فائل

غزہ کی صورت حال ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین سے سنگین تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان ہفتہ کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 12 گھنٹوں کے لیے عارضی جنگ بندی ہوئی جس میں بعدازاں اسرائیل کی جانب سے چار گھنٹے کی توسیع کی گئی مگر پھر اسرائیل نے حماس کی جانب سے راکٹ فائر کرنے کا الزام لگاتے ہوئے جنگ بندی ختم کر کے زمینی' فضائی اور بحری حملے کرنے کی دھمکی دے دی۔ جب کہ حماس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے تمام دھڑوں نے بھی جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کیا ہے۔ اسرائیل فلسطینیوں کا قتل عام کرنے کے لیے بہانہ تراش رہا ہے،یوں لگتا ہے کہ اس نے ہر صورت فلسطینیوں کے خاتمے کا ارادہ کر رکھا ہے۔

اسرائیل سفاکی کی انتہا پر اتر آیا ہے' اس نے 19 ویں روز جنگ بندی سے چند لمحے پہلے غزہ پر شدید بمباری کی جس سے درجنوں فلسطینی شہید ہو گئے۔ عارضی جنگ بندی کے دوران اسرائیلی بم باری رکی تو غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے 130 فلسطینیوں کی نعشیں برآمد ہوئیں جس کے بعد شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ عالمی سطح پر اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے کوششیں جاری ہیں مگر ابھی تک وہ بار آور نہیں ہوئیں۔ مستقل جنگ بندی کے لیے عالمی سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں ہفتے کو پیرس میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں جرمنی' امریکا' برطانیہ اور اٹلی کے سفارت کاروں سمیت یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں فلسطین تنازعے کے حل کے لیے مصر کی ثالثی پر بحث کی گئی اور یہ کوشش کی گئی کہ فریقین کو فوری طور پر حملے روکنے پر راضی کیا جا سکے۔ عالمی قوتوں کی جانب سے جنگ بندی روکنے کے لیے کوششیں تو جاری ہیں مگر اسرائیل کسی کو خاطر میں نہیں لا رہا کیونکہ وہ بخوبی جانتا ہے کہ یہ تمام عالمی قوتیں درپردہ اس کے ساتھ ہیں۔اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی قوتیں اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے سنجیدہ ہوتیں اب تک تو عارضی جنگ بندی کے بجائے مستقل جنگ بندی ہو چکی ہوتی۔ دوسری جانب اسرائیلی مظالم کے خلاف لندن' جرمنی' نیو یارک اور پیرس میں مظاہرے کیے گئے، لندن میں مظاہرین کی تعداد 10 ہزار سے زائد تھی جس میں یہودیوں نے بھی شرکت کی۔

پاکستان نے سلامتی کونسل سے غزہ میں جنگ بندی قرار داد منظور کرنے کا مطالبہ کیا۔ نیو یارک میں غیر وابستہ تحریک کے رابطہ آفس اور اسلامی تعاون تنظیم کے سفیروں کی سطح کے الگ الگ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب مسعود خان نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت' فائر بندی' غزہ کی ناکہ بندی کے خاتمے اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ عالمی سطح پر ہونے والے کسی بھی اجلاس میں اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے کسی سخت کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا صرف زبانی بات چیت اور مطالبات تک یہ اجلاس محدود ہیں۔ اسرائیل نے جب بھی فلسطینیوں کے خلاف جارحیت کا مظاہرہ کیا عالمی قوتوں نے اسے روکنے کے لیے عملی طور پر کبھی کوئی کوشش نہیں کی اور نہ ہی اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف قرارداد مذمت منظور کی گئی۔

عالمی قوتوں کی آشیر باد کے باعث ہی اسرائیل جب چاہتا ہے فلسطینیوں پر حملہ کرکے ان کا قتل عام شروع کر دیتا ہے۔ اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے اسلامی ممالک کا عملی کردار بھی سامنے نہیں آیا وہ بھی صرف مذمتی بیانات تک محدود ہے۔ صورت حال یہ ہے ترکی جو اسرائیلی حملوں کی مذمت کر رہا تھا اس نے تل ابیب کے لیے پروازوں پر پابندی ختم کر دی ہے۔ کچھ مسلم ممالک کے اسرائیل کے ساتھ گہرے تجارتی اور سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ وہ زبانی کلامی تو اسرائیلی سفاکیت کی مذمت کر دیتے ہیں مگر وہ اس کے ساتھ اپنے سفارتی اور تجارتی تعلقات خراب نہیں کرتے۔ اسرائیل کو بھی بخوبی ادراک ہے کہ مسلم ممالک میں اتنی قوت نہیں کہ وہ اسے عملی طور پر روک سکیں۔

اسرائیلی وزیراعظم فلسطینیوں کو علی الاعلان دھمکیاں دیتے ہوئے کارروائی کو مزید توسیع کرنے کا اظہار کر رہے ہیں، وہ اپنی جارحیت کو درست قرار دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ کتنی درد انگیز بات ہے کہ ایک آزاد اور محفوظ قومی ریاست کے شہری فلسطینی اپنی دھرتی پر بے گناہ مارے جا رہے ہیں اور انھیں بچانے والا کوئی بھی نہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں جو اسلامی ملک میں ہونے والے کسی معمولی سے واقعہ پر آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں وہ بھی نہتے فلسطینی عوام پر اسرائیلی فوجوں کی وحشیانہ کارروائیوں پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔

اسرائیلی عزائم سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مستقل جنگ بندی کے لیے تیار نہیں اور اس نے غزہ کے علاقے سے فلسطینیوں کے قتل عام کا ارادہ کر رکھا ہے۔ اب اس نے زمینی' فضائی اور بحری حملوں کا اعلان کر دیا ہے۔ جس سے اندیشہ ہے کہ فلسطینیوں کے قتل عام میں تیزی آ جائے گی۔ اگر فلسطینیوں کا قتل عام اسی طرح جاری رہتا اور غزہ کے مزید علاقے پر اسرائیل کا قبضہ ہو جاتا ہے تو یہ اسلامی دنیا کے لیے ایک بہت بڑا المیہ ہو گا۔ اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کا جو کردار سامنے آیا ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فلسطینیوں کا قتل عام روکنے میں کامیاب نہیں ہونگی۔ اب او آئی سی پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فلسطینیوں سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کے تحفظ کے لیے متحرک ہو ورنہ خون مسلم یونہی بہتا رہے گا۔