تفریحی مقامات اقدامات کے منتظر

عید کے موقع پر ملک بھر میں ڈوبنے سے ہونے والی اموات پر حکام اپنی عدم توجہی پر بھی ذرا غور فرمائیں


Editorial August 02, 2014
عید کے موقع پر ملک بھر میں ڈوبنے سے ہونے والی اموات پر حکام اپنی عدم توجہی پر بھی ذرا غور فرمائیں. فوٹو: ایکسپریس

کراچی میں عیدالفطر کے موقع پر ہاکس بے اور سی ویو کلفٹن پر سمندر میں نہاتے ہوئے ڈوبنے والے 31افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، جمعہ کی صبح تک 7 مزید لاشیں نکالی جا چکی تھیں جب کہ مزید کی تلاش کا کام جاری ہے۔ صدر مملکت ممنون حسین، وزیر اعظم میاں نواز شریف اور سابق صدر آصف زرداری نے کراچی کے سانحے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے قائمقام آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی کو تحقیقات کی ہدایت کی ہے جب کہ ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام قادر تھیبو کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ سب سے زیادہ 14 افراد سی ویو پر ڈوبے،27 افراد کے ڈوبنے پر عید کی خوشیاں منانے والے اہلخانہ میں صف ماتم بچھ گئی، لاپتہ افراد کی تلاش میں سست روی پر ڈوبنے والوں کے ورثا نے ہنگامہ آرائی بھی کی جب کہ پولیس نے سی ویو کی ساحلی پٹی کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے۔

یہ ایک درد ناک حقیقت ہے کہ ہر عید الفطر اور عیدالاضحی کے موقع پر ملک کے تفریحی مقامات اور خاص طور پر منی پاکستان کے ساحلی علاقے ایک خونیں تاریخ رقم کر دیتے ہیں جہاں ٹھوس ادارہ جاتی انتظامات کو روندتے ہوئے تفریح کو ترسے ہوئے لوگ سمندر کی طغیانی کی نذر ہو جاتے ہیں، جب کہ ساحلی علاقوں میں ضروری حفاظتی انتظامات بس برائے نام ہی ہوتے ہیں، لائف گارڈز کی مستقل تعیناتی کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ دو طرفہ غیر ذمے دارانہ طرز عمل کے باعث حادثے رونما ہو جاتے ہیں، ایک طرف کمسن بچے اور پر جوش نوجوان ہر قیمت پر موجوں کی طغیانی سے ٹکرانے کی ضد کرتے ہیں تو دوسری جانب محکمہ جاتی سطح پر ساحلی محافظین کا کوئی ایسا مستحکم، مربوط اور فعال نیٹ ورک بھی کبھی نظر نہیں آیا جس میں ادارہ جاتی سطح پر اپنی رٹ قائم کرنے کا حوصلہ ہو۔

اس بات میں کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ قانون شکنی ہمارے معاشرے کا فیشن بن چکا ہے، دنیا کے مہذب اور جمہوری ممالک میں جن تہذیبی اور سماجی روایات اور قانون کے احترام کی مثالیں قائم ہیں وہاں تفریحی مقامات پر آنے جانے کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں اور کچھ پابندیاں بھی ہوتی ہیں۔ جنھیں ہمارے حکام اور شہری در خور اعتنا سمجھتے تو اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں کبھی نہ ہوتیں۔ ہر موسم عاشقانہ نہیں ہوتا، اس میں بڑی احتیاط بھی لازم ہوا کرتی ہے۔ خوشی کے مقدس تہوار پر قیمتی زندگیوں کے چراغوں کا گل ہونا کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ پورے ساحلی اور تفریحی مقامات کے انتظامی سسٹم کو اوپر سے نیچے تک ہلا کر رکھ دینے کا وقت ہے۔

رات گئی بات گئی والا رویہ انتہائی دردناک ہو سکتا ہے کیونکہ عیدوں کو پھر بھی آنا ہے، عوام کو انتظامات اور اس سانحہ کی تحقیقات سے آگاہ کرنا بھی ناگزیر ہے۔ واضح رہے فلوریڈا میں ''میامی بیچ'' کو سمندری خطرات اور موسمیاتی تباہ کاریوں کا سامنا ہے، 11 جولائی2014ء کو گارجین نے اس ساحلی شہر کو درپیش موسمیاتی اور طوفانی خطرات پر ایک چشم کشا رپورٹ چھاپی اور علاقے کے سماجی کارکنوں نے سینیٹر مارکو روبیو کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور زور دیا کہ وہ آنے والے خطرات کا نوٹس لیں، اور کارروائی کریں۔

چنانچہ عید کے موقع پر ملک بھر میں ڈوبنے سے ہونے والی اموات پر حکام اپنی عدم توجہی پر بھی ذرا غور فرمائیں جو اس المیے کا سبب بنا، جب کہ تفریح کے لیے آنے والوں کو نہانے سے منع کرنے پر مامور یونٹ کی ناکامی اور پیشگی اقدامات اور امتناعات پر عملدرآمد میں پس و پیش اور مجرمانہ غفلت کے باعث کثیر تعداد میں شہری ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔

یہ ایک طرف قیمتی جانوں کا اتلاف ہے جس پر سیکڑوں گھرانے اشکبار اور صدمے سے نڈھال ہونگے، عید کی خوشیاں سوگ میں تبدیل ہو گئیں، دوسری طرف وسیع تر تناطر میں یہ ایک اجتماعی نقصان ہے جس میں بجائے بلیم گیم کے ملک بھر کے تفریحی مقامات پر حفاطتی انتظامات کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور جو اہم اور بڑے تفریحی مقامات ہیں ان پر خصوصی ٹیمیں متعین کی جائیں جو سال کے پورے بارہ مہینوں میں تفریح کے لیے آنے والوں کی رہنمائی کریں، انھیں خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے انتظامی اور حفاظتی اقدامات اور ہدایات کی سختی سے پابندی کرنے پر قائل کریں۔

اندوہ ناک حقیقت یہ بھی ہے کہ ایک طرف کراچی کے ساحل پر اموات ہوئیں دوسری جانب عید کے تیسرے روز نوشہرہ کے دریا ئے کابل میں کنڈ پارک کے مقام پر دو کشتیاں الٹنے سے 7 سیاح جاں بحق ہو گئے، جاں بحق ہونیوالوں میں دو ماہ کی شیر خوار بچی بھی شامل ہے، حادثہ ملاحوں کی کشتیوں میں گنجائش سے زیادہ سواریاں بٹھانے کے باعث پیش آیا ڈوبنے والوں میں 26سیاحوں کو زندہ بچا لیا گیا، حیدرآباد میں پکنک منانے آنیوالے3 نوجوان نہاتے ہوئے دریائے سندھ میں ڈوب گئے، ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے ڈیرہ دریا خان میں پل پار کرتے ہوئے دریائے سندھ میں باپ بیٹی ڈوب کر جاں بحق ہوگئے، ڈیرہ غازیخان، خانیوال، میاں چنوں، محسن وال اور وہاڑی میں ڈوب کر 7افراد جان کی بازی ہار گئے۔

خانیوال کے علاقے تلمبہ میں 2 بچے دریائے راوی میں نہاتے ہوئے ڈوب کر جاں بحق ہو گئے، وہاڑی اور میلسی کے درمیان کرم پور قصبہ کے موضع حسن شاہ کے ایک ہی خاندان کے 3 نوجوان عید کے تیسرے روز دریائے ستلج میں نہانے کے دوران ڈوب کر جاں بحق ہو گئے، نارووال میں عید کے روز دریائے راوی میں نہاتے ہوئے نوجوان ڈوب گیا، شاہ پور سٹی اور گروٹ میں بچے سمیت 3 افراد ڈوب کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے، کلر سیداں میں دریائے جہلم سے پانچ افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جاں بحق ہونے والے تمام افراد کا تعلق مظفرآباد سے ہے اور ان میں ایک کمسن بچہ بھی شامل ہے۔

امید کی جانی چاہیے کہ ورلڈ کانگریس آف ڈراوننگ 2000 ء کی سفارشات اور موجودہ حکومتی اقدامات کی روشنی میں ریسکیو پروفیشنلز کی ٹیم کی تقرری سمیت تفریحی مقامات، سمندر، دریائوں، نہروں، جھیلوں، آبشاروں اور پہاڑی چشموں کے اطراف حفاظتی انتطامات فول پروف بنائے جائیں گے جب کہ پولیس سمیت لائف گارڈز اور دیگر حکام کو قانون اور دفعہ 144 پر عملدرآمد کے لیے مکمل اختیارات اور فری ہینڈ دیا جائے گا۔

عوام سے بھی ہماری یہ استدعا ہے کہ سمندر اور تفریح کے دیگر مقامات پر تفریح اہل وطن کا حق ہے مگر اسے موت کا پروانہ نہ بنایاجائے۔ ڈوبنے والے کے لیے بچنے کا دورانیہ 20 سے60 سیکنڈ بتایا جاتا ہے، اس حیات آفرینی میں مہارت کے لیے ضروری ٹیم تشکیل دی جائے اور اس کے اہلکاروں کو ملک بھر کے تفریحی مقامات پر مامور کیا جائے۔ یہ جز وقتی نہیں کل وقتی کام ہے۔ ان مقامات پر چوبیس گھنٹے واچ ڈیتھ watch death قسم کا ادارہ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہی سب کے مفاد میں ہے۔