سری لنکا کو اقوام متحدہ کا انتباہ

کولمبو کے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس آنے والے پناہ گزینوں کی بھاری تعداد اس ملک کے وسائل پر بوجھ بن گئی ہے


Editorial August 03, 2014
کولمبو کے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس آنے والے پناہ گزینوں کی بھاری تعداد اس ملک کے وسائل پر بوجھ بن گئی ہے. فوٹو: فائل

ISLAMABAD: اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے کمیشن یو این ایچ سی آر نے سری لنکا پر زور دیا ہے کہ وہ پناہ کی تلاش میں سری لنکا آنے والے پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کر کے ان کے ملک واپس بھیجنا بند کر دے کیونکہ ایسا کرنا بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ واضح رہے سری لنکا نے 9 جون سے پناہ حاصل کرنے کے لیے آنے والوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے اور دو پناہ گزین کیمپوں میں 214 پاکستانی اور افغانوں کو حراست میں لے لیا تا کہ انھیں واپس بھجوایا جا سکے۔

کولمبو کے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس آنے والے پناہ گزینوں کی بھاری تعداد اس ملک کے وسائل پر بوجھ بن گئی ہے جس سے علاقائی سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا۔ سری لنکا حکومت نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ پناہ گزینوں کے نام پر انسانی اسمگلر بھی اپنا کام دکھا رہے ہیں گزشتہ دو روز میں سری لنکا نے 18 افراد کو ڈی پورٹ کر دیا ہے جب کہ مزید دس افراد کو اتوار کے دن نکالے جانے کا اعلان کیا۔ یو این ایچ سی آر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت کہیں آنے والے پناہ گزینوں کو جبری طور پر نکالا جانا جرم ہے اور اس قانون کے دنیا کے تمام ممالک سختی سے پابند ہیں کہ وہ ایسے پناہ گزینوں کو جو اپنی جان یا آزادی کے خطرے کے تحت اپنے ملکوں سے نکلتے ہیں انھیں پناہ دیں۔

علاوہ ازیں اذیت رسانی کے انسداد کے عالمی کنونشن کے تحت ان پناہ گزینوں کو ان کے وطن واپس نہیں بھیجا جا سکتا جنھیں وہاں پر ایذا دیے جانے کا خطرہ ہو۔ ادھر سری لنکا کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ 2013-14ء کے عرصہ میں وہاں آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں 700 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ 30 جون تک وہاں پناہ کی تلاش میں آنے والوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے تجاوز کر چکی تھی جب کہ 308 مہاجرین اس کے علاوہ تھے جنھیں کہ سری لنکا کی اپنی سلامتی اور علاقائی سیکیورٹی کے باعث واپس بھیجا جانا ضروری ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سری لنکا غالباً دنیا کا واحد ملک باقی رہ گیا تھا جہاں پاکستانیوں کے لیے کسی ویزے کی ضرورت نہیں تھی۔ اب چونکہ سری لنکا کا دروازہ پاکستانیوں کی خاطر کھلا تھا مگر انسانی اسمگلروں کی لالچ نے یہ دروازہ بھی بند کرا دیا۔ اقوام متحدہ نے اگرچہ سری لنکا پر زور دیا ہے کہ وہ پناہ کے لیے آنے والوں کو ڈی پورٹ نہ کرے مگر کیا اقوام متحدہ کی یہ درخواست مانی جائے گی اس کے بارے میں وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ اس صورتحال کا یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ آخر ہمارے نوجوان ترکِ وطن کے لیے کیوں مجبور ہوتے ہیں اس کا ایک جواب تو بیروزگاری کا عذاب ہے اور دوسرا ناانصافی جو انسان کو اپنے مادر وطن کو ترک کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔