قومی بچت اسکیموں پر ود ہولڈنگ ٹیکس میں اضافہ

دس فیصد ٹیکس کے بعد اب ایک ہزار میں سے سو روپے کٹتا ہے ۔۔۔


Editorial August 08, 2014
دس فیصد ٹیکس کے بعد اب ایک ہزار میں سے سو روپے کٹتا ہے. فوٹو: فائل

حکومت نے قومی بچت کی اسکیموں کے منافع پر دس سے پندرہ فیصد وِدہولڈنگ ٹیکس عائد کر دیا ہے اور فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) کی ہدایت پر محکمہ قومی بچت نے ود ہولڈنگ ٹیکس کٹوتی کا آغاز بھی کر دیا ہے تاہم بہبود اور پنشن اسکیم ودہولڈنگ ٹیکس سے مستثنیٰ رکھی گئی ہے۔

قومی بچت کی اسکیموں میں بالعموم عمر رسیدہ ریٹائرڈ لوگ' بیوہ خواتین یا پھر وہ سفید پوش طبقہ جو کاروبار کرنے سے گھبراتا ہے۔ اپنی جمع پونجی رکھتے ہیں جن کا اور کوئی ذریعہ آمدنی نہیں ہوتا اور ان کا گزارہ بس اس تھوڑے سے منافع پر ہوتا ہے جو ویسے ہی بہت کم ہوتا ہے اور اگر اب اس پر بھی 15 فیصد تک کا ود ہولڈنگ ٹیکس عاید کرکے ان بیچاروں کو ماہ بماہ ملنے والی رقم اور زیادہ کم ہوگئی ہے۔

دس فیصد ٹیکس کے بعد اب ایک ہزار میں سے سو روپے کٹتا ہے جب کہ پندرہ فیصد ٹیکس کٹوتی کے بعد اب سفید پوش طبقے کو ہزار روپے میں سے صرف ساڑھے آٹھ سو روپے ملتے ہیں اور ان کی دال روٹی جو ٹیکس کٹوتی کے بغیر بھی بمشکل چلتی ہے ۔ پندرہ فیصد کٹوتی کے بعد تو ان بیچاروں کا گزارہ اور مشکل ہو جائے گا۔ محکمہ قومی بچٹ کو جو لیٹر لکھا گیا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے وفاقی بجٹ میں انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ لوگوں کے لیے قومی بچت کی اسکیموں کے منافع پر دس فیصد جب کہ نان رجسٹرڈ لوگوں کے لیے قومی بچت کی اسکیموں کے منافع پر پندرہ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

گزشتہ ماہ بچت اسکیموں کے اکائونٹ ہولڈرز کو فراہم کیے جانے والے منافع پر ودہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی نہیں کی گئی تھی جس پر قومی بچت کو ہدایت کی گئی تھی۔ محکمہ قومی بچت کی طرف سے یکم اگست سے اکائونٹ ہولڈرز کو فراہم کیے جانے والے منافع پر دس سے پندرہ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی کی گئی ہے۔ بہر حال قومی بچت کا ادارہ حکومت کے لیے عوام سے رقوم حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس پر جو منافع ادا کیا جاتا ہے'وہ افراط زر کے مقابلے میں کم ہے' زیادہ بہتر ہوتا کہ اگر اس منافع پر ودہولڈنگ ٹیکس میں اضافہ نہ کیا جاتا۔