ڈاکٹر طاہر القادری کا احتجاج اور حکومتی اقدامات

حکومتی اقدامات کے نتیجے میں پنجاب کے شہروں خصوصاً لاہور میں پولیس اور عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان تصادم بھی ہوا


Editorial August 09, 2014
حکومتی اقدامات کے نتیجے میں پنجاب کے شہروں خصوصاً لاہور میں پولیس اور عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان تصادم بھی ہوا ۔ فوٹو : فائل

ڈاکٹر طاہر القادری کے احتجاج اور عمران کے 14 اگست کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے حکومت نے جو اقدامات کیے اس کے باعث جمعہ او ر ہفتہ کے دو روز پنجاب کے عوام نے انتہائی تکلیف، پریشانی اور نفسیاتی دباؤ میں گزارے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے لاہور میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی یاد میں یوم شہداء کے نام سے تقریب کا اعلان کر رکھا تھا۔

اس موقع پر پنجاب حکومت نے جو حفاظتی اقدامات کیے، اس میں فہم و فراست کی کمی نظر آئی۔ لاہور شہر میں معروف اور اہم مقامات پر بھاری کنٹینرز اور بیریئرز لگا کر انھیں بند کر دیا گیا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کو جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے۔ پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی ایسی ہی صورت حال رہی۔ ان اقدامات کے اثرات یوں ظاہر ہوئے کہ پنجاب کے بڑے شہروں خصوصاً لاہور میں پٹرول اور کھانے پینے کی اشیاء کی قلت پیدا ہو گئی۔ پٹرول کی قلت کے جو اثرات عوامی و کاروباری زندگی پر مرتب ہوتے ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔

جو چند ایک پٹرول پمپ کھلے تھے وہاں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ دوسرے شہروں سے لاہور آنے والے مسافروں کو بے پناہ مشکلات و مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ بیسیوں لوگ مری، ناران کاغان سے لاہور واپس آنا چاہتے تھے لیکن وہ بھی راستے میں ہی پھنس گئے۔ پنجاب کا صوبائی دارالحکومت ایک طرح سے ملک بھر سے کٹ گیا۔ حکومت کے جن مشیروں نے اس قسم کے حفاظتی اقدامات تجویز کیے، درحقیقت انھوں نے حکومت کے ساتھ اچھائی نہیں کی۔ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں عوامی تحریک کے ورکروں میں اشتعال پیدا ہونا فطری امر تھا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی تقاریر سے بھی اس کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ ادارہ منہاج القرآن کو بھی سیل کر دیا گیا تھا۔

ان اقدامات کے نتیجے میں پنجاب کے شہروں خصوصاً لاہور میں پولیس اور عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان تصادم بھی ہوا جس کے نتیجے میں ہلاکتیں بھی ہوئیں۔ عوام کے شدید دباؤ کے باعث اگلے روز حکومت نے رکاوٹیں ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ ان سطور کے لکھے جانے تک لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں سے رکاوٹیں ہٹانے کا عمل شروع کر دیا گیا تھا۔ دیر سے ہی سہی حکومت نے رکاوٹیں فیصلہ کر کے درست سمت میں قدم اٹھایا ہے تاہم سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر یہ کام دو روز پہلے ہی کر لیا جاتا تو عوام نے ان ایام میں جو عذاب بھگتا ہے وہ نہ بھگتتے اور حکومت پر بھی جو تبرا ہوا وہ بھی نہ ہوتا۔جمہوری معاشروں میں سیاسی و مذہبی جماعتیں، مزدور انجمنیں حتیٰ کہ طلبہ تنظیمیں تک جلسے کرتی رہتی ہیں۔

جلوس نکالتی ہیں اور دھرنے دیتی ہیں۔ حکومت اور انتظامیہ کا کام اس سارے عمل کو خوش اسلوبی سے ہینڈل کرنا ہوتا ہے۔ عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے سانحہ ماڈل ٹاؤن لاہور کی یاد میں یوم شہداء منانے کا اعلان کر رکھا تھا۔ زیادہ بہتر ہوتا اگر حکومت انھیں اپنی تقریب منعقد کرنے میں سہولتیں فراہم کرتی۔ عوامی تحریک کے مشورے سے مناسب نوعیت کے حفاظتی اقدامات کیے جاتے تو کچھ بھی نہیں ہونا تھا بلکہ حکومت کا ایک اچھا امیج سامنے آنا تھا لیکن ہوا اس سے برعکس۔ حکومت نے ایسے اقدامات کیے ہیں جیسے ملک میں کوئی طوفان آنے والا ہو۔ غیرمعمولی حفاظتی اقدامات کے نتیجے میں ایک جانب عوامی تحریک کے کارکنوں میں یہ خوف پیدا ہوا کہ کہیں ان کے ساتھ سانحہ ماڈل ٹاؤن والا سلوک نہ دہرا دیا جائے اس لیے انھوں نے جارحانہ طرزعمل اختیار کیا۔

دوسری جانب عوام میں بھی خوف پیدا ہوا کہ خدانخواستہ کوئی حادثہ رونما ہونے والا ہے جس کے باعث پنجاب میں نہیں بلکہ ملک بھر میں خوف کی لہر پیدا ہوئی اور سیاسی بے یقینی میں اضافہ ہوا۔ بہرحال حکومت نے یہ اچھا فیصلہ کیا ہے کہ رکاوٹیں ہٹا دی ہیں۔ اب 14 اگست کو عمران خان کا لانگ مارچ ہونا ہے۔ حکومت کو اب اپنے اوسان بحال رکھتے ہوئے فیصلے کرنے چاہئیں۔ میڈیا میں جو اطلاعات آ رہی ہیں اس سے تو یہی لگتا ہے کہ حکومت اب راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی لاہور جیسے اقدامات کرنے کے لیے پر تول رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ حالات کچھ زیادہ بہتر نہیں۔ ادھر اس صورتحال کو ڈفیوز کرنے کے لیے بھی کوئی پالیسی سامنے نہیں آتی۔

تحریک انصاف اور عوامی تحریک جس طریقے سے احتجاج کر رہی ہیں، انھیں اعتماد میں لینے کی کوئی بامعنی کوشش سامنے نہیں آئی۔ اب صورتحال گھمبیر ہوتی جا رہی ہے۔ حکومت کو موجودہ صورت حال میں ہوش مندی اور زیرکی کا مظاہرہ کرنے چاہیے۔ احتجاجی مظاہروں، لانگ مارچوں، دھرنوں اور جلسوں کو زبردستی روکنا نقصان کا باعث ہوتا ہے۔ ماضی میں محترمہ بینظیر بھٹو نے بھی لانگ مارچ کیے اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی سربراہی میں بھی مسلم لیگ (ن) نے لانگ مارچ کیے، یہ لانگ مارچ پرامن رہے۔

جمہوریت کی خوبصورتی ہی یہ ہے کہ اس میں اپوزیشن کو احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے لانگ مارچ کرنے یا جلسہ کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ حکومت کا کام اسے سخت اقدامات کر کے روکنا نہیں ہوتا بلکہ احتجاج یا لانگ مارچ کو پرامن رکھنا ہوتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عمران خان کے لانگ مارچ کے لیے سہولت فراہم کرے۔ ماضی میں ڈاکٹر طاہر القادری نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا۔ اس وقت پیپلزپارٹی کی حکومت تھی۔ یہ دھرنا مذاکرات کے نتیجے میں خوش اسلوبی سے ختم ہو گیا تھا۔ موجودہ حکومت کو بھی ویسی ہی فہم و فراست کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔