قومی سلامتی کانفرنس…مثبت اشارے

جمہوریت میں اپنے جائز مطالبات کو منوانے کے لیے احتجاج کسی بھی سیاسی جماعت کا آئینی اور بنیادی حق ہے


Editorial August 10, 2014
جمہوریت میں اپنے جائز مطالبات کو منوانے کے لیے احتجاج کسی بھی سیاسی جماعت کا آئینی اور بنیادی حق ہے. فوٹو:ایکسپریس نیوز/فائل

ملک میں اس وقت سیاسی صورت حال خاصی پیچیدہ اور غیر تسلی بخش ہو چکی ہے۔ ایک جانب شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب جاری ہے تو دوسری جانب حکومت مخالف سیاسی جماعتیں لانگ مارچ، دھرنے اور انقلاب لانے کے نعرے لے کر میدان عمل میں سرگرم ہو چکی ہیں اور ہنگامہ آرائی کی کیفیت چل رہی ہے۔ ان حالات میں حکومت نے اپنی اتحادی اور دیگر پارلیمانی سیاسی جماعتوں کو ان دونوں ایشوز پر اعتماد میں لینے کے لیے قومی سلامتی کانفرنس کا انعقاد کیا۔

ہفتے کو وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کانفرنس وزیراعظم ہائوس میں منعقد ہوئی جس میں سیاسی و عسکری قیادت نے شرکت کی۔اس کانفرنس میں شرکاء کو شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرف عضب کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کانفرنس سے خطاب میں تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان اپنے مطالبات کے ساتھ ہم سے بات کریں' اس وقت ملک کسی بھی لانگ مارچ کا متحمل نہیں ہو سکتا' 10حلقوں میں دوبارہ گنتی کے لیے کوئی بھی فارمولا تلاش کرنے کے لیے تیار ہیں' پی ٹی آئی کے مطالبات پر بغیر ہچکچاہٹ بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔

کسی کی بھی جائز شکایت سننے کو تیار ہیں' تاہم انھوں نے ڈاکٹر طاہر القادری کا نام لیے بغیر طنزاً کہا کہ جو کہتے ہیں ہم انقلاب لائیں گے پہلے بتائیں کہ انقلاب کیا ہے۔ اس موقع وہ اگر عوامی تحریک سے مذاکرات کا اشارہ بھی دے دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا، اس سے ملک میں جاری سیاسی تناؤ میں کمی آنے کی توقع تھی۔

جمہوریت میں اپنے جائز مطالبات کو منوانے کے لیے احتجاج کسی بھی سیاسی جماعت کا آئینی اور بنیادی حق ہے لیکن اس احتجاج میں اس امر کو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ یہ ہر صورت پر امن ہو اور کسی قسم کی افراتفری اور ملکی نظام میں رخنہ نہ ڈالا جائے۔ دوسری جانب حکومت پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے ہونے والے احتجاج اور دھرنوں سے حکمت اور دانشمندی سے نمٹے' انھیں بغاوت یا فساد تصور کرتے ہوئے کوئی ایسا جارحانہ قدم نہ اٹھائے جس سے احتجاج محاذ آرائی کی صورت اختیار کرلے اور ملک میں ہر طرف افراتفری پھیل جائے۔

سیاست بڑا بے رحم اور بے حس کھیل ہے' اس کھیل میں ہر سیاسی جماعت کی منزل اقتدار ہوتی اور اپنے اس مقصد کو پانے کے لیے وہ ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرتی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ ان حقائق کی غمازی کرتی ہے کہ سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کے نام پر سیاست تو کی مگر جمہوری اقدار و روایات کی کبھی پاسداری نہیں کی۔یہاں تک کہ جمہوریت کے نام پر برسراقتدار آنے والی جماعتوں پر بھی یہ الزامات لگنا شروع ہوگئے کہ ان کا رویہ آمرانہ ہے اور وہ اپنی مخالف سیاسی جماعتوں کو دبانے کے لیے ناجائز حربے بھی استعمال کرنے سے دریغ نہیں کر رہیں۔

دوسری جانب الیکشن ہارنے والی جماعتوں نے بھی اپنی شکست کو خوش دلی سے تسلیم کرنے کے بجائے حکومت کو ناکام بنانے کے لیے احتجاج ،دھرنے اور ہنگامہ آرائی کا راستہ اختیار کیا۔ جمہوریت کی مالا جپنے والی سیاسی جماعتوں کیان اقدامات نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا اور آمریت کا راستہ ہموار ہوا۔ جمہوریت کا جب بھی تختہ الٹا گیا اس کے پیچھے کون سے عوامل کار فرما تھے یہ ایک الگ بحث ہے مگر اس میں پہلا اور بنیادی قصور سیاسی جماعتوں ہی کا تھا چاہے وہ اقتدار میں تھیں یا حزب مخالف کا حصہ۔

اس وقت بھی ملک میں حکومت کے خلاف دھرنوں اور لانگ مارچ کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ حکومت اور حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں کو اس امر کا خیال رکھنا چاہیے کہ سیاسی اختلافات کو محاذ آرائی کی شکل نہ دی جائے کیونکہ ملک مزید کسی نئے بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران آپریشن ضرب عضب کے حوالے سے کہا کہ دہشت گردی نے پاکستان کو شدید نقصان پہنچایا، اس لیے آپریشن ناگزیر ہو چکا تھا' ملک کو اس وقت امن کی ضرورت ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل عامر ریاض نے قومی سلامتی کانفرنس کے شرکاء کو آپریشن ضرب عضب پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آپریشن کے اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں' دہشت گردوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ کر دیا گیا' دہشت گرد بھاگ رہے ہیں' ضرب عضب آپریشن کے ردعمل کو روکنے کے لیے فوج کو آئینی اور قانونی تحفظ دیا گیا ہے۔

قومی سلامتی کانفرنس کے شرکاء کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بتایا کہ فوج شمالی وزیرستان میں زیادہ دیر نہیں رکے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ مسلح افواج شمالی وزیرستان میں کامیابی سے آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے،شوال کے علاقے میں مزاحمت کا سامنا ہے،تھوڑے دن درکار ہیں ،کوشش ہے کہ علاقے کو جلد از جلد کلیئر کرا لیں' کلیئر کرائے گئے علاقوں میں آئی ڈی پیز کو واپس بھجوانے پر غور کر رہے ہیں، افغانستان جانے والے آئی ڈی پیز واپس آگئے ہیں۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی باتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سارے شمالی وزیرستان میں جلد ہی فوج کا کنٹرول مکمل ہو جائے گا اور آئی ڈی پیز کی واپسی شروع ہو جائے گی،یہ خوش کن امر ہے اور امید ہے کہ یہ خطہ جلد ہی امن کا گہوارہ بن جائے گا۔ فوج نے ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے جو قربانیاں دی ہیں وہ قابل تحسین ہیں اور پوری قوم کو اس پر فخر ہے۔ شمالی وزیرستان دہشت گردوں کی آخری محفوظ پناہ گاہ تھی جہاں سے وہ پورے ملک میں دہشت گردی کی وارداتوں کو کنٹرول کر رہے تھے۔

اب شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ ہونے سے امید ہے کہ ملک میں دہشت گردی کی وارداتوں میں نمایاں کمی ہو گی۔ اس آپریشن کی کامیابی سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ اگر دہشت گردوں کی ملک کے دیگر حصوں میں کوئی پناہ گاہیں ہیں تو انھیں بھی جلد ختم کیا جا سکتا ہے۔اخباری خبروں کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بتایا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی بدستور ایک خطرہ رہے گی جس کے لیے پاکستان اور افغانستان کو ملک کر حل نکالنا ہو گا۔

انھوں نے واضح کیا کہ پوری کوشش ہے کہ افغانستان فرار ہونے والے دہشت گردوں کی واپسی نہ ہو سکے۔ ذرایع کے مطابق سیاسی و عسکری قیادت نے اتفاق کیا کہ اس معاملے پر بھرپور توجہ دی جائے گی اور نئی افغان حکومت کے ساتھ فوری طور پر روابط قائم کیے جائیں گے تاکہ دہشتگردوں کو افغانستان سے جو مدد مل رہی ہے اس کا سدباب کیا جا سکے۔ موجودہ صورت حال اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے آخری مضبوط اور محفوظ ٹھکانے ختم ہونے کے بعد اب افغانستان ان کی پناہ گاہ بن چکا ہے۔ جب تک یہ پناہ گاہ موجود ہے پاکستان میں دہشت گردی کا خطرہ موجود رہے گا۔

سرحد پار سے ہونے والے حملے اس امر کی واضح گواہی دیتے ہیں' دہشت گردوں کے گروہ سرحد پار سے پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر حملے کر رہے ہیں۔ پاکستان کے بار بار احتجاج کے باوجود افغان حکومت اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کر رہی۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ افغان حکومت پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کرے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر افغان حکومت نے دہشت گردی پر قابو نہ پایا تو آنے والے سالوں میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کشیدہ اور سرحدوں پر جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ پاکستانی حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ اس کے افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم ہوں تاکہ اس کی شمال مغربی سرحد محفوظ ہو سکے۔

قومی سلامتی کانفرنس میں شریک تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنمائوں نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھنے' مستقل بنیادوں پر پاکستان سے دہشت گردی' انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی کی تشکیل اور اس پر مکمل عملدرآمد پر اتفاق کیا۔ پاکستان کو اس وقت سب سے بڑا خطرہ دہشت گردی سے ہے۔ یہ خوش آیند بات ہے کہ ملک کی مذہبی اور سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے خاتمے کے ایجنڈے پر متفق ہیں۔ ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ناگزیر ہے کہ تمام سیاسی قوتیں متحد ہو کر حکومت کا ساتھ دیں۔