امن واستحکام کا امریکی روڈ میپ ہے کہاں

حقیقت یہ ہے کہ غزہ،عراق اور مصر کے واقعات ایک ہی سلسلے کی مختلف کڑیاں ہیں ...


Editorial August 11, 2014
حقیقت یہ ہے کہ غزہ،عراق اور مصر کے واقعات ایک ہی سلسلے کی مختلف کڑیاں ہیں. فوٹو: فائل

غزہ کے صورتحال کے پس منظر مین جنگ بندی اور دیگر امن قائم کرنے کے اقدامات کے حوالے سے مشرق وسطیٰ کی سیاست کو ایک بڑے بھنور کا سامنا ہے، عراق ،شام ، مصر اور فلسطین میں جو کچھ ہورہا ہے عالمی برادری ابھی تک اس صورتحال کی مجموعی تپش کے ادراک سے یا تو پہلو تہی کررہی ہے یا مسئلہ کے اہم شراکت داروں کو اس بربادی کا احساس شاید اس وقت ہوجائے جب خطے میں امن سرنگوں ہوگا اور سامراجی اور استعماری قوتوں کو اسرائیل کی بقا کی خاطر خطے کی نئی ڈیزاننگ کی کھلی چھوٹ مل جائے گی۔

اغلب امکان یہی ہے کہ عرب لیگ کونسل نے غزہ کی صورتحال پر ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا اتوار کو جو اعلان کیا وہ اسی سمت ایک پیش رفت ہے ۔اجلاس میں 14 جولائی کے منعقدہ اجلاس میں عرب وزراء خارجہ کونسل کے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائیگا اور غزہ میں حالیہ اسرائیلی جارحیت کا معاملہ زیر بحث آئیگا ۔ادھر اسرائیلی فوج نے غزہ میں بمباری کا سلسلہ جاری رکھا جس میں مزید 3 فلسطینی شہید ہوگئے۔ دریں اثنا مصری فوج کی جزیرہ نما سینا میں تازہ کارروائی میں 60 عسکریت پسند ہلاک ہوگئے اور102کو گرفتار کر لیا گیاجب کہ رفاہ کے مقام پر بمباری میں 20سرنگیں بھی تباہ کردی گئیں۔

عراق میں باغیوں نے500 اقلیتی گروہ کے افراد قتل کردیے۔ ہلاکتوں کی کارروائیاں اتنی بہیمانہ بتائی جاتی ہیں کہ اس پر قلم لرزاں و حیراں ہے ۔ ذرایع ابلاغ کے مطابق مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں جنگ بندی کی کوششوں کے مطابق مصر کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس 72گھنٹے کی جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں تاہم اسرائیل نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ حماس کی طرف جاری حملوں کے دوران کسی مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے جب کہ فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت اسرائیل کو جلد ہی جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت بین الاقوامی فوجداری عدالت میں لے جائے گی۔ ادھر اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کے باہر سیکڑوں افراد نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

مظاہرے میں بڑی تعداد میں پاکستانیوں نے بھی شرکت کی ۔ حقیقت یہ ہے کہ غزہ،عراق اور مصر کے واقعات ایک ہی سلسلے کی مختلف کڑیاں ہیں،امریکی جریدہ ''فارین افیئرز''نے ایک کتاب''دی اینڈ گیم آف عراق'' شایع کی جس میں یہ تجزیہ پیش کیا گیا ہے کہ2006 ء میں امریکی مداخلت کے بعد عراق آج بھی وہیں کھڑا ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ آیندہ امریکی کردار کیا ہوگا جب کہ امریکا کی متوقع صدارتی امیدوار سابق وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کا کہنا ہے کہ مغرب، شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف سرگرم باغیوں کی مدد کرتا تو آج شدت پسند داعش کا کوئی وجود نہ ہوتا۔

دی اٹلانٹک نامی امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق ہیلری کلنٹن نے ایک انٹرویو میں صدر بارک اوباما کی پالیسیوں سے سخت اختلاف کیا اور کہا کہ اسرائیل نے غزہ پرحملہ اپنے دفاع میں کیا۔بہر حال اسرائیلی دفاع کی جس ظالمانہ تھیوری کو ہیلری بطور استدلال پیش کرتی ہیں وہ فلسطینیوں کے خون ناحق کو رزق خاک ہوتے دیکھنے کی سامراجی ہوس سے زیادہ کچھ نہیں، امریکی میڈیا میں صدر اوباما کی عراق میں مداخلت اور بمباری کے ساتھ ساتھ غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور بربریت کی حمایت پر اضطراب نمایاں ہوگیا ہے، اور ایک مبصر نے اوباما کو ان کے ''جھوٹے چہرہ'' کے تناظرمیں فلسطینی عوام کے دکھی دلوں کا حوالہ دیا ہے۔

یاد رہے صدر اوباما 2008 ء میں یہ ارشاد فرما چکے ہیں کہ وقت آگیا ہے کہ عراق میں اربوں ڈالر خرچ کرنے کے بجائے یہ رقم امریکی شہریوں کی فلاح وبہبود پر خرچ کی جائے مگر ایسا نہیں ہوا ۔ سوال یہ ہے کہ وہ امن،انصاف اور آزادی کا روڈ میپ کہاں غائب ہوگیا جس کا ہر امریکی صدر نے چرچا کیا اور تاحال عجم وعرب کے باسیوں کو اجتماعی سکون ، امن، اور حقیقی آزادی کی وہ منزل نہیں ملی جسے خطے کے استحکام اور معاشی ، سیاسی آزادی اور آسودگی سے تعبیر کیا جاسکے ۔