بھارت کی سیالکوٹ بارڈر پر گولہ باری

بھارت کی طرف سے بلااشتعال گولہ باری کے واقعات کوئی نئی بات نہیں ۔۔۔


Editorial August 12, 2014
بھارت کی طرف سے بلااشتعال گولہ باری کے واقعات کوئی نئی بات نہیں ۔ فوٹو: رائٹرز/فائل

سیالکوٹ بارڈر پر بھارتی سیکیورٹی فورسز کی گولہ باری اور بلااشتعال فائرنگ سے ایک خاتون شہید جب کہ 4 افراد زخمی ہو گئے۔ رینجرز ذرایع کے مطابق پیر کی رات آٹھ بجے کے قریب بھارتی فورسز نے سیالکوٹ چاروا سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ شروع کر دی اور مارٹر گولے پھینکے جس کے باعث سرحدی گاؤں کھوکھر شہبا کی رہائشی خاتون نسرین بی بی شہید اور چار افراد زخمی ہو گئے، متعدد مویشی ہلاک ایک مسجد اور کئی گھروں کو بھی نقصان پہنچا، چناب رینجرز کی جوابی کارروائی سے بھارتی گنیں خاموش ہوگئیں۔

بھارت کی طرف سے بلااشتعال گولہ باری کے واقعات کوئی نئی بات نہیں بلکہ ایسے واقعات تواتر سے جاری ہیں اور جب بھارت سے احتجاج کیا جاتا ہے تو اس کا گھڑا گھڑایا جواب یہ ہوتا ہے کہ پہل ہماری طرف سے ہوئی اس کے علاوہ وہ یہ الزام بھی لگاتا ہے ہماری جانب سے اس گولہ باری کی آڑ میں دراندازی کی جاتی ہے۔ بھارت کے اس الزام کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مقبوضہ وادی میں جاری آزادی کی تحریک کو بیرونی مداخلت کا نتیجہ قرار دیا جا سکے اور یوں ان لاکھوں کشمیریوں کی قربانیوں پر پردہ ڈالا جا سکے جن کی قبروں سے کشمیر کے قبرستان بھرے ہوئے ہیں۔

دوسری طرف بھارت کی سرحدی حفاظتی فورس بی ایس ایف کے حکام کا کہنا ہے کہ پاک فوج کی جانب سے آر ایس پورہ سیکٹر میں فائرنگ کی گئی جس سے دو جوان اور دو خواتین زخمی ہو گئیں۔ تاہم پاکستان نے بھارت سے ورکنگ بائونڈری پر بلااشتعال فائرنگ پر پر زور احتجاج کیا ہے، بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے کہا گیا ہے کہ اس طرح کے افسوسناک واقعات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دونوں طرف کی قیادت نے باہمی تعلقات میں بہتری پر آمادگی ظاہر کی ہے، اس کے نتیجے میں پاک بھارت سیکریٹری خارجہ سطح مذاکرات ہونے کی راہ ہموار ہوئی۔

چند روز قبل بھارتی فوج نے بکریاں چراتے ہوئے غلطی سے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے والے آزاد کشمیر کے ایک شہری کو شہید کر دیا تھا۔ اس سے قبل بھارتی سیکیورٹی فورس کا ایک سپاہی پاکستانی حدود میں آ گیا تو رینجرز نے اسے گرفتار کر لیا تھا مگر پاکستانی سپاہیوں نے اسے تشدد کا نشانہ بنانے یا ہلاک کرنے کے بجائے اس کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا۔ بھارتی حکام کو سرحدی خلاف ورزیوں پر توجہ دینی چاہیے۔ بھارتی سرحدوں پر تعینات سیکیورٹی حکام جو کچھ کر رہے ہیں' اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر ہونے کے بجائے بگڑ سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سرحدوں پر اس قسم کی اشتعال انگیزی روکی جائے۔