پشاور:
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پنجاب اسمبلی پہنچے جہاں اُن کی آمد کے ساتھ ہی شدید بدنظمی دیکھنے میں آئی، اسٹاف اور مہمانوں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پشاور سے دو روزہ دورے پر لاہور پہنچے، روانگی سے قبل وزیراعلی نے دعائے خیر کی، معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان اور صوبائی وزیر مینا خان بھی ان کے ساتھ تھے۔
چکری پر قیام و طعام کے لیے ایریاز سیل کرنے کا مطلب حکومت خوفزدہ ہے، وزیراعلیٰ
پنجاب پولیس نے چکری کے مقام پر قیام و طعام کے لیے مختص ایریا کو سیل کردیا۔ اس پر وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا کہ پنجاب حکومت اس قدر خوفزدہ ہے کہ قیام و طعام کا ایریا بھی بند کر دیا، ہم شروع دن سے کہتے آ رہے ہیں کہ یہ لوگ عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہیں، قیام و طعام کے مقامات سیل کرنا خوف کی واضح علامت ہے، عوامی نمائندوں کا راستہ روکنا دراصل عوام کی آواز دبانے کی ناکام کوشش ہے، جنہیں عوام کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہ ہو وہی سڑکیں اور سہولتیں بند کرتے ہیں، اقتدار کے سہارے عوامی حقوق سلب کرنا جمہوریت نہیں کھلی آمریت ہے، عوام جان چکے ہیں کہ خوف زدہ حکمران بند دروازوں کے پیچھے فیصلے کرتے ہیں۔
کے پی کے معاون خصوصی اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ منتخب پارلیمنٹیرینز کے ہمراہ دورہ لاہور کی جانب رواں دواں ہیں، پنجاب پولیس نے چکری کے مقام پر وزیر اعلی کا راستہ روکا، دورے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا افسوسناک ہے، حسن ابدال اور چکری میں کارکنوں کے شاندار استقبال سے پنجاب حکومت خوفزدہ ہو گئی، پنجاب پر زبردستی مسلط حکومت آمریت کا مظاہرہ کر رہی ہے، پنجاب حکومت حوصلہ رکھے، ابھی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لاہور پہنچے بھی نہیں۔
شفیع جان نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے استقبال کے لیے لاہور میں کارکنوں کا جوش و جذبہ عروج پر ہے، پنجاب حکومت کے اوچھے ہتھکنڈوں سے ہم خوفزدہ نہیں ہوں گے۔
موٹروے پر بیرا ریسٹ ایریا آمد
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا موٹروے پر بیرا ریسٹ ایریا پہنچ گئے جہاں کارکنان اور عوام نے ان کا بھرپور استقبال کیا، کارکنان نے نعرے بازی بھی کی۔ بیرا ریسٹ ایریا عوامی جوش و خروش کا مرکز بن گیا، وزیراعلیٰ نے وہیں نماز جمعہ ادا کی، عوام کی بڑی تعداد وزیر اعلیٰ کے استقبال کے لیے بیرا ریسٹ ایریا میں موجود رہی۔
واضح رہے کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل فریدی دو روزہ دورے پر لاہور روانہ ہوئے ہیں، سہیل فریدی آج پنجاب اسمبلی پہنچیں گے جہاں وہ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی پنجاب کی پارلیمانی پارٹی سے ملاقات کریں گے۔
اتوار کے روز سہیل فریدی واپس روانہ ہوں گے۔
قافلہ لاہور انٹرچینج پہنچ گیا
وزیراعلیٰ کے پی کی قیادت میں قافلہ لاہور انٹرچینج پہنچ گیا۔
میڈیا سے گفت گو میں شفیع جان نے کہا کہ پنجاب غیرت مندوں کی سرزمین ہے، عوام نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا بھرپور استقبال کیا، ہمیں توقع تھی کہ وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو خوش آمدید کہیں گی۔
پنجاب حکومت نے اٹک تا لاہور قیام و طعام کے تمام مقامات سیل کردیے، شفیع جان
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پنجاب حکومت نے اٹک سے لاہور تک قیام و طعام کے تمام مقامات سیل کر رکھے تھے، وزیر اعلیٰ کے قافلے میں دانستہ رکاوٹیں ڈالی گئیں، پنجاب حکومت نے صوبے میں غیر اعلانیہ مارشل لا نافذ کر رکھا ہے، بانی چیئرمین عمران خان کی تصویر اور پارٹی جھنڈا اٹھانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، ہمیں سیاسی اسپیس دیا جائے، پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کا سیاسی اسپیس ختم کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی آج رات لبرٹی چوک جائیں گے، وزیراعلی اسٹریٹ موومنٹ کی قیادت کریں گے اور خطاب کریں گے، وزیر اعلیٰ لاہور میں قیام کے دوران صحافیوں، وکلاء، پارٹی رہنماؤں اور اسیران سے ملاقاتیں کریں گے۔
وزیر اعلی کے پی سہیل آفریدی کی پنجاب اسمبلی آمد پر دھکم پیل
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی پنجاب اسمبلی کی آمد پر اسٹاف اور مہمانوں کے درمیان دھکم پیل ہوئی جبکہ وہ صحافیوں کے سوالات کے جواب دئیے بغیر ہی اسمبلی لابیز پہنچ گئے۔
مرکزی جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ اور ایم این اے سردارلطیف خام کھوسہ ، اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی ، صاحبزادہ حسن رضا،نعیم پنجوتھا بھی موجود تھے۔
رانا شہباز نے تلاوت کلام پاک سے میٹنگ کا آغاز کیا اور کہا کہ پولیس نے وہ غنڈہ گردی کی ہے جسکی کوئی مثال نہیں ملتی۔
اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے وزیر اعلی کے پی سہیل آفریدی اور میٹ اپ کا انعقاد کرانے پر پارٹی رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا۔
اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین ریاض قریشی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب عمران خان کی چھتری کے نیچے اکٹھے ہیں، پنجاب اسمبلی میں کوئی گروپنگ نہیں ہے، اسمبلی آنے والے ایم پی ایز نے اپنے میڈیٹ پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیا۔
معین ریاض قریشی نے کہا کہ نو مئی کے بعد پہلی مرتبہ مال روڈ پر پی ٹی آئی کا پرچم لہرایا تو صعوبتیں برداشت کرنا پڑی، نو مئی کے جھوٹے مقدمات میں ہمارے دس ارکان اسمبلی کو دس دس سال کی سزا ہونی اور نااہل کیا گیا، ہمارے 26 ارکان اسمبلی کو وزیر اعلی پنجاب کی آمد پر احتجاج کی پاداش میں معطل کیاگیا۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ارکان اسمبلی نے ملکر عمران خان کا سر بلند کیا، اپوزیشن نے اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی چئیرمین شپ اور رکنیت چھوڑ دی۔ معین ریاض قریشی نے کہا کہ وزیر اعلی صاحب آپ بانی عمران خان کی چوائس ہیں تو ہم سب کی پسند ہیں، آپ اپنی اسمبلی جاتے ہیں آپ سے پہلے وزیر اعلی بھی تواتر سے اسمبلی جاتے ہیں، ہماری چیف منسٹر پنجاب صاحبہ صرف دو بار اسمبلی آئیں۔
معین ریاض قریشی نے وزیر اعلی کے پی سیکریٹریٹ میں ارکان پنجاب اسمبلی کاموں کے لیے ڈپٹی سیکرٹری لیول کا آفیسر ڈیپیوٹ کرنے استدعا کی۔
پنجاب اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو
قبل ازیں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پنجاب اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو شروع کی تو بدنظمی ہوئی تاہم تھوڑی دیر میں معاملے کو سنبھال لیا گیا۔
میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ بد قسمتی سے چکری انٹر چینج پر پنجاب پولیس نے ہمارے لوگوں کےںساتھ بہت بدتمیزی کی گئی، کل سے جو ہمارے ساتھ سلوک ہوا وہ فسطائیت ہے، پنجاب کی جعلی حکومت صرف سترہ سیٹیں لے کر آئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہماری بڑی بڑی انڈسٹری ملک چھوڑ کر جا رہی ہیں کیونکہ اُن کی گروتھ زیرو ہے، تیس لاکھ نوجوان ملک چھوڑ کر جا چکا ہے، آج موقع دیا جائے کہ نوجوان باہر جا سکتے ہیں تو ایمبسیوں کے باہر لمبی لمبی لائنیں لگ جائیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ جو لوگ ان کو لائے، جو بند کمروں میں فیصلے کررہے ہیں ان کو سوچنا چاہیے، اس حکومت کی ایک ہی ترجیح ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو جلسے نہ کرنے دے، بانی پی ٹی ائی کو باہر نہ آنے دے۔
انہوں نے کہا کہ چکری انٹر چینج پر پولیس والوں نے بدتمیزی کی گئی گرفتاریاں کی گئیں، ہمارے کارکن کے ساتھ فسطائیت جاری رکھی ہوئی ہے جعلی حکومت مسلسل ہمارے ساتھ زیادتی کررہی ہے، وفاق پر قابض سترہ سیٹوں کےلئے اس لیے لایا گیا اسٹاک ایکسچینج اوپر جا رہا ہے جبکہ ملکی قرضہ 43 ارب روپے سے بڑھ کر اسی ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کی ترجیحات بانی کو جھکانے ڈرانے میں ہو تو ملک نہیں چلے گا، ہمارے اور پارلیمنٹرین کے ساتھ بدتہذیبی اور بدتمیزی کی گئی، میں جو اب لاہور آیا ہوں اتنی تہذیب چھوڑ کر جائوں گا کہ یہ اخلاقیات سیکھ لیں۔