پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن الائنس نے مذکرات کی پیش کش قبول کرلی، اگر بات چیت میں عمران خان کی رہائی شامل نہ ہوئی تو قبول نہیں کروں گا۔
رہنما پی ٹی آئی علی محمد خان نے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہمارا اولین نکتہ ہے، احتجاج کی کال پی ٹی آئی کی طرف سے ہے، اپوزیشن الائنس نے مذاکرات کی پیشکش قبول کی۔
انہوں نے کہا کہ آئین کی حکمرانی ، سول سپریمیسی پر ہم بات کرنا چاہتے ہیں لیکن سن لیں کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہی تمام چیزوں کی کنجی ہے۔
انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ مجھ سے زیادہ مذاکرات کا کوئی حامی نہیں ہے لیکن اگر مذاکرات میں بانی کی رہائی کا نکتہ شامل نہیں تو میں بھی مذاکرات کو قبول نہیں کروں گا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ مذاکرات میں ہم نے کیا کرنا ہے کیا موسم کا حال پوچھنا ہے؟ مذاکرات میں ہم اصل چیز پر ہی بات کریں گے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دونوں طرف ہی غیر سنجیدگی ہے اور اسی غیر سنجیدگی کی وجہ سے بات آگے نہیں بڑھ رہی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ڈائیلاگ کی آفر کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قائدین کہتے کہ ٹھیک ہے ہم تیار ہیں، مذاکرات کی بات پر حکومت والوں کو بھاگنے ہی نہیں دیا جانا چاہیے تھا۔
علی محمد خان نے کہا کہ میں تو شہباز شریف کو پکڑ لو اور کہوں آپ نے ڈائیلاگ کی بات کی تو اس پر عمل کریں، مذاکرات کی بات کر کے حکومت نے پھر آگے کیا کیا ؟ حکومت مذاکرات کی بات کر کے پھر خاموش ہو کر بیٹھ گئی۔ کیا یہ صرف پانچ سال پورے کرنا چاہ رہے ہیں؟۔
رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ اپوزیشن الائنس نے بال حکومت کے کورٹ میں ڈال دی ہے ، بال تو شہباز شریف کی کورٹ میں پڑی ہے وہ کدھر ہیں؟ نیک نیتی ہو تو راستہ نکل ہی جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کو آگے لے جانے کے لیے یکسوئی کی ضرورت ہے جب تک بانی باہر نہیں آئیں گے سیاست میں کشیدگی کم نہیں ہو گی ، بانی پی ٹی آئی با ہر آتے ہیں تو پھر گفتگو پرفارمنس پر شروع ہو گی، اداروں پر تنقید ختم ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ بانی ایک شخص نہیں بلکہ ایک خیال اور نظریہ ہے جس کے ساتھ کروڑوں لوگ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب بات سنی جاتی ہے کہ تو مذاکرات کی ٹیبل پر آتے ہیں، مذاکرات میں کوئی گڑ بڑ ہو تو پھر احتجاج کی طرف جاتے ہیں۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں تو بہت پہلے سے کہہ رہا تھا کہ بڑے بات کریں، شکر ہے رانا صاحب نے 5 بڑوں کی بات کی ، اللہ کرے کہ 5 بڑے بڑے بن کر دکھائیں۔
انہوں نے کہا کہ دعا ہے یہ سال اسیران کی رہائی کا سال ہو ، ہم دائروں میں گھوم رہے ہیں ، پانچ بڑوں کی بات بظاہر مشکل لگتی ہے لیکن سب اپنی ذات سے نکل آئیں۔