2025ء افغان خواتین کے لیے ایک انتہائی تاریک اور دردناک سال ثابت ہوا ہے، جہاں افغان طالبان رجیم کے تحت انہیں بنیادی حقوق اور باوقار زندگی سے محروم کردیا گیا ہے۔
افغان میڈیا آمو ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں افغانستان میں خواتین کے خلاف جاری ظلم و جبر، سخت پابندیوں اور شدید نفسیاتی دباؤ کو بے نقاب کیا ہے، جس کے مطابق خواتین کی تعلیم، ملازمت اور عوامی زندگی میں شمولیت پر عائد پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔
آمو ٹی وی کے مطابق کابل اور دیگر صوبوں میں خواتین کو برقع پہننے پر مجبور کیا جا رہا ہے جب کہ ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی پر متعدد خواتین کو گرفتار بھی کیا گیا۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے۔ا سی طرح افغان یونیورسٹیوں سے خواتین اساتذہ اور ملازمین کو نکالا جا رہا ہے، جن میں ہرات یونیورسٹی سے 81 خواتین ملازمین کو برطرف کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
افغان میڈیا میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان نے خواتین کو اقوام متحدہ کی ایجنسیوں میں کام کرنے سے بھی روک دیا ہے، جس کے باعث انسانی امدادی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں افغانستان میں خواتین تقریباً مکمل طور پر عوامی زندگی سے خارج ہو چکی ہیں، جس کا اعتراف خود افغان میڈیا میں کیا جا رہا ہے۔
افغان جریدے ہشت صبح کے مطابق افغان خواتین نے سال 2025 کو اپنی زندگی کا بدترین اور سب سے زیادہ مایوس کن سال قرار دیا ہے۔ طالبان رجیم کے دور میں خواتین اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید فکرمندی کا شکار ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ طالبان کی پابندیوں کے باعث کئی ادارے انہیں ملازمت دینے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ہر 10 میں سے 9 خواتین ملازمت، تعلیم اور ہنر کی تربیت سے محروم ہیں۔ رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ خواتین کی آواز دبانا، پرامن احتجاج کو جرم قرار دینا اور خوف کے ذریعے معاشرے کو خاموش کرانا افغان طالبان رجیم کا مستقل وتیرہ بن چکا ہے۔