نوجوان صحافی کے آخری لمحات اور آخری گفتگو، دوست نے تفصیل بیان کردی

راجہ مطلوب، عدنان فیصل کی سالگرہ میں شرکت کیلیے آتے ہوئے کار حادثے کا شکار ہوگیا تھا


ویب ڈیسک January 03, 2026

نوجوان صحافی ومعروف ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹرراجہ مطلوب کے قریبی دوست نے ان کی آخری گفتگو اور حادثے سے متعلق تفصیلات شیئر کردیں۔ 

راجہ مطلوب پاکستان کے ایک معروف ڈیجیٹل چینل سے وابستہ تھے اور وہ اسلام آباد سے اپنی ویڈیو رپورٹس کی وجہ سے ایک الگ پہچان رکھتے تھے۔ 

تاہم، دسمبر میں وہ اچانک ایک کار حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے، یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب وہ اپنے قریبی دوست عدنان فیصل کی سالگرہ میں شرکت کے لیے جارہے تھے۔ 

عدنان فیصل بھی ایک معروف ڈیجیٹل کریئیٹر ہیں اور’ ایف ایچ ایم پاکستان‘ کے پوڈ کاسٹ کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ 

اسلام آباد کے سیکٹر جی-11 میں راجہ مطلوب کے حادثے کی ویڈیو سوشل میڈیا پرتیزی سے وائرل ہوئی، جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ دوست کی سالگرہ پر وقت پر پہنچنے کی کوشش میں تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہے تھے۔

آج عدنان فیصل نے ایک ویڈیو میں اپنی دوست سے متعلق کھل کر گفتگو کی اور اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے جب راجہ مطلوب ان کی سالگرہ منانے آتے ہوئے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

عدنان فیصل کا کہنا تھا کہ یہ سال میرے لیے بہت مشکل ہوگا کیونکہ میں نے اپنے سب سے پیارے دوستوں میں سے ایک، راجہ مطلوب کو کھو دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرے نصیب میں کامیابیاں تو ہوں گی لیکن میرے ساتھ راجہ مطلوب نہیں ہوگا، آپ نے سوشل میڈیا پر ایک حادثے کی وائرل ویڈیو دیکھی ہوگی، وہ میرا دوست راجہ مطلوب تھا جو میری سالگرہ پر آ رہا تھا۔

فیصل عدنان نے بتایا کہ میں نے اسے فون کیا اور کہا، تم کہاں ہو؟ میری اسلام آباد میں سالگرہ ہے اور تمہیں یہاں ہونا چاہیے، جس پر اس نے مجھے جواب دیا کہ میں کوئٹہ میں ہوں اور شاید شرکت نہ ہوسکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مگر وہ میرا ایسا دوست تھا جو ہر حال میں میری سالگرہ پر پہنچنا چاہتا تھا، جس کے لیے اس نے پرائیویٹ جیٹ لیا، لاہور میں لینڈ کیا اور پھر موٹروے کے ذریعے بہت تیز رفتاری سے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوا۔

عدنان فیصل نے روتے ہوئے بتایا کہ وہ مسلسل فون کرتا رہا اور کہتا رہا کہ وہ جلد پہنچ جائے گا، رات 10 بج کر 10 منٹ پر اس نے فون کیا اور کہا کہ میں اسلام آباد پہنچ گیا ہوں اور اسی کال کے دوران مجھے ایک زوردار ٹکر کی آواز سنائی دی۔

انہوں نے کہا کہ اسی لمحے ایک شخص نے اس کا فون اٹھایا اور مجھ سے کہا کہ حادثے کی جگہ پر آ جائیں، جس دوست کو آپ نے فون کیا تھا وہ فوت ہوچکا ہے اور جب میں وہاں پہنچا تو وہ خون میں لت پت تھا۔

عدنان فیصل کا کہنا تھا کہ میں نے اسے اپنی بانہوں میں لیا، اس وقت وہ میرے ہاتھوں میں آخری سانسیں لے رہا تھا، میں نے اس شخص سے پوچھا کہ کیا وہ زندہ ہے؟ اس نے بتایا کہ وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو چکا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں، مگر ان کا غم کبھی نہیں جاتا، راجہ چلا گیا ہے اور مجھے اس غم کے ساتھ ہی جینا ہوگا۔

مقبول خبریں