نیٹ فلکس کی مشہور زمانہ سیریز ’اسٹرینجر تھنگز‘ نے شائقین کو اپنا دیوانہ بنایا ہوا ہے۔ سیریز کا پانچواں اور آخری حصہ آن ایئر ہوچکا ہے اور کمائی کا ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔
اسٹرینجر تھنگز ایک امریکی سائنس فکشن اور ہارر سیریز ہے جو 1980 کی دہائی کے چھوٹے شہر ہاکنز، انڈیانا کی کہانی بیان کرتی ہے۔ اس سیریز میں بچوں اور نوجوانوں کے کردار، غائب ہونے والے افراد، مافوق الفطرت مخلوقات اور دنیا کے اپ سائیڈ ڈاؤن کے رازوں کا سامنا کرتے ہیں۔ پراثر کہانی، سنسنی اور دوستی و فیملی کے موضوعات نے اس شو کو عالمی سطح پر مقبول بنایا ہے۔
اسٹرینجر تھنگز کی مقبولیت کے بعد ہر طرف اس کا چرچا ہے اور سیریز پر کئی طرح کی میمز بھی بنائی جارہی ہیں۔ ایسے میں اسٹرینجر تھنگز کے مشہور کرداروں کو مشرقی اور پاکستانی لباس میں دیکھ کر مداح چونک گئے۔
جی ہاں! انٹرنیٹ پر اسٹرینجر تھنگز کی کئی تصاویر وائرل ہورہی ہیں، جس میں مشہور کرداروں نے نہ صرف پاکستانی لباس پہنا ہوا ہے بلکہ بیک گراؤنڈ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے مناظر بھی موجود ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر تصویر پر لکھے گئے کیپشن انھیں مزید مزاحیہ اور پرکشش بنا رہے ہیں۔ آیئے آپ کے ساتھ بھی وہ تصاویر شیئر کرتے ہیں۔ لیکن تصویروں کو انجوائے کرتے ہوئے یہ ذہن میں رکھیے کہ یہ صرف میمز ہیں، اور اسٹرینجر تھنگز کے کرداروں کو اے آئی کے ذریعے پاکستانی روپ دیا گیا ہے۔
ایک تصویر میں اسٹرینجر تھنگز کا مین کردار، یعنی الیون قمیض شلوار اور دوپٹہ پہنے قائداعظم کے مزار کے سامنے اپنے آئیکونک غصیلے انداز میں موجود ہے، لیکن جو چیز تصویر کو مزید دلچسپ بنارہی ہے وہ ہے کیپشن۔

ایک تصویر میں مائیک کو موبائل پر بات کرتے دکھایا گیا ہے اور ویکنا جیسے ولن سے لڑنے والے ہیرو کو اس کی امی واپسی پر دھنیا، پودینا، دودھ دہی لانے کی ہدایت دے رہی ہیں۔ یہ ممی بھی ناں!

اور ممی یعنی جوائس خود کیا کررہی ہیں؟ ایک تصویر میں اس کی بھی وضاحت ہے۔ جوائس استری پکڑے ہوئے چیخ رہی ہیں کہ استری کس نے آن کی ہے، جنریٹر چل رہا ہے۔ یہ ہم پاکستانیوں کے بجلی کے مسائل ختم نہیں ہوں گے۔

اور ہم عوام میں سے اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ چائے پیے بنا ان کا دماغ نہیں چلتا، ایسے لوگوں کی ترجمانی ڈسٹن نے کی ہے، جو چائے کا کپ تھامے کہہ رہے ہیں کہ پہلے چائے پلاؤ پھر دماغ چلے گا۔

وِل بائرز کو دماغی مریضوں کے اسپتال میں دکھایا ہے جو شکوہ کررہا ہے کہ وہ تو صرف قبرستان میں خود سے باتیں کررہا تھا اور اسے پکڑ کر ذہنی مریض بنادیا۔

دھرندھر مووی سے متاثر ہوکر ایریکا کو بھی لیاری میں پہنچا دیا گیا اور رحمان ڈکیت کی جگہ ایریکا ڈکیت کا نام دے دیا گیا۔

اسٹیو اور روبن پر پاکستانی لباس خوب جچ رہا ہے۔ اس خوبصورت جوڑی کو ریڈیو جوکی بنایا گیا ہے جو آخری ایپی سوڈ میں کیا ہوگا، اس بات کا چرچا کررہے ہیں۔

میکس اور لوکاس کی جوڑی کو بھی بالآخر روایتی دلہا دلہن کا روپ دے کر ان کی شادی کروا دی گئی۔

نینسی ویلر کی پاکستانی صحافی کے روپ میں دکھایا گیا ہے لیکن ان کی رپورٹنگ بھی سنجیدہ خبروں کے بجائے عاصم اظہر اور ہانیہ عامر کے معاشقے کی افواہیں پھیلانے پر مرکوز ہے۔

اور اس تصویر کو دیکھ کر تو آپ بھی سوچیں گے کہ سیریز میں اتنا کھڑاگ پھیلانے کی کیا ضرورت تھی۔ ویکنا جیسے شیطان کو قابو میں کرنے کےلیے تو ’’آیت الکرسی‘‘ کا ورد ہی کافی تھا۔

ان تمام تصاویر کو دیکھنے کے بعد اگر آپ کو انٹرنیٹ پر الیون بریانی کھاتی ہوئی اور جوناتھن اور جم ہوپر کی لانڈھی کورنگی میں گھومتے ہوئے تصاویر نظر آئیں تو یقین مت کرلیجئے گا۔ وہ بھی اے آئی کا ہی کمال ہے۔