اقوام متحدہ کے بعد افغان میڈیا کا انکشاف، طالبان کے مبینہ جرائم بے نقاب

رپورٹ کے مطابق طالبان نے 2025 میں افغانستان کے 29 صوبوں میں کم از کم 123 سابق فوجی اہلکاروں کو قتل کیا


ویب ڈیسک January 04, 2026

افغانستان میں طالبان حکومت پر سابق فوجی اہلکاروں کے خلاف سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

افغان جریدے ہشت صبح اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق 2025 کے دوران طالبان نے ملک بھر میں سابق سکیورٹی اہلکاروں کو منظم انداز میں نشانہ بنایا۔

ہشت صبح کی رپورٹ کے مطابق طالبان نے 2025 میں افغانستان کے 29 صوبوں میں کم از کم 123 سابق فوجی اہلکاروں کو قتل کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 20 صوبوں میں 131 سابق اہلکاروں کو گرفتار کر کے شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق طالبان کی جیلوں میں قید سابق فوجیوں پر بجلی کے جھٹکے، گرم سلاخوں اور فولادی کیبلز سے تشدد کیا گیا۔ بیشتر گرفتاریاں کسی عدالتی وارنٹ کے بغیر عمل میں لائی گئیں۔

متاثرہ خاندانوں نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان نے انہیں میڈیا سے بات کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں، جس کے باعث کئی واقعات عالمی سطح پر رپورٹ نہیں ہو سکے۔

اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (UNAMA) بھی سابق سرکاری اہلکاروں اور سکیورٹی فورسز کے خلاف ماورائے عدالت قتل، گرفتاریوں اور تشدد کی تصدیق کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق خوف، سنسرشپ اور دھمکیوں کے باعث طالبان کے مبینہ مظالم طویل عرصے تک عالمی توجہ سے اوجھل رہے۔

علاقائی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے باوجود طالبان حکومت کی مبینہ بیرونی حمایت نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جو نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

مقبول خبریں