وینزویلا کی سپریم کورٹ نے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو ملک کا عبوری صدر مقرر کر دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ڈیلسی روڈریگز عبوری حیثیت میں صدر کے تمام اختیارات، فرائض اور ذمہ داریاں سنبھالیں گی تاکہ ریاستی امور میں تسلسل اور قومی دفاع کو یقینی بنایا جا سکے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ مادورو کو تاحال مستقل طور پر عہدے سے معزول قرار نہیں دیا گیا، کیونکہ آئینی طور پر ایسا فیصلہ ہونے کی صورت میں 30 دن کے اندر انتخابات کرانا لازم ہوتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی فوج نے دارالحکومت کراکس میں کارروائی کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے امریکا منتقل کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق مادورو کو نیویارک اسٹیٹ نیشنل گارڈ کی ایک فوجی تنصیب پر لایا گیا، جہاں انہیں ایف بی آئی اہلکاروں کی نگرانی میں دیکھا گیا۔
رپورٹس کے مطابق نکولس مادورو کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے نیویارک شہر منتقل کیے جانے کا امکان ہے، جہاں انہیں منشیات اسمگلنگ سے متعلق مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ عبوری طور پر وینزویلا کے امور امریکی کنٹرول میں رہیں گے، جبکہ وینزویلا کی قیادت نے امریکی اقدام کو جارحیت قرار دیتے ہوئے مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔