یوکرین کے دارالحکومت کیف میں یوکرین کے اہم اتحادی ممالک کے سکیورٹی مشیروں کا اجلاس ہوا، جس میں روس کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کی ثالثی میں تیار کیے گئے امن منصوبے پر بات چیت کی گئی۔ یوکرینی حکام کے مطابق یہ منصوبہ تقریباً 90 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔
اس اجلاس میں برطانیہ، فرانس، جرمنی سمیت 15 ممالک کے نمائندوں کے علاوہ نیٹو اور یورپی یونین کے حکام نے شرکت کی۔
امریکا کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں حصہ لیا۔ یہ نیا سال شروع ہونے کے بعد ہونے والا پہلا اہم سفارتی اجلاس ہے، جبکہ منگل کو فرانس میں یورپی رہنماؤں کا ایک اور اجلاس متوقع ہے۔
یوکرین کے چیف مذاکرات کار رستم عمروف کے مطابق اجلاس کے ابتدائی مرحلے میں سکیورٹی ضمانتوں، امن منصوبے کے فریم ورک اور آئندہ مشترکہ اقدامات پر غور کیا گیا۔ تاہم روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے بعد سرحدوں اور علاقوں کے معاملے پر شدید اختلافات اب بھی موجود ہیں۔
روس اس وقت یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے اور مشرقی دونباس پر مکمل کنٹرول کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ یوکرین کا مؤقف ہے کہ کسی بھی صورت میں علاقہ چھوڑنے سے روس کو مستقبل میں دوبارہ حملے کی حوصلہ افزائی ملے گی۔
ادھر حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان حملے بھی جاری رہے۔ روسی حکام کے مطابق یوکرین کے ڈرون حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے، جبکہ یوکرین نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نشانہ فوجی اہداف تھے۔
دوسری جانب روسی میزائل حملوں میں یوکرین کے مختلف شہروں میں شہری ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے نئے سال کے آغاز پر اعلیٰ حکومتی اور عسکری قیادت میں تبدیلیاں بھی کی ہیں، جسے ماہرین امن عمل سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔