بھارتی ہندو انتہا پسندی نے کرکٹ کو بھی لپیٹ میں لے لیا، بنگلا دیش نے اپنی کرکٹ ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بھارت نہ بھیجنے کا اعلان کر دیا۔
بنگلادیشی مشیر کھیل ڈاکٹر آصف نذرالاسلام کا کہنا تھا کہ بنگلادیش کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ کھیلنے بھارت نہیں جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ بھارت جانے کا اب کوئی جواز نہیں رہا کیونکہ بھارت ہمارے کھلاڑیوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے میں بظاہر ناکام نظر آرہا ہے۔
بنگلا دیش نے بھارت سے اپنے ورلڈ کپ میچز سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
واضح رہے کہ آئی پی ایل سے بنگلادیشی کھلاڑی کو نکالے جانے کے بعد دونوں بورڈز کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوئے۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں بنگلا دیش کے لیگ میچز بھارت سے نکال کر سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کرے، کیونکہ فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کے آئی پی ایل سے ریلیز کیے جانے کے بعد کھلاڑیوں کی حفاظت کے بارے میں خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلا دیش کا پہلا میچ 7 فروری کو ویسٹ انڈیز، دوسرا میچ 9 فروری کو اٹلی، تیسرا میچ 14 فروری کو انگلینڈ اور چوتھا میچ 17 فروری کو نیپال کے خلاف شیڈول ہیں۔ ابتدائی تین میچز کولکتہ جبکہ چوتھا میچ ممبئی میں کھیلا جانا ہے۔
بھارت نے گزشتہ چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان آنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے میچز نیوٹرل وینیو پر کرانے کا معاہدہ ہوا تھا، پاکستان اس طے شدہ معاہدے کے تحت اپنے ورلڈ کپ میچز سری لنکا میں کھیلے گا۔