2025ء سفارتی و دفاعی کامیابیاں

پاکستان نے سفارتی برتری حاصل کی جب کہ بھارت تجارتی دباؤ میں رہا اور صدر ٹرمپ بھارت کی تجارتی پالیسیوں سے مایوس ہیں


ایم جے گوہر January 06, 2026

پاکستان کو علاقائی اور عالمی سطح پر بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر دنیا میں بالعموم اور ایشیا میں بالخصوص ایک اہم مقام حاصل ہے۔ وطن عزیز کی جغرافیائی حیثیت دنیا بھر میں مسلمہ ہے۔ اسی باعث علاقائی و عالمی سیاست میں پاکستان کے کردارکو خاصی اہمیت دی جاتی ہے۔

جغرافیائی اور نظریاتی اعتبار سے پاکستان کے اپنے دیگر ہمسایہ ممالک، اسلامی دنیا اور امریکا سمیت دوسری عالمی قوتوں سے تعلقات میں رونما ہونے والی تبدیلیاں عالمی سیاست کے ماہرین، مفکرین، دانشور، مبصرین اور سیاست دانوں و میڈیا میں زیر بحث رہتی ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ میں پاکستان کے کردار اور عالمی سیاست میں اس کے اثرات پر تبصرے اور تجزیے کیے جاتے ہیں جو اس امر کا عکاس ہے کہ علاقائی و عالمی سیاست میں پاکستان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

پاکستان کے ماضی اور آج کے سفارتی اہلکاروں نے اندرونی و بیرونی سطح پر بدلتے حالات کے تناظر میں اپنے قومی مقاصد کی تکمیل کے لیے مخالف اور منفی رویوں اور پروپیگنڈے کا مثبت و جامع انداز میں حالات کا تاریخی ادراک سے درست تجزیہ کرکے پاکستان کے حقیقی کردار کو اجاگر کیا جس کی تازہ مثال مئی 25 میں پاک بھارت مختصر چار روزہ جنگ کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کے نمایاں ہوتے مثبت کردار سے دی جا سکتی ہے جس کا اعتراف امریکا سے لے کر برطانیہ اور چین سے لے کر فرانس تک تمام عالمی قوتیں کھلے دل سے کر رہی ہیں اور عالمی ذرائع ابلاغ میں شایع ہونے والی رپورٹس، تبصرے اور تجزیے اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان کا علاقائی اور عالمی کردار تسلیم کیا جا رہا ہے جب کہ بھارت کو جنگ کے بعد عالمی سطح پر سفارتی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت کے موقر روزنامے ’’ ہندو‘‘ نے 2025 کو سفارتی سطح پر بھارت کے لیے عالمی دنیا میں سبکی کا سال قرار دیا ہے اور واضح طور پر کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی سے وابستہ توقعات حقیقت کا روپ نہ دھار سکیں۔

امریکا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے 2025 صدی کا مشکل ترین سال ثابت ہوا اور امریکا نے بھارت پر 50 فی صد ٹیرف عائد کر دیا۔ اخبار ’’ہندو‘‘ نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو سنگین سیکیورٹی ناکامی قرار دیا۔ اخبار نے پاکستان کے خلاف بھارت کی عسکری کارروائیوں کو سفارتی سطح پر عالمی حمایت نہ ملنے کا اعتراف کرتے ہوئے بھارت کے آپریشن سندور کے بعد پاکستانی فضائیہ کے ہاتھوں اپنے رافیل طیاروں کی تباہی پر معنی خیز خاموشی کو بھی بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مترادف قرار دیا۔

عالمی ذرائع ابلاغ میں 2025 میں بھارتی ناکامیوں اور پاکستان کی دفاعی و سفارتی محاذ پر کامیابیوں کو نمایاں طور تسلیم کیا گیا ہے، معتبر امریکی جریدے ’’ فارن ایجنسی میگزین‘‘ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی نئی خارجہ پالیسی میں پاکستان ’’ ونر‘‘ جب کہ بھارت واضح طور پر ’’ لوزر‘‘ قرار پایا ہے۔

پاکستان کی ااسمارٹ حکمت عملی نے واشنگٹن میں طاقت کا توازن پاکستان کے حق میں بدل دیا ہے اور پاکستان نے وہ کچھ حاصل کیا ہے جو کئی امریکی اتحادی بھی حاصل نہ کر سکے یعنی اعتماد اور رسائی۔ جریدے کے مطابق پاکستان کی پیش رفت نے خطے میں سفارتی نقشہ دوبارہ کھینچ دیا ہے، جس کا آغاز 2021 میں کابل ایئرپورٹ دہشت گرد حملے کے ماسٹر مائنڈ امریکی مطلوب ملزم کی گرفتاری و حوالگی سے ہوا جس نے امریکی صدر ٹرمپ کے دل میں پاکستان کے لیے نرم گوشہ پیدا کر دیا۔

بھارت کے خلاف چار روزہ جنگ میں شاندار کامیابی کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیرکی صدر ٹرمپ سے ذاتی قربت کے باعث پاک امریکا تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔ جریدے کے مطابق پاکستان کی عسکری قیادت نے کامیاب سفارت کاری سے اسٹرٹیجک برتری دلائی اور پاکستان نے ٹرمپ کے ’’ٹرانزیشنل‘‘ فریم میں نتیجہ خیز سفارت کاری کرکے کرپٹو کرنسی جیسی ڈیلز اور معدنیات میں تعاون کے حوالے سے پاک امریکا تعلقات کو مرکز نگاہ بنایا۔ جریدے کے مطابق پاکستان کی واشنگٹن میں نمایاں پیش رفت نے امریکا بھارت تعلقات کو کمزور کر دیا ہے جو بھارت کے لیے بڑا سفارتی دھچکا ہے، ٹرمپ کے دوسرے دور میں پاکستان آگے اور بھارت دفاعی اور سردمہری کی پوزیشن میں چلا گیا ہے۔ پاکستان نے سفارتی برتری حاصل کی جب کہ بھارت تجارتی دباؤ میں رہا اور صدر ٹرمپ بھارت کی تجارتی پالیسیوں سے مایوس ہیں۔ اسی باعث بھارت پر 50 فی صد ٹیرف بھی عائد کیا۔

عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو اب مودی سرکار کے اہم حلقے بھی چار و ناچار تسلیم کرنے لگے ہیں، جس کا تازہ ثبوت بنگلہ دیش میں سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم خالدہ ضیا کے جنازے کے موقع پر بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا خود آگے بڑھ کر پاکستان کے اسپیکر اسمبلی ایاز صادق سے ملاقات و مصافحہ کرنا اور خوش گوار جملوں کا تبادلہ ہے جسے مثبت طرز عمل قرار دیا جا رہا ہے۔ سفارتی حوالے سے پاکستان نے اسرائیل ایران جنگ کو بڑھنے سے روکنے میں بھی اپنا تعمیری کردار ادا کیا جس کا اعتراف ایرانی قیادت کی طرف سے کیا جاتا رہا ہے۔ سعودی عرب اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی میں بھی پاکستان سفارتی محاذ پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے رابطہ کرکے علاقائی اور جاری تنازع پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ قبل ازیں وزیر اعظم نے اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے بھی ملاقات کر کے دو طرفہ تعلقات و علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

 پاکستان نے 2025 میں سفارتی محاذ پر جو شان دار کامیابیاں حاصل کی ہیں توقع کی جانی چاہیے کہ سال 2026 میں بھی حاصل کردہ سفارتی و دفاعی کامیابیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور اگر بھارت نے دوبارہ جارحیت کی تو اسے پہلے سے زیادہ شدت سے بھرپور جواب دیا جائے گا۔

مقبول خبریں