ایران کے چیف جسٹس نے مظاہرین کو سخت وارننگ دے دی، احتجاج 78 شہروں تک پھیل گیا

عوام کے جائز مطالبات مانے جائیں گے مگر بیرونی سازشوں کو کچل دیا جائے گا، پارلیمنٹ اسپیکر


ویب ڈیسک January 06, 2026

تہران:

ایران میں معاشی بحران کے باعث پھیلنے والے پرتشدد مظاہروں کے درمیان چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجئی نے فسادیوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ پرامن احتجاج کرنے والوں کے جائز مطالبات سنے جائیں گے، مگر تخریب کار عناصر اور ان کے حامیوں کے ساتھ اب کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

عدلیہ کی میزان نیوز ایجنسی کے مطابق چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل اور صوبائی پراسیکیوٹرز کو ہدایات جاری کیں کہ قانون کی سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ دشمن قوتیں ملک میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن اسلامی جمہوریہ عوامی احتجاج اور شرپسندی میں واضح فرق کرتی ہے۔

دریں اثنا، مہنگائی اور ریال کی تاریخی گراوٹ کے خلاف مظاہرے نویں روز بھی جاری ہیں، جو اب 78 شہروں تک پھیل چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق جھڑپوں میں 20 سے زائد مظاہرین ہلاک، 50 سے زیادہ زخمی اور قریب 1000 افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔

طلبہ سڑکوں پر نکل آئے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس اور فائرنگ کا استعمال کیا۔

حکومت نے احتجاج کو کم کرنے کے لیے ہر شہری کو آئندہ چار ماہ تک ماہانہ تقریباً 7 ڈالر کا الاؤنس دینے کا اعلان کیا ہے، جو ضروری اشیاء کی خریداری کے لیے کریڈٹ کی شکل میں ملے گا۔

پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ عوام کے جائز مطالبات مانے جائیں گے مگر بیرونی سازشوں کو کچل دیا جائے گا۔

مقبول خبریں