نجی یونیورسٹی میں طالبعلم کے بعد طالبہ کی خودکشی کی کوشش، تحقیقات کہاں تک پہنچیں؟

چند روز قبل اسی یونیورسٹی میں ڈی فارم کے ایک طالب علم نے بھی چوتھی منزل سے کود کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا


ویب ڈیسک January 06, 2026

لاہور:

نجی یونیورسٹی میں طالبہ کی خودکشی کی کوشش کے معاملے پر پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق  پولیس کا  کہنا ہے کہ طالبہ کے لواحقین کی جانب سے تاحال کسی قسم کی قانونی کارروائی کے لیے درخواست جمع نہیں کروائی گئی۔ طالبہ اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہے۔ اس کی ریڑھ کی ہڈی اور پھیپھڑوں پر گہرے زخم آئے ہیں، جس کی وجہ سے طالبہ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا جا سکا۔

پولیس کے مطابق طالبہ فاطمہ کے تمام ضروری ٹیسٹ دوبارہ کیے گئے ہیں اور اہل خانہ سے بھی مختلف پہلوؤں پر معلومات حاصل کی گئی ہیں۔ واقعے کی مکمل تفصیل جاننے کے لیے یونیورسٹی اور اطراف میں نصب تمام سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج پولیس نے تحویل میں لے لی ہے، جن کی مدد سے حالات و واقعات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہناہ ے کہ اگر تحقیقات میں کسی قسم کی غفلت یا لاپروائی ثابت ہوئی تو یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ کے بیان کے بعد ہی تفتیش کو اگلے مرحلے میں داخل کیا جائے گا، تاہم ابتدائی تحقیقات میں یہ معاملہ گھریلو نوعیت کا معلوم ہوتا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق تمام شواہد اور بیانات کی روشنی میں حتمی نتیجہ اخذ کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز لاہور کی نجی یونیورسٹی میں ڈی فارم کی طالبہ  21 سالہ فاطمہ نے بلڈنگ کی دوسری منزل سے کود کر خودکشی کی کوشش کی تھی۔ طالبہ کو تشویشناک حالت میں پہلے یونیورسٹی کے اسپتال اور بعد ازاں جنرل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ شدید زخمی حالت میں زیر علاج ہے۔

چند روز قبل بھی اسی یونیورسٹی میں ڈی فارم کے ایک طالب علم نے بلڈنگ کی چوتھی منزل سے کود کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔

مقبول خبریں