امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا میں کی گئی کارروائی کے خلاف احتجاج کے دوران ایک خاتون کو لائیو ٹی وی انٹرویو کے فوراً بعد گرفتار کر لیا گیا۔
یہ واقعہ مشی گن کے شہر گرینڈ ریپڈز میں پیش آیا جہاں پولیس نے مظاہرین کے خلاف کارروائی کی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جیسیکا پلیچٹا نامی خاتون مقامی ٹی وی چینل کو انٹرویو دے رہی تھیں اور وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری پر شدید تنقید کر رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں بلکہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے مبینہ جنگی جرائم میں استعمال ہو رہے ہیں۔
انٹرویو ختم ہوتے ہی پولیس اہلکار پیچھے سے آئے اور جیسیکا پلیچٹا کو ہتھکڑیاں لگا کر حراست میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق خاتون پر سڑک بلاک کرنے اور قانونی احکامات نہ ماننے کا الزام تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو کئی بار سڑک چھوڑ کر فٹ پاتھ پر منتقل ہونے کی ہدایات دی گئیں، لیکن انہوں نے انکار کیا۔
بعد ازاں پولیس نے تصدیق کی کہ جیسیکا پلیچٹا کو کچھ وقت بعد رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد انہوں نے نعرہ لگایا ’’ویوا مادورو‘‘ یعنی مادورو زندہ باد۔
یہ احتجاج امریکا کے مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں کا حصہ تھا جہاں ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے۔