بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ اس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کو متاثر کرنے کے لیے ایک امریکی لابنگ فرم کی خدمات حاصل کی ہیں، جو سوشل میڈیا پر موجود مواد کو ’فلیگ‘ کرنے سمیت مختلف سرگرمیوں میں شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق مودی حکومت نے اپریل 2025 سے امریکی لابنگ کمپنی SHW Partners LLC کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں، جس پر سالانہ تقریباً 18 لاکھ ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ ماہانہ ادائیگی ڈیڑھ لاکھ ڈالر بنتی ہے۔
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارتی وزیر اعظم گزشتہ گیارہ برسوں میں نہ تو باقاعدہ پریس کانفرنس کرتے نظر آئے اور نہ ہی کھلے مکالمے کو ترجیح دی۔
ناقدین کے مطابق یک طرفہ ابلاغ اور سفارتی صلاحیتوں کی کمی کے باعث بھارت کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی کی سیاسی شبیہ، جسے بعض حلقے ’برانڈ مودی‘ قرار دیتے ہیں، مکمل طور پر عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے تیار کی گئی ہے۔
ان کے مطابق ہندوتوا کی سیاست کے فروغ اور بین الاقوامی سطح پر مثبت تاثر قائم رکھنے کے لیے بھاری رقوم خرچ کی جا رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ لابنگ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے بھارتی مصنوعات اور خدمات پر ٹیرف عائد کیے گئے اور بھارتی حکومت سے قریبی سمجھے جانے والے افراد کو قانونی نوٹسز جاری کیے گئے۔