ٹرمپ کا 100 ارب ڈالر کا وینزویلا آئل منصوبہ، کیا کامیاب ہوگا؟

وینزویلا کے خام تیل کے انفراسٹرکچر میں برسوں کی کرپشن، چوری اور سرمایہ کی کمی کے سبب شدید نقصان پہنچ چکا ہے


ویب ڈیسک January 06, 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کی بحران زدہ آئل انڈسٹری کو بحال کرنے کے لیے 100 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کا منصوبہ پیش کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ منصوبہ ایک طویل مدتی چیلنج ہو سکتا ہے، کیونکہ وینزویلا کے خام تیل کے انفراسٹرکچر میں برسوں کی کرپشن، چوری اور سرمایہ کی کمی کے سبب شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔

رائس یونیورسٹی کے بیکر انسٹیٹیوٹ برائے پبلک پالیسی کے ڈائریکٹر فرانسسکو مونالڈی کے مطابق وینزویلا کی تیل کی پیداوار کو 1970 کی بلند ترین سطح پر واپس لانے کے لیے آئل کمپنیوں کو اگلے 10 سالوں میں 10 ارب ڈالر سالانہ سرمایہ کاری کرنا ہوگی، جو امریکی آئل کمپنی ایگزان موبل کے موجودہ بجٹ کا ایک تہائی سے زیادہ ہے۔

ماضی میں وینزویلا کی تیل کی پیداوار 1974 میں موجودہ پیداوار کے چار گنا زیادہ تھی، لیکن مادورو کے 12 سالہ دور اقتدار میں تیل کی پیداوار میں کمی آئی۔ حالیہ امریکی فوجی کارروائی میں مادورو اور ان کی اہلیہ کو اقتدار سے ہٹا کر امریکا منتقل کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق وینزویلا میں سیاسی استحکام اور نئے قومی اسمبلی کے قیام کے بغیر امریکی اور دیگر مغربی آئل کمپنیاں سرمایہ کاری کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کریں گی۔

ملک کے بندرگاہی انفراسٹرکچر اور زیر زمین پائپ لائنیں خراب ہیں اور پرانے ریفائنریز سست روی کا شکار ہیں، جبکہ چند کمپنیاں جیسے شیوران خاص لائسنس کے تحت کام کر رہی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ آئل کمپنیاں وینزویلا میں تیل کے ذخائر کے لیے کھدائی اور سرمایہ کاری میں دلچسپی دکھائیں گی، لیکن ضروری ہے کہ سیاسی استحکام اور سیکیورٹی یقینی ہو۔

مقبول خبریں