PARIS:
یوکرین، برطانیہ اور فرانس کے رہنماؤں نے یوکرین کے دفاع، تعمیرِ نو اور خطے میں اسٹریٹجک استحکام کے لیے کثیر القومی فورس کی تعیناتی سے متعلق ایک اعلامیے پر دستخط کر دیے ہیں۔
یہ اعلامیہ پیرس میں منعقد ہونے والے کوالیشن آف دی ولنگ سربراہی اجلاس کے اختتام پر یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے دستخط کیا۔
صدر زیلنسکی نے بتایا کہ یوکرینی وفد نے مستقبل کی سیکیورٹی ضمانتوں پر امریکی نمائندوں سے مزید مذاکرات کے لیے بدھ کے روز پیرس میں قیام بڑھا دیا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ دستاویزات کی تیاری پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم بات چیت میں سب سے بڑا حل طلب معاملہ علاقائی امور سے متعلق ہے۔
یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ اگر کچھ نکات پر ٹیمیں اتفاقِ رائے تک نہ پہنچ سکیں تو انہیں سربراہان مملکت کی سطح پر اٹھایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی ٹیم امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے علیحدہ ملاقاتیں بھی کرے گی۔
زیلنسکی نے اس امید کا اظہار کیا کہ معاہدے پر دستخط مستقبل قریب میں ہو جائیں گے اور اس بات پر زور دیا کہ یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتیں ایسی قانونی ذمہ داریوں پر مبنی ہونی چاہئیں جن کی منظوری امریکی کانگریس دے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں جنگ بندی کے بعد امن معاہدے کی خلاف ورزیوں کی نگرانی پر بھی تفصیلی غور کیا گیا، اور امریکہ اس حوالے سے کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
صدر زیلنسکی نے ٹیلیگرام پر جاری اپنے پیغام میں بتایا کہ فرانس، برطانیہ اور یوکرین کے عسکری حکام نے فورس کی تعیناتی سے متعلق تعداد اور مؤثر کارروائی کے لیے درکار مخصوص ہتھیاروں پر تفصیلی کام کیا ہے۔
اجلاس میں برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں 35 ممالک نے شرکت کی، جو روس کے ساتھ جنگ بندی کی صورت میں یوکرین میں فوجی دستے تعینات کرنے پر آمادگی رکھتے ہیں۔
اس موقع پر امریکی وفد بھی موجود تھا، جس میں خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔
اجلاس میں یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتوں اور ان پر عملدرآمد کے طریقۂ کار پر تفصیلی غور کیا گیا، جو اس سے قبل کیف میں ہونے والے قومی سلامتی کے مشیروں کے تیاری اجلاس کا تسلسل تھا۔