بھارت میں اقلیتوں پر تشدد کے نئے واقعات، بہار اور راجستھان میں ہنگامہ

ایک بزرگ مسلمان شہری کو ہندوتوا نظریے سے وابستہ افراد نے جھوٹے الزامات کے تحت مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا


ویب ڈیسک January 07, 2026

نئی دہلی: بھارت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد کے مزید واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں آر ایس ایس سے منسوب انتہا پسند عناصر پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ریاست بہار اور راجستھان میں پیش آنے والے حالیہ واقعات نے ملک میں اقلیتوں کی سلامتی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

دی ہندوستان گزٹ کے مطابق بہار میں مسلمان مزدور نرشید عالم کو انتہا پسند ہندوؤں نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ الزام ہے کہ تشدد کے دوران ان سے زبردستی مذہبی نعرے لگوائے گئے۔

سماجی کارکن ضیاء الحق نے بتایا کہ نرشید عالم کی حالت تشویشناک ہے اور وہ اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

ادھر برطانوی میڈیا ادارے 5 Pillars کے مطابق بھارتی ریاست راجستھان میں ایک بزرگ مسلمان شہری کو ہندوتوا نظریے سے وابستہ افراد نے جھوٹے الزامات کے تحت مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔

بھارتی صحافی وقار حسن کے مطابق متاثرہ شخص پر گائے کا گوشت کھانے کا الزام لگا کر اسے بنگلہ دیشی قرار دیا گیا اور سڑک پر گھسیٹا گیا۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ واقعات کسی ذاتی جھگڑے کا نتیجہ نہیں بلکہ منظم تشدد کا حصہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کے خلاف پرتشدد واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ انسانی حقوق کے کارکنان ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں